بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / خوش آمدید

خوش آمدید


چنددن پہلے صوبہ کے ایک سینئر سیاسی رہنما کے ساتھ ملاقات کے دوران اچھی گپ شپ لگی تاہم جب صوبہ اورپشاورمیں بھتہ خور ی کی بات آئی تو اس امرپر دونوں کااتفاق رہاکہ کچھ عرصہ سے اس کی لہر میں پھر سے شدت آتی جارہی ہے اگرچہ بیچ میں بھتہ خوری کی لعنت پربڑی حدتک قابو پالیا گیا تھامگر بدقسمتی سے افغان حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہاں موجود ان عناصر پر ہاتھ نہیں ڈالا رہا جو اس مذموم جر م میں ملوث چلے آرہے ہیں چنانچہ اب پھر اس میں شدت آتی جارہی ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ شہر ی ایک بارپھرخودکو غیر محفوظ تصورکرنے لگیں گے ماضی قریب میں جب بھتہ خوری میں شدت آئی تھی تو شہر اور صوبہ میں سرمایہ کاری اور کاروباری فضاء متاثر ہوئی تھی اور اکثر سرمایہ کاراپناسرمایہ نکال کراسلام آبادمنتقل ہوگئے تھے جسکی وجہ سے صوبہ میں بیروزگاری میں اضافہ ہو گیا تھا اسی لئے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھتہ خوری کے جن کو بوتل سے نکلنے سے پہلے ہی قابو کرلیا جائے اس مقصد کیلئے آج ماضی کے برعکس غیر روایتی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ عام طورپردیکھا گیاہے کہ مقامی پولیس اس سلسلے میں نہ تو دلچسپی لیتی ہے نہ ہی اس کے پاس اس قسم کی صورتحال کامقابلہ کرنے کے لئے وسائل اورتربیت یافتہ افرادی قوت موجودہے ہمارے ایک دوست چند ماہ پہلے اسی قسم کی صورتحال سے دوچارہوئے تو تھانے میں ایف آئی آر کرانے گئے جہاں انکو معاملہ اندر خانے ہینڈل کرنیکامشورہ دیا گیا۔

جس نے ہمارے دوست کو یقیناًمایوس کیا پولیس عام طورپر ایسے کیسز سے کنی کتراتی رہتی ہے تاہم اب یہ امر خوش آئندہے کہ اس بار پاک فوج حالات کی بہتری اورپولیس کی مدد کے لئے سامنے آگئی ہے چنانچہ پاک فوج اور پولیس نے ملکر ایک حفاظتی سیل بنادیا ہے جسکامقصد صوبہ اورفاٹا دونوں سے اس لعنت کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششیں کرناہے اس سیل کے ذریعے بھتہ خوری کے علاوہ لوگوں کو دھمکی آمیز کالوں کی شکایات کی صورت میں فوری کاروائی کو یقینی بنایاجاتاہے چنانچہ اگر کسی کو اس قسم کی کال آتی ہے تو انکو یہی مشورہ دیاجاتاہے کہ فوری طورپر مذکورہ سیل سے رابطہ کریں علاوہ ازیں اگر کسی کے پاس اس حوالہ سے کسی قسم کی اطلاعات ہوں تو وہ بھی مذکورہ سیل کے ساتھ رابطہ کرسکتا ہے اطلاع دہندہ اور شکایت درج کرانیوالے کانام صیغہ راز میں رکھنے کی جو یقین دہانی کرائی گئی ہے پاک فوج کی موجودگی کی وجہ سے اس پر بھی شہریوں کا اعتمادبڑھے گا سیل میں شکایت کے اندراج کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر شکایت کنندہ اوراطلاع دینے والوں کیساتھ ملاقات کرکے کاروائی شروع کردی جاتی ہے اس سیل کے رابطہ نمبر باقاعدہ مشتہر کئے جارہے ہیں درحقیقت موجودہ حالا ت میں جس طرح پاک فوج آپریشن ردالفساد کے ذریعے پورے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے مصروف عمل ہے اسی طرح اب بھتہ خوری کے خاتمہ کیلئے بھی اس کی طرف سے پولیس کے ہاتھ مضبو ط کرنیکی اس کوشش کے مثبت اثرات ہی سامنے آئیں گے ساتھ ہی عوام کااعتمادبھی بڑھے گاجس سے اندرون خانہ ڈیل کرنیکا سلسلہ بھی ختم ہونے میں مدد ملے گی۔

پاک فوج اس وقت جس طریقے سے پورے ملک میں مصروف عمل ہے ا سکا اندازہ آرمی چیف کے دورہ پارا چنار سے لگایا جاسکتا ہے جنہوں نے بروقت اقدامات کی یقین دہانی کروا کردھرنا ختم کرادیا پارا چنار کے حالات پرپھرکبھی تفصیل سے بات ہوگی اس وقت اندرون ملک سیکورٹی صورت حال کی بہتر ی کیلئے پاک فوج کے اقدامات پرہی بات مناسب رہے گی چند دن پہلے ہی کور کمانڈر پشاورنے کینٹ فیسیلی ٹیشن سینٹر کاافتتا ح کیا جسکا مقصد کینٹ کے رہائشیوں کی سہولت کیلئے ان کو گیرژن سے متعلق امور کیلئے ون ونڈو آپریشن کی سہولت فراہم کرناہے تاکہ لوگوں کو احترا م کیساتھ سکیورٹی سمیت دیگر امور نمٹانے میں آسانی ہواس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس وقت قوم اور پاک فوج ایک ہی صف میں کھڑی ہے اوریہ حقیقت ہے کہ سول اورعسکری ادارے قوم کیساتھ مل کر حالات کی بہتر ی کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ کینٹ کے لوگوں کے لئے جو سہولت فراہم کی گئی ہے وہ صوبہ کے بڑے شہروں کی سول آبادیوں کو بھی فراہم کئے جائیں کیونکہ ان لوگوں کو بھی اس قسم کی سہولیات کی اشدضرورت ہے بہر حال فوج اور پولیس کا عوامی حفاظتی سیل اس جانب پہلا قدم قراردیاجاسکتاہے جس کے ذریعے یہ امید رکھی جانی چاہئے کہ بھتہ خوری کے ناسور کو ایک بارپھر پھیلنے سے روکنے کے لئے اہم اقدامات کئے جاسکیں گے کسی بھی جرم کاخاتمہ ناممکن نہیں ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ اس کے خاتمہ کیلئے سرکاری ادارے شہریوں کااعتمادحاصل کرکے عملی اقدامات کریں ۔