بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / چین اور بھارت میں سرحدی کشیدگی میں اضافہ

چین اور بھارت میں سرحدی کشیدگی میں اضافہ


نئی دہلی ۔ بھارت نے چین کی جانب سے سرحد پر نئی سٹرک کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی کے لیے ‘سنگین خطرہ’ ہے۔جمعہ کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے جوان میں بغیر مطلع کیے اپنے طور پر سڑک کی تعمیر کے لیے اس علاقے میں داخل ہوئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘انڈیا چین کے حالیہ اقدامات پر شدید تشویش رکھتا ہے اور چینی حکام کو مطلع کر چکا ہے کہ ایسی کسی تعمیر سے حالات کو جوں کا توں رکھنے کا عمل متاثر ہو گا اور اس سٹرک کی تعمیر سے ملکی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں امن کا خیر مقدم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔یہ سڑک ایک ایسے مقام پر تعمیر کی جا رہی ہے جہاں چین، انڈیا اور بھوٹان کی سرحدیں ملتی ہیں۔

چین نے رواں ہفتے انڈیا پر الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ سڑک کی تعمیر میں خلل ڈالنے کے لیے انڈین سرحدی محافظوں نے سکم سے تبت میں اس کے زیرِ انتظام علاقے میں دراندازی کی ہے۔چین رواں ہفتے کے دوران متعدد بار کہہ چکا ہے کہ انڈیا سرحد سے اپنی فوج ہٹائے کیونکہ وہ اس کے علاقے میں دراندازی کر رہی ہے۔چین کا موقف ہے کہ اسے برطانیہ کے ساتھ سکم اور تبت سے متعلق سنہ 1890 میں کیے جانے والے ایک معاہدے کے مطابق علاقے میں سٹرک تعمیر کرنے کا پورا حق ہے۔

جمعرات کو بھوٹان نے بھی چین سے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا اس سٹرک کی تعمیر دو طرفہ معاہدے کی خلاف وزری ہے۔تاہم جمعے کو چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان لو کینگ نے ایک بیان میں کہا ہے ‘چین کے بھوٹان سے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں لیکن یہ ہمارا عزم ہے کہ ہم ثابت قدمی سے اپنی علاقائی سالمیت اور حاکمیت کو برقرار رکھیں۔

خیال رہے کہ چین نے حال ہی میں چین نے انڈیا کے سرحدی محافظوں کی جانب سے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا سے آنے والے 300 ہندو اور بودھ یاتریوں کو اپنے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔چین اور انڈیا کا سرحدی علاقہ نتھو درہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ہندو اور بدھ مت یاتری تبت میں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔انڈیا اور چین کے مابین 1967 میں اسی علاقے میں جھڑپیں ہو چکی ہیں اور اس کے علاوہ بھی وقتا فوقتا کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