بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان کا کلیئر موقف

پاکستان کا کلیئر موقف

پاکستان نے امریکہ اور بھارت کے درمیان اعلیٰ ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اسلحہ اور دیگر آلات کی فراہمی سے جنوبی ایشیاء میں فوجی توازن کو نقصان پہنچے گا دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں بھارتی جارحانہ عزائم کو مزید تقویت ملے گی دفتر خارجہ یہ بھی واضح کررہا ہے کہ اپنے حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینا نا قابل قبول ہے ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم نے پاکستان سے 2008ء کے ممبئی حملوں اور 2016ء کے پٹھان کوٹ پر حملہ کرنے والوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں سے گریز پرسے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتا ہی رہتا ہے۔

جس پرپاکستان یہی کہتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قرارددوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا‘ بھارت بے بنیاد الزام تراشی کے ساتھ کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے پاکستان میں تعینات بھارت کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر کو گزشتہ روز بھی دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی مراسلہ دیا گیا ‘ بھارت سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے ‘ عالمی منظر نامے کا تقاضا تو یہ ہے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری پاکستان کے کردار اور موقف کو تسلیم کرے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ بھی درخواست گزاروں سے مساوی رویہ اپنائے امریکہ سمیت عالمی برادری نے اگر پاکستان کے اصولی موقف کو نظر انداز کیا تو خود ان کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت ہوگا۔

ایف بی آر کا ہوم ورک

چیئرمین فیڈرل بورڈآ ف ریونیو ڈاکٹر محمد ارشاد کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے تربیتی اداروں میں چینی زبان سیکھنا لازمی قرار دیا گیاہے اور ایسا سی پیک کی تیاریوں کا حصہ ہے چارسدہ میں تقریب سے خطاب میں چیئرمین ایف بی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیکس گزار ہمارا اثاثہ ہیں اور ان کے ساتھ ملکر ملک کے معاشی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائیگا دریں اثناء پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلکٹر کسٹمز قربان علی خان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے پر سمگلنگ میں بڑی حد تک کمی کی امید کی جا سکتی ہے جس سے ملکی معیشت ترقی کریگی ملکی معیشت اور عوامی ریلیف اسی صورت ممکن ہو سکتی ہے جب ریونیو کے ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں بدقسمتی سے ماضی میں محاصل کی وصولی میں ناکامی کا بوجھ نئے ٹیکسوں کی صورت عوام پر ڈالا جاتا رہا ہے جبکہ ملکی صنعت بھی سمگلنگ کے ہاتھوں بری طرح متاثر رہی ہے اب بھی اگر بعدازخرابی بسیار سہی ایف بی آر اور اس سے ملحقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کررہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ تجارتی خسارہ کم نہ ہو اور معیشت استحکام نہ پا سکے۔