بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / شعبہ صحت کے مسائل

شعبہ صحت کے مسائل

 

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق حکومتی ایماء بالخصوص وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکی خواہش اور ہدایت پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو شعبہ صحت سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر مفاد عامہ کے تحت تمام سٹیک ہولڈرز بشمول ڈاکٹرز‘ پیرامیڈکس اور نرسز کی مشاورت سے حل کرنے کیلئے کہا گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے اس ضمن میں ینگ ڈاکٹرز سمیت تمام متعلقہ حکام اور اداروں کوجو مراسلہ جاری کیا گیاہے اس میں اگر ایک طرف محکمہ صحت سے متعلق مسائل باہم بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دی گئی ہے تو دوسری جانب اس مراسلے میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ ڈاکٹرز کی جانب سے مطالبات کی تحریری فہرست موصول ہونے کے بعد حکومت اور ڈاکٹر تنظیموں کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹی بنائی جائیگی جو تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تمام تصفیہ طلب مسائل کا کوئی قابل عمل حل تجویز کرے گی جبکہ اس مراسلے میں اس امر کا اظہار بھی کیا گیاہے کہ حکومت اپنے طور پر بھی ڈاکٹرز کے مسائل اور مطالبات کے قابل عمل ہونے اوراس ضمن میں مجوزہ اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل پر عمل درآمد کا جائزہ لے گی۔مذکورہ مراسلے میں اس امر پربھی زور دیا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران مریضوں کوعلاج معالجے کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائیگی اور دس دن کے اندر اندر تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات اور گفت وشنید کے ذریعے خالصتاً پیشہ ورانہ انداز میں حل کیا جائیگا۔

خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے دیگر عملے میں پائی جانیوالی بے چینی اور اس حوالے سے ان کے ا حتجاج کے متعلق یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ احتجاج پہلی دفعہ نہیں کیاجارہا ہے بلکہ ان کے اس احتجاج کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی سال سے وقفے وقفے سے جاری ہے اور ایک موقع پرتو پشاورہائی کورٹ نے ایک از خود نوٹس کے ذریعے بھی محکمہ صحت میںآئے روز کی ہڑتالوں پر صوبائی حکومت اور ہڑتالی ڈاکٹروں کے نمائندوں کو طلب کر کے طب جیسے مقدس اور انسانی جانوں سے متعلق پیشے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھانے اور اس ضمن میں مناسب قانون سازی کے ذریعے مریضوں کو ریلیف دینے کا حکم دیا تھا جس پر صوبائی حکومت نے اس عدالتی حکم کی تعمیل میں لازمی سروس ایکٹ میں بعض ترامیم کرتے ہوئے ہسپتالوں میں ہر قسم کی ہڑتالوں اور احتجاج کو توقابل تعزیر جرم قرار دیتے ہوئے ان پرمکمل پابندی عائدکر دی تھی لیکن عدالتی حکم کے دوسرے حصے یعنی طبی عملے کے تحفظات کے ازالے اور ان کے جائز مسائل حل کرنے کیلئے کوئی ضروری قدم اٹھانے یا اس ضمن میں کسی قانون سازی کے پہلو کو غیر حکیمانہ بلکہ غیر منصفانہ طور پر نظر انداز کر دیا تھا ۔

البتہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت یہ امر قابل توجہ ہے کہ محکمہ صحت نے اگر ایک طرف صوبے کے تدریسی ہسپتالوں میں ایم ٹی آئی ایکٹ نافذ کر کے ان ہسپتالوں کو اندرونی خود مختاری دیکر انہیں حکومت کے براہ راست انتظامی کنٹرول سے آزاد کر دیا ہے تو دوسری جانب صوبے کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں کام کرنیوا لے ڈاکٹروں کیلئے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس مقرر کر کے انکی داد رسی اور حوصلہ افزائی کا راستہ بھی اپنایاگیا ہے۔ اسی طرح محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام بشمول صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کے بقول صوبائی حکومت شعبہ صحت کی بہتری اور عوام الناس کو صحت کی معیاری طبی خدمات کی فراہمی کیلئے اب تک نہ صرف ہزاروں نئے ڈاکٹروں کو بھرتی کر چکی ہے بلکہ کنٹریکٹ اور ایڈہاک پر تعینات سینکڑوں ڈاکٹروں کو بھی قانون سازی کے ذریعے مستقل کیا جا چکا ہے لیکن بد قسمتی سے ان تمام تر اقدامات کے باوجود نہ تو ڈاکٹر مطمئن نظر آتے ہیں اور نہ ہی ان اقدامات کا کوئی قابل ذکر فرق ہیلتھ ڈیلیوری سسٹم کی بہتری پر پڑتاہوا محسوس ہو رہا ہے جسکا تمام تر نزلہ عام مریضوں پر ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی اور طبی خدمات کی فراہمی میں تعطل اور بد نظمی کی صورت میں پڑ رہا ہے دوسری جانب ڈاکٹروں کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ چونکہ خود کو معاشرے کا سب سے خاص طبقہ سمجھتے ہیں اور یہ طبقہ چونکہ بالعموم کسی دوسرے طبقے کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس لئے یہ طبقہ اپنے نت نئی مطالبات اور ناز برداریوں کی صورت میں من مانیوں پر تلا نظر آتا ہے ۔حرف آخر یہ کہ ہسپتالوں میں ہڑتالوں اور افراتفری کا تمام تر نقصان چونکہ عام مریضوں کو برداشت کرناپڑتاہے اسلئے حکومت کو کوئی ایسا نظام متعارف کرانا چاہئے جس سے طبی عملے کو زیادہ بہتر ماحول میں کام کرنے کے مواقع دستیاب ہوسکیں اور اس نظام کاحقیقی فائدہ عام مریضوں کو مل سکے۔