بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈیورنڈ لائن پر باڑ

ڈیورنڈ لائن پر باڑ


جب کبھی ہماری سکیورٹی ایجنسیاں ڈیورنڈ لائن کے راستے افغانیوں کی پاکستان میں آمد ورفت میں ذرا سی بھی نرمی برتتی ہیں دہشت گردلامحالہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پاکستان کے اند ر دھماکوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے امریکہ اگر واقعی اس خطے میں امن کا خواہاں ہوتاتو جس طرح اس نے مارشل پلان کے تحت دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے یورپی ممالک کی دل کھول کر مالی معاونت کی تھی بالکل اسی طرح وہ ہماری امداد بھی کرتاتاکہ باجوڑ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک ہم ایک مضبوط سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑ ی کر دیتے جگہ جگہ فوجی قلعے تعمیر کرتے اور افغانیوں کی پاکستان میں داخلے کیلئے مخصوص راستے متعین کرتے لیکن امریکہ کب چاہتا ہے کہ اس علاقے میں امن آئے وہ میٹھی دشمنی کر رہا ہے پاکستان سے ؟ اس کی پالیسی پر تو یہ محاورہ صادق آتا ہے ’’ چور سے کہے چوری کرساہ سے کہے تیرا گھر لٹا‘‘ یا چور سے کہیں موس‘ ساہ سے کہیں جاگ‘‘ یعنی وہ خود ہی ہمارا نقصان کراتا ہے اور خود ہی ہمدرد بنتا ہے بلا شبہ ہماری عسکری قیادت ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگا رہی ہے لیکن قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ یہ کام بہت آہستہ ہو رہا ہے اور نیم دلانہ اور نا مکمل سالگ رہا ہے ہمیں افغانستان کی جہاں جہاں سرحد ملتی ہے ان سب آمد ورفت کے راستوں پر کڑی نظر رکھنی ہو گی اور یہ کوئی آسان اور سستا کام نہیں یقین کیجئے اس کام کا خرچہ برداشت کرنے کیلئے حکومت اگر ایک یا دو سال کیلئے اس قوم پر کچھ ٹیکس بھی لگادے تو وہ اسے بھی دینے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہے کیونکہ وہ اب بالکل نہیں چاہتی کہ ان مادر پدر آزاد رستوں کے ذریعے ہمارا دشمن اس ملک کے اندر بے گنا ہ اور معصوم لوگوں کا قتل عام کرنے کیلئے اپنے مسلح گماشتے بھجوائے ہمارے دشمن اتنی آسانی سے ہماری جان چھوڑنے والے نہیں۔

آج کل روایتی جنگوں کا زمانہ نہیں یہ دور ہے غیر روایتی قسم کی جنگ کا جو کرائے کے فوجیوں جنہیں ہم دہشت گردی کہیں گے کے ذریعے لڑی جاتی ہے داعش ہو کہ اور کوئی ہو ان کے پاس جدید ترین مہلک قسم کے ہتھیار کہاں سے آتے ہیں ان کی بے پناہ فنڈنگ کون کرتا ہے ؟ اس کے سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت قطعاً نہیں بلوچستان کیساتھ جہاں جہاں ہماری سرحد ہمسایہ ممالک کی سرحدات سے ملتی ہے وہاں بھی چیک اینڈ بیلنس کا سخت نظام لاگو کرنا ضروری ہے اس کے علاوہ بیمار ی کی صورت میں علاج معالجے کیلئے افغانیوں کو پاکستان آنا پڑتا ہے اب تک ہماری وزارت داخلہ کو افغان حکام کیساتھ بات چیت کے ذریعے ان افغانیوں کے پاکستان کے دورے کیلئے ایک منظم طریقہ کار وضع کر لینا چاہئے تھا ۔

ویزے کے بغیر انکا پاکستان میں بالکل داخلہ بند ہونا چاہئے نیز پاکستان کے اندر ویزا پر ایک خاص مدت کیلئے رہنے والے افغانیوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھناضروری ہے اس بات کی تسلی کرنا ہو گی کہ وہ پاکستانی ویزا جس مقصد کیلئے حاصل کرکے پاکستان آئے ہیں کیا وہ واقعی اس کے مطابق یہاں وقت بسر کر رہے ہیں؟ نیز افغانیوں کو ان مخصوص شہروں کا ویزا دیا جائے کہ جہاں وہ جانا چاہتے ہیں یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے کہ وہ پشاور سے لیکرکراچی تک جہاں جی چاہے آمدورفت کرتے ہیں ان کیلئے ویزا فارم میں وہی مندرجات ہونے چاہئیں کہ جسکے مندرجات کاسامنا پاکستانیوں کو بھارت جانے کیلئے ویزا فارم کو بھرنے میں کرناپڑتا ہے ۔