بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / شریف خاندان متضاد بیانات پر سوالنامہ تیار

شریف خاندان متضاد بیانات پر سوالنامہ تیار

اسلام آباد۔پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم رواں ہفتے وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں اور صاحبزادی کو حتمی طور پر بلا کر اپنی رپورٹ مکمل کرنے جا رہی ہے جبکہ منی لانڈرنگ معاملے کے اہم گواہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو سب سے آخر میں طلب کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے دوسری طرف نیب کے سابق چیرمین جنرل (ر) امجد نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے اورانکشاف کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم اس وقت کے صدر جنرل ر پرویز مشرف نے دیا تھا کیونکہ یہ جلاوطنی معاہدے کا حصہ تھا مگر یہ کیس کسی بھی وقت کھولا جا سکتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے افراد کے بیانات کے تضادات پر سوالنامہ تیار کر لیا ہے۔

اب وزیر اعظم کے صاحبزادوں ،صاحبزادی اور طارق شفیع سے حتمی بیانات لیے جائیں گے جے آئی ٹی ارکان شریف خاندان کے افراد سے متضاد بیانات سے متعلق سوالات پوچھے گی جے آئی ٹی میں دیے گئے بیانات شریف خاندان کے افراد کے سامنے رکھے جائیں گے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شریف خاندان منی ٹریل سے متعلق ٹھوس شواہد دینے میں تاحال ناکام ہے اور جے آئی ٹی حدیبیہ پیپر مل پر اسحاق ڈار کے ایک سو چونسٹھ کے بیان کو بنیاد بنا رہی ہے جے آئی ٹی شریف خاندان کے افراد سے حتمی بیانات لینے کے بعد رپورٹ مرتب کرئے گی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کادس جولائی تک رپورٹ مرتب کرنے کا امکان ہے کیونکہ اسے سپریم کورٹ کی جانب سے یہی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی ہے دوسری طرف حدیبیہ پیپر مل کے معاملہ پر نیب کے سابق چیرمین جنرل (ر) امجد نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق جب وہ چند دن قبل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو ان سے جے آئی ٹی نے سوال کیا تھا کہ حدیبیہ پیپر مل کی انکوائری بند کرنے کے احکامات کس نے دیئے جس پر جنرل ر امجد کا جواب تھا کہ انکوائری بند کرناشریف خاندان اور پرویز مشرف کے درمیان جلا وطنی معاہدہ میں شامل تھا جنرل (ر) پرویز مشرف نے حدیبیہ پیپر مل کی انکوائری بند کرنے کا حکم دیا دوسری طرف ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سابق چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ اس وقت اسحاق ڈار نے دو ہزار میں حدیبیہ پیپر مل کے معاملے پر مرضی سے بیان حلفی دیا تھا اور اسحاق ڈار نے پرویز مشرف کے قریبی ساتھی کی مدد سے بیان دینے کی خواہش کی تھی اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم چھ یا سات جولائی کو اسحاق ڈار کو طلب کرئے گی اور اسحاق ڈار سے صرف بیان حلفی کی تصدیق یا تردید کا سوال پوچھ جائے گا