بریکنگ نیوز
Home / کالم / استاد پھل آگروی کی دوپہر کی یاد میں

استاد پھل آگروی کی دوپہر کی یاد میں

اردو ادب کی خدمت کرنے والے…خون جگر سے آبیاری کرنے والے.. معاف کیجئے گا آبیاری تو شاید صرف آب یعنی پانی سے ہوتی ہے خون جگر سے تو نہیں ہوتی‘ بہرحال اردو اور اسکے ادب کیلئے زندگی وقف کرنے والے کچھ کردار ایسے ہیں جو فراموش ہوتے جاتے ہیں‘ یہ میرا فرض منصبی ہے کہ میں ایسے نایاب لوگوں جھاڑ پونچھ کر پھر سے نئی نسل کے سامنے پیش کروں تاکہ یہ نسل عبرت حاصل کرسکے کہ ہمارے بزرگوں میں کیسے کیسے محیرالعقول بلکہ ناقابل یقین نوعیت کے لوگ پائے جاتے تھے… اردو اور اسکے ادب کیلئے ان کی خدمات سے چشم پوشی کرنا گویا اپنی درخشاں روایات سے مجرمانہ غفلت اختیار کرنا ہے…ان میں سے ایک بزرگ مجھے ہمیشہ تربوزوں کے موسم میں بے پناہ یاد آتے ہیں بلکہ انہی دنوں خربوزے بھی ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جب رنگ پکڑ رہے ہوتے ہیں توانکی یاد مجھے آبدیدہ کردیتی ہے‘ کیا کمال کے بزرگ تھے‘ تربوز اور خربوزوں کے موسموں میں ہی وہ اکثر یادآتے ہیں… یہ بزرگ استاد پھل آگروی تھے‘ پرانے پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے جتنے بھی نکمے ادیب تھے اورظاہر ہے ان میں یہ حقیر بھی شامل تھا‘ پھل آگروی کی شخصیت اور فن کے معترف تھے… استاد جب ٹی ہاؤس میں داخل ہوتے تو ہر جانب ہاہا کار مچ جاتی کہ… پھل آگئے… پھل آگئے… ہر موسم کے پھل آگئے… استاد مرحوم نہایت متانت سے آداب عرض کرتے ہوئے اسرار زیدی کی ٹیبل پر جا بیٹھتے… نووارد ادیب سمجھتے کہ شاید یہاں چائے کے ساتھ موسمی پھل بھی پیش کئے جاتے ہیں… پھل آگروی ظاہر ہے آگرہ کے رہنے والے تھے اگر لاہور کے ہوتے تو ظاہرہے لاہوری پھل ہوتے پر لاہور کے نصیب میں ایسے پھل کہاں… مجھے یاد نہیں کہ حضرت پھل نے کب اور کن موسموں میں پہلی مرتبہ ٹی ہاؤس میں قدم رنجہ فرمایا لیکن وہ ہمیشہ اسرار زیدی کے برابر میں بیٹھے پائے جاتے…اور جونہی وہ زیدی صاحب کے پاس بیٹھتے زیدی صاحب مٹھی میں بھنچے سگریٹ کی روح قبض کرکے کش لگاکر‘ نتھنوں سے دھویں کی دوآبشاریں برآمد کرکے کہتے’’ لکھ دیا ہے‘..

