بریکنگ نیوز
Home / کالم / جمہوریت اور قربانیاں

جمہوریت اور قربانیاں

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے آج تک دیکھا جائے تو صرف سیاستدان ہیں جنہوں نے اس ملک کیلئے اور اس کی جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں۔صرف وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کی بنیاد رکھی اور جنہوں نے اس ملک کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے۔ باقی سب سیاست دانوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں۔ اس میں پی پی پی پیش پیش ہے کہ جس کی قربانیوں نے ان کے سرے محل بنائے ان کی دبئی انگلینڈ اور جانے کن ملکوں میں جائیدادیں بنائیں۔ یہ ان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اُن کے موجودہ چیئر مین اور ان کے کو چیئر مین اپنی زندگی کا زیادہ حصہ دبئی اور انگلستان میں گزارتے ہیں اور جب الیکشن کا زمانہ آتا ہے تو وہ اس غریب قوم کا غم بٹانے کچھ دن پاکستان میں بھی گزار لیتے ہیں یہ ان کا پاکستان کے عوام اور جمہوریت پر بہت بڑا حسان ہے۔ ان کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ انہوں نے گیارہ سال جیلوں میں گزارے ہیں اور وہ بھی جمہوریت کی خاطراور اگر این آر او نہ ہوتا تو شاید اس ملک کی لوٹی ہوئی دولت یا جمہویت کے لئے قربانیوں کا صلہ پاکستان کو بھی مل جاتا مگر افسوس کہ اپنی چمڑی بچانے کے لئے صدر پرویز مشرف کو ان کے ساتھ وہ معاہدہ کرنا پڑا جس نے ان لوگوں کے اور پرویز مشرف کے اگلے پچھلے گناہ دھو دیئے اورجس سے دونوں کی کرپشن کو وہ غار مل گیا کہ جس میں ان کی جمہوریت کی قربانیوں نے چھپنے کی جگہ پا لی اس میں جمہوریت کے وہ چیمپین بھی شامل ہیں جنہوں اپنی پارٹی سے غداری کے صلے میں پرویز مشرف کی حکومت میں بھی وزارتوں کے مزے لوٹے اور اس کے بعدپی پی پی کی حکومت میں بھی ایک نئے عہدے سے بھی با مشرف ہوئے جس کو پاکستان کے آئین میں کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا یعنی ڈپٹی وزیر اعظم۔

یہ انکی قربانیوں کا صلہ تھا کہ جو انہوں نے مسلم لیگ کو ق بنایا اور پرویز مشر ف کا ہاتھ بٹانے اور مسلم لیگ کو ایک اور داغ دینے کاصلہ حاصل کیا جمہوریت کے یہ چیمپین آج کل زور و شور سے اپنی قربانیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ دوبارہ جمہوریت کی خدمت کیلئے کس کے مزار کی جارو کشی کریں گو ان کو نئی مسلم لیگ دینے والے پرویز مشرف ایک اور مسلم لیگ کے وارث بن گئے ہوئے ہیں۔ادھر وہ بھی اپنی جمہوریت کے لئے قربانیوں پر نازاں ہیں انکی جمہوریت کیلئے سب سے بڑی قربانی تو یہی تھی کہ جب جمہور کے ایک منتخب وزیر اعظم کو جو پارلیمان میں دو تہائی اکثریت رکھتا تھا کان سے پکڑ کر باہر کیا گیا اُس کے ملک بدر ہوتے ہی ابن الوقتو ں نے فوری طور پر ایک مشرف لیگ بنائی اور جس کو قائد اعظم مسلم لیگ کا نام دیا اور مسلم لیگ کے تمام اثاثوں پر اور دفاتر پر فوری طور پر قبضہ کر لیا گیااور جب تک پرویز مشرف اقتدار میں رہا انہوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے اور جب الیکشن میں کامیابی کی صورت میں پی پی پی کی حکومت بنی تو فوراً کینچلی بدلی ۔ اب ملکی سطح پر ایک اور انقلاب آ رہا ہے کہ ابن الوقت سیاست دانوں کی نظر میں آئندہ حکومت تحریک انصاف کی بننی ہے اس لئے وہ اپنے سینوں پر جمہوریت کے تمغے سجائے دھڑا دھڑ اس پارٹی سے غداریاں کر رہے ہیں۔

جسکی وجہ سے ان کو وزارتیں اور مشاورتیں ملی تھیں ۔ عمران خان بالکل اُسی جذبے کے تحت اُن کو خوش آمدید کہہ رہا ہے کہ جیسے وہ انکے بل بوتے پر آئندہ الیکشن میں دوتہائی اکثریت حاصل کر لے گا ادھر وزیر اعظم نے خود کو ایسے احتساب کے حوالے کر دیا ہے کہ جس کا اول دن سے ہی نشان منزل معلوم ہے سپریم کورٹ کے پاس جو پٹیشن داخل ہوئی تھی وہ تو پانامہ لیکس کے متعلق تھی مگر جونتائج آئے وہ تو شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین پر منتج ہوئے جن کا پانامہ لیکس میں کہیں ذکر تک نہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ جس شخص کا پانامہ لیکس میں نام تک بھی نہیں ہے وہی سب سے بڑا مجرم ہے اورجن لوگوں نے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں اور جن کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جا رہی۔ ہے نا حیرت کی بات۔؟