بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیسی عید کس کی عید!

کیسی عید کس کی عید!


ابھی عید کی تیاریاں ہی ہو رہی تھیں کہ حادثات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیاضرب عضب اور ردالفساد نے دہشت گردی کو بہت حد تک کم تو کیا مگر دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے کہ جس کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ایک بندہ کہیں سے اٹھ کر آ جاتا ہے جس کی شکل بھی ہم جیسی ہی ہے اس کا لباس بھی ہم جیسا ہی ہے اس کی زبان بھی ہماری اپنی ہی زبان ہے اور اس کی چال ڈ ھال سے بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ کوئی دشمن ہے تو ایسے میں کون اس کے وار سے بچ سکتا ہے۔ایسا ہی ہوا کوئٹہ میں اور ایسا ہی ہوا پارا چنار میں۔ ان واقعات کی مذمت ہی کی جا سکتی ہے ان کا انسداد نہیں ہو سکتا۔افغانستان سے ہماری سرحدیں کھلی ہیں کوئی بھی کہیں سے بھی اندر آ سکتا ہے۔ وہ کسی تنظیم کا بھی ہوسکتا ہے وہ را کا بھی ہوسکتا ہے وہ افغان ایجنسی کا بھی ہو سکتا ہے اس کو پاکستان میں دوست بھی مل سکتے ہیں اس لئے کہ ہم نے اب بھی لاکھوں افغانوں کو اپنے سر پر بٹھایا ہوا ہے۔ ہم ان کے لاکھ نخرے اٹھائیں ‘لاکھ ان کو پناہ میں رکھیں مگر وہ بنیادی طورپر افغان ہیں اور افغانوں کا رویہ جو پاکستانیوں سے ہے یا ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہے وہ ایک ہجرت موومنٹ میں کھلے عام معلوم ہو گیا تھا۔افغان ہمارے بھائی ہیں ہم ان کے ہر دکھ درد میں شریک ہوتے آئے ہیں یاہوتے ہیں مگر وہ اول تا آخر افغان ہیں وہی افغان جنہوں نے ہمارے پاکستان کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا تھااور افغانستان وہ ملک ہے جس نے ہمیں اپنی چاہت سے نہیں بلکہ کسی مجبوری کے تحت تسلیم کیا تھا اور پاکستان کی یو این او میں شمولیت کی بھی مخالفت کی تھی مگر اس کے بعد ریڈیو کابل پاکستان دشمنی میں جب سے اب تک پیش پیش رہا اور اب بھی ہے۔

اگر آپ کو کابل ریڈیو سننے کا اتفاق ہوا ہو توآپ اس کی تائید کریں گے کہ اُن کے نز دیک ہم اُن کے دشمن نمبر ون ہیں آج تک اس نے ہمارے بھگوڑوں کو چاہے وہ بلوچستان سے ہوں یا کے پی کے سے ، نہ صر ف پناہ دے رکھی ہے بلکہ ان کیلئے ریڈیو کابل کے دروازے بھی کھول رکھے ہیں تا کہ وہ پاکستان کیخلاف منفی پروپیگنڈا کر سکیں اس نے پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشتگردوں کو نہ صرف پناہ دے رکھی ہے بلکہ وہاں سے پاکستان میں تخریب کاری کے لئے معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے اور تخریب کار ہمارے ہی بھائی ہیں۔ اسلئے ان سے نبٹنا ہمارے لئے ناممکن ہے ادھر ہم ہیں کہ سوائے ایک صوبے کو نشانہ بنانے کے ہمارے پاس کچھ کہنے کو ہے ہی نہیں کوئی نہیں کہتا کہ ہم ایک ملک کے باسی ہیں ہر کوئی سندھی ‘ پنجابی‘ پختون اور بلوچی کی با ت کرتا ہے ایسے میں اس ٹولے کو شکست دینا ممکن ہی نہیں ہے۔

فوج کو سرحدوں پر لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے اور پولیس کو اندر کی حفاظت پر مامور کیا جاتا ہے یہاں تک تو بات ہوئی ہمارے اس دشمن کی جو ہمیں عید سے پہلے دہشت گردی کے تحفے دیکر گیا ہے ایک اور دشمن ہمارے اندر بیٹھا ہے جو کسی حادثے کی صورت میں ہماری آنکھوں پر لالچ کی پٹی باندھ دیتا ہے۔ کوئی بھی بس یا ریل کا حادثہ ہو تو دیکھا گیا ہے کہ مدد کیلئے آ نے والے سب سے پہلے زخمیوں اور مرنے والوں کے جیب ٹٹولتے ہیں انکی گھڑیاں اتارتے ہیں اور اسکے بعد اگرجی چاہے تو انکی مدد کرتے ہیں اور ان کو کسی ہسپتال تک پہنچاتے ہیں بہاولپور کے حادثے میں یہی ہوا کہ لوگوں نے تیل لوٹنے کی کوشش کی پورا گاؤں لوٹ مار کے لئے پہنچ آیا کسی ایک کی چنگاری نے سارا منظر ہی بدل دیااس پر شاہ محمود صاحب کو سیاست کرنے کو موقع مل گیااورانہوں نے موجودہ حکومت کو رگید ڈالا بغیر یہ سوچے کہ وہ بھی تو سالوں حکومت کا حصہ رہے ہیں تو انہوں نے جنوبی پنجاب سے بغیر ووٹ لینے کے کیا کیا ہے بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے۔