. لکھ دیا ہے‘‘ زیدی صاحب کا تکیہ کلام تھا‘ اخبار جہاں‘ میں لاہور کی ادبی ڈائری نہایت ادبی انداز میں مسلسل لکھتے تھے اور اس میں جس کسی خوش نصیب کا تذکرہ کرتے اسے دیکھتے ہی کہتے’’ لکھ دیا ہے‘‘… وہ اپنے کالم میں اکثر پھل صاحب کا تذکرہ کرتے… دراصل پھل آگروی شروع دن سے پھل وغیرہ نہ تھے‘ مناسب شعر کہتے تھے اور ان کا تخلص کچھ اور تھا… شاید زخمی آگروی یا نامراد آگروی وغیرہ تھا… کہا جاتا ہے کہ یہ اسرار زیدی تھے جنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ بھائی میاں تمہارا تخلص کچھ بے جان سا ہے‘ یوں دال نہیں گلے گی‘ کوئی ٹھرکتا ہوا اچھوتا تخلص اختیار کرو تاکہ لوگ متوجہ ہو جائیںآگروی صاحب نے زیدی صاحب سے درخواست کی کہ آپ نے پوری زندگی ٹی ہاؤس کی اسی نشست پر گزار دی ہے‘ آپ شاعر گر اور ادیب گر ہیں آپ ہی کوئی تخلص تجویز کر دیں تو زیدی صاحب نے انگلیوں میں جکڑے ہوئے ایک اور سگریٹ کا دم نکالا‘ نتھنوں میں سے دھواں نکالا اور کہا… لاہوری لوگ کھانے پینے اور پھل فروٹ کے بے حد شوقین ہیں تو پھل مناسب تخلص رہے گا… چنانچہ وہ یوں پھل آگروی ہوگئے… آپ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیے گا کہ وہ بہت بھولے بھالے معصوم سے شخص تھے‘ گانٹھ کے پکے تھے‘ انہوں نے سوچا کہ اگر اپنی شاعری کی شہرت یوں ہو سکتی ہے تو یہی سہی‘ اگر لاہوریئے یونہی بیوقوف بن سکتے ہیں تو یونہی سہی… بقول نور جہاں کے… نام بدنام ہے یوں بھی تو یوں بھی سہی… پھل آگروی دنوں میں پاک ٹی ہاؤس کی آنکھوں کا تارا ہوگئے… ان کی آمد پر اہل دانش تو متانت سے کہتے کہ پھل آگئے جبکہ کچھ ناہنجار ادیب(بیشتر ادیب ناہنجار ہوتے ہیں یعنی راستے سے بھٹکے ہوئے) نعرے لگاتے … اوہ آئے… اوہ آئے… پھل فروٹ سنگترے مالٹے اور آم آئے…

لیکن حضرت پھل کا ظرف اتنا وسیع تھا کہ کبھی برا نہ مانتے‘ مسکرا مسکرا کر انہیں ہاتھ ملاتے زیدی صاحب کے پہلو میں جا بیٹھتے… فیصلہ ہوا کہ پھل آگروی کے اعزاز میں ایک شاندار محفل ترتیب دی جائے… چونکہ عام طور پر کسی بھی اہم ادیب اورشاعر کے ساتھ شام منانے کا رواج تھا تو پھل آگروی کے شعری مرتبے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انکے ساتھ شام کے بجائے ایک دوپہرمنائی جائے… یعنی انکی پذیرائی ایک مختلف انداز میں کی جائے اور پھل آگروی اس عزت افزائی پر بے حد پرمسرت ہوئے اور اپنے ساتھ ایک دوپہر منانے کیلئے بخوشی رضامند ہوگئے… اسے میری بدقسمتی کہہ لیجئے کہ میں بوجوہ اس دوپہر میں شامل نہ ہو سکا کہ اس روز لاہور کا درجہ حرارت ابل رہا تھا… بقول کسے چیل انڈہ چھوڑ رہی تھی اور سڑکوں کا تارکول پگھل رہا تھا… شاید یہ اسرار زیدی کے گھر کا کوٹھا تھا جہاں اس دوپہر کا اہتمام ہوا اور اس اہتمام کیساتھ کہ حضرت پھل کو دھوپ میں بٹھایا گیا اور شاعری کے شائقین چھاؤں میں کرسیاں ڈال کر ان پر فروکش ہوگئے…حضرت پھل کی پذیرائی کیلئے ان کے گلے میں ایک ہار ڈالا گیا جس میں دو عدد خربوزوں کے علاوہ ایک میڈیم سائز کا تربوز بھی پرویا ہوا تھا… عینی شاہدوں کاکہنا ہے کہ حضرت پھل اس غیر متوقع پذیرائی سے بے حد متاثر ہوئے اور آبدیدہ ہوگئے… البتہ ایک مسئلہ ہوا کہ جب انکے گلے میں ہار ڈالا گیا تو وہ خربوزوں اور تربوز کے بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے بیٹھ گئے… بڑی مشکل سے انکی بغلوں میں ہاتھ دے کر انہیں کھڑا کیا جاتا اور جونہی انہیں چھوڑا جاتا وہ پھر سے بیٹھ جاتے… قصہ مختصر انہیں بمشکل کرسی پر بٹھایاگیااور پھر مقررین نے انکی شاعری کی توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے… مقررین البتہ چھاؤں میں کھڑے ہو کر انکی ذات اقدس کی خوبیاں گنواتے رہے… جونہی دوپہر ڈھلی اور استاد پھل کی کرسی بھی چھاؤں میں آگئی تو محفل کے اختتام کااعلان کردیا گیا‘ ازاں بعد حاضرین کی تواضع انہی پھلوں سے کی گئی جو استاد کے گلے کا ہار ہوئے تھے… یہ ریکارڈ بے شک گنیز بک آف ریکارڈز میں شامل ہونے کے لائق ہے کہ آج تک کسی بھی بڑے سے بڑے شام کے ساتھ شام تو منائی گئی پر دوپہر کبھی نہ منائی گئی…اس کا شرف صرف استاد پھل آگروی کو حاصل ہوا…

