بریکنگ نیوز
Home / کالم / جغرافیائی سیاسی ضد!

جغرافیائی سیاسی ضد!


سی پیک منصوبے سے صرف پاکستان ہی کے مفادات وابستہ نہیں بلکہ خطے کے کئی ممالک اس عظیم منصوبے میں اپنی ترقی کا عکس دیکھ رہے ہیں لیکن اس اجتماعی ترقی و بہبود کے اس منصوبے کی اگر کہیں سے مخالفت ہو رہی ہے تو وہ بھارت ہے جو نہیں چاہتا کہ پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو اور حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی اس خواہش کی منطق سمجھی جا سکتی ہے جو ایک اچھے ہمسائے کا نہیں بلکہ ایک روایتی دشمن کا کردار ادا کر رہا ہے۔ چین کے ایک معتبر سرکاری روزنامے ’گلوبل ٹائمز‘ نے خطے میں تجارتی روابط قائم کرنیکی بھارتی کوششوں کو ’جغرافیائی سیاسی ضد‘ قرار دیتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو مکمل طور پر بائی پاس کرنے کے بجائے اس سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بحال کرے۔گلوبل ٹائمز میں شائع ہونیوالے ایک کالم میں کہا گیا کہ بھارت‘ افغانستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک سے افغانستان بھارت فضائی راہداری اور ایران کی چاہ بہار پورٹ کے ذریعے تجارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے پاکستان کو ہر صورت بائی پاس کریگا۔ کالم میں اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار بھی کیاگیا کہ بھارت کی یہ کوششیں چین پاکستان اقتصادی راہداری کو عدم توان سے دوچار کرنیکی حکمت عملی کے طور پر ہوسکتی ہیں۔ سی پیک منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے تعمیراتی کام حسب منصوبہ بندی تیزی سے جاری ہے اور مختلف قسم کے سیاسی و جغرافیائی مخالفت پرمبنی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے پر کام کی رفتار مزید بڑھا دی گئی ہے تاہم اندیشے بہرحال موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چین کی جانب سے بھارت کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ رکاوٹیں پیدا کرنے کی بجائے سی پیک کی اہمیت کو سمجھے اور خود بھی اس دوستی کی شاہراہ سے منسلک ہو جائے۔ پاکستان کی مخالفت میں بھارت کی سیاسی قیادت کس طرح اپنے ملک کو ایک اہم منصوبے سے الگ رکھ سکتی ہے جبکہ عالمی سطح پر اقتصادیات ہی ممالک کی ترجیح ہوتے ہیں۔بھارت کی ایک اور چال بھی چین کی نظر میں ہے جس نے افغانستان کیساتھ فضائی ذرائع سے تجارت کا آغاز کر دیا ہے۔

بھارت افغانستان ائر کوریڈور نامی اس حکمت عملی کے تحت پہلی کارگو پرواز رواں ماہ کے شروع میں پچاس لاکھ ڈالر کا بھارت سے روانہ ہوئی اور افغانستان میں لینڈ کرنے تک اس بارے میں بھارت و افغانستان کے ذرائع ابلاغ نے اسے ایک انقلابی پیشرفت قرار دیا جو درحقیقت ایک نمائشی اقدام ہے اور سب جانتے ہیں کہ زمینی راستے کے بغیر دو ممالک کے درمیان تجارتی روابط کا حجم محدود رہے گا اسکے علاوہ بھارت‘ ایران اور افغانستان نے گزشتہ سال چاہ بہار پورٹ سے متعلق ایک ٹرانزٹ معاہدے پر بھی دستخط کئے تھے اور اس تجارتی تعاون و اتفاق سے متعلق بھارت کی سیاسی قیادت کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی اور وہاں سہولیات میں اضافے کیلئے پچاس کروڑ ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک موقع پر کہنا تھا کہ ہم دنیا سے جڑنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے اپنے درمیان رابطے بھی ہماری ترجیح ہے۔گلوبل ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ روابط قائم کرنے کی یہ کوششیں ناصرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی خواہش ہے کہ وہ علاقائی اقتصادی ترقی میں زیادہ متحرک ہو کر شریک ہو بلکہ یہ بھارت کی ضد پر مبنی جغرافیائی سیاسی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ اس نئی راہداری سے بھارت اور افغانستان کے تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا لیکن چینی اخبار کے مذکورہ کالم میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ فضائی روٹ تجارتی طور پر قابل عمل اور پائیدار ہے بھی یا نہیں؟ ساتھ ہی چین کی جانب سے اشارتاً بھارت کو تنبیہہ بھی کی گئی کہ وہ پاکستان کوبائی پاس نہ کرے‘ جسکے پاس لاگت کے حوالے سے سب سے زیادہ موثر زمینی راستہ موجود ہے۔

اخبار کے مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بھارت ہمیشہ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے خلاف رہا ہے جبکہ اس کا اپنا روابط کا نیٹ ورک بنانے کا ارادہ دراصل سی پیک کو عدم توازن یا اسکی اہمیت کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے اخبار کے مطابق ون بیلٹ ون روڈ منصوبے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تعاون کا موقع اور پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ کالم میں کہا گیا کہ بھارت کے وسیع تر مفاد میں بہتر یہی ہے کہ وہ پاکستان کیساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم کرے‘کیونکہ علاقائی روابط اس وقت تک دیرپا اور مؤثر نہیں ہوسکتے‘ جب تک دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی فضا قائم نہ ہو۔ سی پیک صرف چین اور پاکستان ہی کے مفاد میں نہیں بلکہ یہ اس ملک کے مفاد میں ہے جو امن چاہتا ہے۔ امن سے رہنا چاہتا ہے۔ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے تجارت کا فروغ چاہتا ہے اور وہ ان تمام دیرینہ سیاسی تنازعات کو ختم کرنا چاہتا ہے جن کی وجہ سے اسلحے کی دوڑ سے ان ممالک میں غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ تجارت ہی وہ پائیدار ذریعہ ہے جس سے ممالک ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں اختلافات ختم ہو سکتے ہیں اور ایک ایسی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جو ہر قسم کے مسائل سے نجات کا ذریعہ ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عاصم ریاض ایڈوکیٹ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)