بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / پارا چنار بم دھماکے

پارا چنار بم دھماکے

عید سے دو ورز قبل پارا چنار میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 75افراد کی ہلاکت اور ڈیڑھ سو سے زائد کے زخمی ہونے سے کرم ایجنسی میں بالخصوص اور خیبر پختونخوا اور فاٹا میں بالعموم عید کی خوشیاں ماند پڑ گئیں۔پارا چنار جوہمیشہ سے ایک حساس اور نازک مقام واقع ہواہے اس سے پہلے بھی یہاں دہشت گردی کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے یہاں ہر وقت ایک خوف طاری رہنے کے علاوہ کسی بھی وقت دہشت گردی کا کوئی بھی سنگین واقعہ رونما ہونے کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں ۔پچھلے دنوں یہاں پہلا بم دھماکہ اس وقت ہو اجب لوگ طوری مارکیٹ میں بڑی تعداد میں افطاری اور عید کی خریداریوں میں مصروف تھے۔عینی شاہدین کے مطابق پہلا دھماکہ درمیانے درجے کا تھا اورا سکی زد میں نسبتاً کم افراد آئے البتہ جب مقامی لوگ دھماکے کے زخمیوں اور ہلاک شدگان کی لاشوں کو اٹھانے کیلئے جمع ہوئے تو عین اس وقت دوسرا دھماکہ ہو گیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لیکر کئی گھروں اور خاندانوں کو اجاڑ کر کھ دیاان بم دھماکوں کے حوالے سے اب تک جو رپورٹس اور تبصرے سامنے آئے ہیں ان میں ان واقعات کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

اس ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ گو کہ اس طرح کے واقعات کی مکمل روک تھام ممکن نہیں ہے لیکن اگر سکیورٹی کی صورتحال اور خاص کر انٹیلی جنس کے نظا م کو موثر بنایا جائے اورا س سلسلے میں مقامی قبائل اور بالخصوص متعلقہ بازاروں کی ایسوسی ایشنز اور کمیٹیوں کو فعال کیا جائے نیز آرمی اور ایف سی کیساتھ ساتھ لیوی فورس کو جدید خطوط پر منظم کیا جائے تو اس طرح نہ صرف دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہو سکتی ہے بلکہ اس سے تخریب کاری کے واقعات میں ہونے والے نقصانات کو بھی کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ان دھماکوں کے تناظر میں یہ بات بھی شدت سے نوٹ کی گئی ہے کہ یہاں کا مقامی ہسپتال بنیادی نوعیت کے وسائل اور اعلیٰ تربیت یافتہ طبی عملے سے محروم ہے جسکی جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پارا چنار پشاور شاہراہ کی مخدوش حالت کی وجہ سے بھی مقامی قبائل بالخصوص شدید زخمیوں،بیماروں،خواتین اور بچوں کو شدید ذہنی کوفت اور پریشانی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔پارا چنار کی دوری ،راستے میں بعض مقامات پر فرقہ وارانہ کشیدگی اور بالخصوص سڑک کی مخدوش صورتحال کے باعث جب انجینئر شوکت اللہ خیبر پختونخوا کے گورنر تھے تو پشاور اور پارا چنار کے درمیان فضائی سروس شروع کرنے کا فیصلہ ہواتھا لیکن اس فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا حالانکہ اس سروس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے اورپارا چنار میں موجودہ انفراسٹرکچر کو اگر تھوڑا سا مزید بہتر بنایا جائے تو اس سے لاکھوں آبادی کے حامل اس دور دراز علاقوں کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

پارا چنار کے حالیہ دھماکوں اور ان میں ہونے والے جانی نقصانات کے حوالے سے یہ بات بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ حسب روایت اس دھماکے اور نقصان کو قومی ذرائع ابلاغ اور خاص کر ہمارے حکمرانوں کے ہاں وہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی جو کہ اسے اس واقعے میں ہونیوالے جانی نقصان کے باعث ملنی چاہئے تھی۔اس ضمن میں جہاں ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے اسی نوع یا اس سے کم تر نقصان کے حامل واقعات کی مثالیں دی جا رہی ہیں وہاں ان واقعات پر ذرائع ابلاغ میں ہونے والی بحث اور کوریج کیساتھ ساتھ متعلقہ حکومتی اہلکاروں کے رسپانس اور ان کی دلچسپی پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں بعض لوگ سوشل میڈیا پر بہاولپور اور پارا چنار کے واقعات کا موازنہ کرتے ہوئے ان دونوں واقعات پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے رد عمل اور سرکاری امداد میں پائے جانے والے تفاوت کو بھی ہدف تنقید بنارہے ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ کوئی بھی مالی امداد کسی بھی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ان امدادوں سے مرنے والوں کی کمی کوپورا کیا جا سکتا ہے البتہ ان سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور خاص کر ان کے یتیم ہونے والے بچوں اور اہل وعیال کو ایک وقتی ریلیف اور سہارا ضرورمل جاتا ہے لہٰذا انسانیت‘ اسلامیت ‘پاکستانیت اور انصاف کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی تخریب کاری اور قدرتی حادثات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو تفریق سے بالا تر ہوکر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکساں فارمولے کے تحت مالی امداد کا کوئی میکنزم بنانا چاہئے جس سے اگر ایک طرف متاثرہ خاندانوں کی حقیقی معنوں میں دلجوئی میں مدد ملے گی تو دوسری جانب اس طرح کے مبنی بر انصاف فیصلے سے تمام صوبوں اوراکائیوں کے درمیان قومی ہم آہنگی اور اتحاد ویگانگت کو بھی فروغ ملے گا۔