بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / غلامی: تلخ و تاریک حقائق!

غلامی: تلخ و تاریک حقائق!

محکوم اقوام کی کہانیاں اور قصے حکمرانوں کی خواہشات کے اردگرد گھومتے ہیں‘ جن کیلئے قومی مفادات کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ تاریخ عالم کا نچوڑ یہی ہے کہ جہاں قیادت اس قسم کا درپردہ طرزفکروعمل پایا جائے تو ایسے کسی ملک کو غلام بنا لینا قطعی مشکل نہیں رہتا کیونکہ آزادی اور عزت نفس کا سودا حسب سوچ جتنا بھی بڑھا چڑھا کر اور جس قدر بڑی قیمت کے عوض کیا جائے یہ سودا سراسر گھاٹے ہی کا رہتا ہے۔ نفس پرست حکمرانوں کی وجہ سے آج کی دنیا ترقی یافتہ‘ مہذب‘ تعلیم یافتہ کے مقابلے ترقی پذیر‘ حواس باختہ اور جہل و غربت زدہ درجات میں تقسیم دکھائی دیتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ کی طاقت اور دنیا کے سیاسی معاملات پر گرفت کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے سفارتی و جاسوس نیٹ ورکس کے ذریعے ایک ایسا تسلط قائم و دائم رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے‘ جس میں وائٹ ہاؤس کی حکمرانی کا سورج غروب نہیں ہورہا!پاکستان میں تعینات امریکہ کے جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے کتاب لکھی ہے‘ جسکی رونمائی امریکہ میں ’ستائیس جون‘ کے روز کی گئی اور تیس جون سے یہ کتاب پاکستان میں بھی دستیاب ہے‘ جس پر اگرچہ اب تک حکومت نے پابندی عائد نہیں کی لیکن امید ہے جلد ہی اس کی فروخت ممنوع قرار دے دی جائیگی ۔ یادش بخیر‘ سال دوہزار گیارہ جب امریکی جاسوس نے لاہور کی ایک مصروف شاہراہ پر دو افراد کو دن دیہاڑے قتل کیا اور بھاگنے کی کوشش میں ٹریفک پولیس کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی جو آجکل تحریک انصاف کا حصہ ہی۔

‘ بظاہر اِس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی صورت اس ’قاتل‘ کو معاف نہیں کریں گے لیکن درپردہ رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے مجرم کی رہائی ممکن بنانے میں اس وقت کی حکومت کے ہر فیصلہ ساز نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق سہولت کاری کا کردار ادا کیا اور کمال مہارت سے کوئی بھی ایسا عملی اقدام نہیں کیا جس سے امریکہ بہادر ناراض ہوتا یا اس کے جاسوس کو زحمت ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 23کروڑ روپے (قریب بیس لاکھ ڈالر) کے عوض خون معاف کردیا گیا کیونکہ اس کی اسلام میں گنجائش موجود تھی۔ یوں ڈیڑھ مہینے تک جاری رہنے والے اس کشیدہ معاملے کا اِختتام سولہ مارچ دوہزار گیارہ کے روز اس وقت ہوا‘ جب ہلاک شدگان کے اہل خانہ بھاری رقم بمعہ ویزے وصول کرنے کے بعد قاتل جاسوس کو معاف کر دیا اور اسے پاکستان چھوڑنے کی اجازت مل گئی اگر حکومت کی مرضی اور عمل دخل شامل حال نہ ہوتا تو کسی غیرملکی کیلئے مقدمے کی اس قدر تیزرفتاری اور کامیابی سے پیروی ممکن ہی نہ ہوتی لیکن سب ایسے معصوم اور حیرت زدہ (اداکار) بن گئے‘ جیسے اُنہیں کچھ خبر ہی نہ ہو۔ریمنڈ ڈیوس نے آپ بیتی تحریر کرنے میں سٹامس ری بیک کی ادبی و تخلیقی مدد لی ہے جو اس کتاب کے علاوہ چار دیگر کتابوں کے بھی مصنف ہیں اور انہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی یاداشتوں کو نہایت خوبصورتی اور سلیس پیرائے میں تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب ایمازون کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور پاکستان میں ایسے کئی ڈاک کے ترسیلی نجی ادارے ہیں جو ’اِیمازون‘ سے خریداری کو ممکن بناتے ہیں۔

نئی کتاب کی قیمت اَٹھارہ سو روپے‘ جبکہ پڑھی ہوئی (used) کتاب چودہ سے پندرہ سو روپے ہے لیکن طلب کے باعث اسلام آباد کی مارکیٹ میں تین ہزار پانچ سو روپے تک دستیاب ہے تصدیق ہو گئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس امریکہ کے خفیہ اِدارے (سی آئی اے) کا باقاعدہ ملازم نہیں تھا بلکہ اسکی خدمات ایک خاص معاہدے کے تحت حاصل کی گئی تھیں۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسی بے مثل مثال ملنا مشکل ہے کہ قتل کا رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کوئی ملزم اور وہ بھی غیرملکی محض اڑتالیس دن قید اور سیشن کورٹ میں مقدمے کی باسہولت سماعت کے بعد باعزت رہا کرکے روانہ کر دیا گیا ہو۔ ریاست نے اپنے دو باشندوں کے قتل میں فریق کیوں نہیں بنی؟کتاب کے سرورق پر جماعت اسلامی کے ایک احتجاجی مظاہرے کی تصویر ’اضافی کشش‘ کیلئے استعمال کی گئی ہے‘ جس میں پرجوش مظاہرین کے چہرے اور اٹھایا ہوا وہ بینر دیکھا جا سکتا جس پر انگریزی زبان کے جلی حروف میں یہ مطالبہ درج ہے کہ ’ریمنڈ ڈیوس کو پھانسی دی جائے!‘لیکن اس خاص مقدمے میں مذہبی و سیاسی جماعتوں نے ایک جیسا کردار ادا کیا کہ ہر کسی کی جیت ہوئی۔ لاہور میں ریمنڈ ڈیوس سے نمٹ لیا گیا ہوتا تو ایبٹ آباد میں امریکہ کو فوجی کاروائی کرنے کی جرات نہ ہوتی بہرحال ثابت ہوا ہے کہ امریکہ پاکستان کو جب چاہے تسخیر کر سکتا ہے اور اپنے ہر ہدف کو جب اور جہاں چاہے ’باآسانی‘ حاصل کر سکتا ہے‘ بس دیکھنا یہ ہے کہ شکیل آفریدی کی رہائی کس قدر قانونی‘ ڈرامائی اور نمائشی انداز میں رونما ہوتی ہے!