بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / اختتامی لمحات!

اختتامی لمحات!

اِنصاف تک رسائی کبھی بھی آسان نہیں ہوتی بالخصوص جب کسی مقدمے کی سماعت ’مشکوک‘ بنانیکی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہو۔ مشکوک آمدنی کے ذرائع اور بیرون ملک اثاثہ جات کی حقیقت جاننے سے متعلق زیرسماعت ’پانامہ کیس‘ کی ذیل میں تحقیقاتی عمل‘ جولائی کے پہلے ہفتے مکمل کرلیا جائیگا تاکہ ’10 جولائی‘ کے روز عدالت کے سامنے وہ حتمی رپورٹ پیش کی جا سکے جس ملک کے سیاسی حکمران خاندان ہی کی نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کا مستقبل بھی داؤ پر لگ سکتا ہے اور ایسی کسی بھی صورتحال سے فائدہ اُٹھانے کیلئے حزب اختلاف کی جماعتیں تیاری کئے بیٹھی ہیں‘ جنکی قیادت تحریک انصاف کر رہی ہے اور جانتی ہے کہ جب تک قومی اسمبلی کے ’’تین سوچالیس اراکین پر مشتمل ایوان میں صوبہ پنجاب سے 143 نشستوں پر اکثریتی کامیابی حاصل نہیں کر لی جاتی اسوقت تک وفاقی حکومت میں آنے کے امکانات محدود رہیں گے! کیا جے آئی ٹی مزید مہلت مانگے گی اور کیا سپریم کورٹ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں کسی ایسے نتیجے پر پہنچ پائے گی جو پہلے مشکل تھا؟ دونوں صورتوں میں نشانے پر ایک ہی جماعت ہے‘ جس کی حیثیت ذہن نشین رہے کہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (نواز) کو قومی اسمبلی میں پچپن (55.59) فیصد نشستیں حاصل ہیں! ماضی کی طرح آئندہ عام انتخابات کی صورت بھی ’صوبہ پنجاب‘ ہی فیصلہ کن کردار اَدا کرے گا جہاں پیپلز پارٹی کی سیاسی مالا سے دانے گرتے اور بکھرتے جا رہے ہیں ۔

جنہیں تحریک انصاف ایک ایک کر کے چن رہی ہے۔ صوبہ پنجاب میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی منڈیوں میں بے وفائی اوروفاداری کو تولنے کیلئے ایک ہی کانٹا استعمال ہوتا ہے لیکن ابھی تو عام انتخابات کا منظرنامہ بھی واضح نہیں‘ یہ کیا ہوا کہ سب سے بڑی عوامی‘ سیاسی اور نظریاتی جماعت ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی انتخابات سے پہلے ہر سرد و گرم میں ساتھ دینے والے اپنے نظریاتی کارکنان کو ساتھ رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے اور خالی پنجاب ہی کیوں‘ خیبر پختونخوا سے بھی تو پیپلز پارٹی سے الوداعی مہم کا آغاز ہوچکا ہے بلوچستان کی سیاست کے انداز ہی اپنے ہیں‘سندھ کو تو رئیس بڑے نے اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے لیکن اب کی بار صورتحال تبدیل ہو گی سندھ میں پیپلز پارٹی کا صفایا تو نظر نہیں آتا مگر عین ممکن ہے کہ صوبے میں پیپلز پارٹی کے اندر پیپلزپارٹی جنم لے لے۔ آج کا سچ یہ ہے کہ پنجاب زرداری کیساتھ کھڑے ہونے کو کسی بھی صورت میں تیار نہیں اس بار پیپلز پارٹی سرکاری مسلم لیگوں کے بکھرنے کی تاریخ کو دہرا رہی ہے صوبہ پنجاب کی تقریباً پوری قیادت اور کارکنان اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ بلاول بھٹو کو سیاسی آزادی ملنی چاہئے۔ یہ کھیپ جو آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہی ہے‘ ان سب کی بھی پہلی خواہش یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت حقیقی معنوں میں بلاول کے پاس ہونی چاہئے مگر تمام تر مطالبات کے باوجود یہ نہیں ہو سکا۔

ملک کے اندر اور طلب کئے گئے پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں کئی گھنٹے اس پر بحث مباحثہ ہو چکا ہے کہ زرداری صاحب کیوں نہیں اور بلاول کیوں؟ پنجاب کی پارٹی آصف علی زرداری کو بلاول کیساتھ پارلیمنٹ میں اس لئے دیکھنا نہیں چاہتی تھی کہ اس سے بلاول پارلیمانی سیاست میں خود کو آزاد نہیں سمجھیں گے۔ زرداری صاحب نے پارٹی کے اندر اپنی مخالفت دیکھی تو یہ فیصلہ کرلیا کہ اگر میں پارلیمنٹ نہیں جا سکتا تو بلاول کیوں جائے گا۔ یہ ہی نہیں بلکہ بلاول نے لاہور میں یہ اعلان کیا کہ اب ان کا مسکن لاہور ہوگا اور وہ پورے پنجاب کے دورے کر کے پارٹی کی تنظیم سازی کریں گے لیکن پھر ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر وہ لاہور کو اپنا دوسرا گھر نہیں بنا سکے ! پیپلز پارٹی کے پاؤں خیبرپختونخوا میں بھی اکھڑنے لگے ہیں۔ بات صرف ایک سابق ایم این اے نور عالم خان کی نہیں گزشتہ پانچ برس میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے خیبرپختونخوا میں چند ایک دورے کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے صرف کارکنوں ہی میں نہیں بلکہ صوبے کے سینئر عہدیداروں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اگر پیپلزپارٹی آئندہ عام انتخابات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے تو بھٹو خاندان کی قربانیاں‘ مظلومیت اور کردار‘ کے علاوہ کوئی دوسرا کارڈ نہیں‘ جو اِن حالات میں پارٹی کو پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتا ہے۔