بریکنگ نیوز
Home / بزنس / بھارت میں 70سال بعد نئی ٹیکس اصلاحات لاگو

بھارت میں 70سال بعد نئی ٹیکس اصلاحات لاگو


نئی دہلی۔بھارت میں آزادی کے 70 سال میں پہلی مرتبہ وسیع پیمانے پر متعارف کروائی جانے والی ٹیکس اصلاحات لاگو کر دی گئیں۔نئے متعارف کروائے گئے سروسز اینڈ سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں موجود ٹیکس نظام میں جہاں بہتری لائی جا سکے گی وہاں انڈین مارکیٹ میں بھی اس ٹیکس نظام سے یکسانیت آئے گی۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق نئی ٹیکس اصلاحات لاگو کرنے کے لیے دہلی میں واقع پارلیمنٹ ہاس میں ایک خاص تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں شب 12.00 بجے ایک ایپ کے ذریعے اس کا اطلاق کیا گیا۔تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، صدر پرنب مکھرجی اور نائب صدر حامد انصاری اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیویگوڑا موجود تھے۔وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر کہا کہ آج اس آدھی رات کے وقت ہم سب مل کر ملک کے آگے بڑھنے کی راہ یقینی بنانے جا رہے ہیں۔ ملک ایک نئے نظام کی طرف چل پڑے گا۔ سوا سو کروڑ شہری اس تاریخی واقعے کے گواہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کسی ایک حکومت کی کامیابی نہیں ہے بلکہ سب کی مشترکہ میراث ہے اور سب کے مشترکہ کوشش کی تکمیل ہے، یہ ایک طویل سوچ کے عمل کا نتیجہ ہے۔نریندر مودی نے اسے اقتصادی انضمام کے لیے کی گئی پہل قرار دیا ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے الگ الگ ریاستوں میں اشیا پر لگنے والا محصول ایک ہی ہو جائے گا اور اس کے بارے میں لوگوں میں جو کنفیوژن رہتا ہے وہ نہیں رہے گا اور اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے اسی ایوان میں 14 اگست 1947 کو رات کے 12.00 بجے ملک کی آزادی کا اعلان ہوا تھا. 1949 میں اسی مرکزی ہال میں ملک کے آئین کو قبول کیا تھا اور یہی جگہ آج ایک نئی معیشت کے لیے اور وفاقی ڈھانچے کے تعارف کے لیے اسی مقدس جگہ کے علاوہ کوئی اور مقدس جگہ ہو نہیں سکتی۔مودی نے کہا کہ کالے دھن اور بدعنوانی کو روکنے میں جی ایس ٹی کی مدد کرے گا۔

یہ ایمانداری سے کاروبار کرنے کے لیے حوصلہ افزائی میں مدد کرے گی۔’اس سے پہلے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آج کے بعد نیا بھارت – ایک محصول – ایک ملک اور ایک بازار ہوگا۔ ایک نیا مستقبل ہوگا اور ملک کے لیے جی ایس ٹی ایک بڑی کامیابی ہے۔دوسری جانب کانگریس پارٹی نے اس تقریب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم ای بھی اس تقریب میں شامل نہیں ہوئی۔

اس نئے نظام کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس سے ملک کو ایک بہت بڑا بازار بنانے میں مدد ملے گی اور بدعنوانی اور ٹیکس چوری پر لگام لگ سکے گی۔اگرچہ اس کی مخالفت کرنے والوں کی رائے ہے کہ چھوٹے اور درمیانے تاجر اب بھی اسے نہیں سمجھ پا رہے ہیں اور پر عمل درآمد کرنے میں انھیں جھکنا پڑے گا۔ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ اس نظام سے 66 اشیا پر ٹیکس کم ہوگا۔