انہی دنوں ہندوستان سے مشہور شاعرزبیر رضوی لاہور آئے تو ہم نے انہیں حلقہ ارباب ذوق میں کلام پڑھنے کیلئے مدعو کیا… زبیر نے ایک نہایت عمدہ نظم پیش کی لیکن اسکے درمیان میں کہیں ایک مصرعہ آیا کہ… میرے لئے موسم کے پھل لے کے آنا… اس پر حاضرین میں سے کسی نے نعرہ لگایا… پھل آگروی لے کے آنا… مجھے یاد ہے اس محفل میں روحی بانو بھی موجود تھی اور وہ باربار ہنستے ہوئے زبیر سے کہتی تھی… آپ انڈیا سے ہمارے لئے کونسے پھل لے کے آئے ہیں… آپ شاعری میں پھل فروٹ استعمال کرتے ہیں… زبیر بے حد خفا ہوئے… روحی ان دنوں بھی کچھ پاگل سی تھی… اب باقاعدہ پاگل ہو کر فاؤنٹین ہاؤس میں زندگی کے دن بسر کر رہی ہے… استاد پھل آگروی کی وفات کے کچھ عرصہ بعد مجھے انکے بیٹے صلاح الدین ایوبی کی جانب سے ایک نہایت محبت بھرا خط موصول ہوا… آپ والد محترم کے عزیز دوستوں میں سے تھے وہ اکثر آپ کا تذکرہ کرتے تھے… فلاں تاریخ کو انکی برسی ہے اور ہم ان کا عرس کر رہے ہیں‘ آپ ہمیں مہمان خصوصی کا اعزاز بخشیں… خط کے ساتھ ایک جہازی سائز کا رنگین پوسٹر تھا جس پر سید استادپھل آگروی کی تصویر تھی اور انکی کرامات کے حوالے درج تھے… ہمیں خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ تو ایک اللہ والے صوفی بزرگ تھے… پوسٹر پر مہمان خصوصی کے طور پر میرا نام جلی حروف میں روشن تھا… مجھ سے کوتاہی ہوگئی اور میں حضرت کے عرس میں شریک نہ ہوسکا… ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے بہت سے کردار بھول گئے پر پھل آگروی نہیں بھولے… اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں وہی پھل نصیب کرے جو ایک دوپہر انکے گلے کا ہار ہوئے تھے۔