بریکنگ نیوز

حسن ظن!

واقعات کا تسلسل ایک ایسی کہانی کا بیان ہے‘ جس نے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت‘ داخلی سلامتی کی حدود‘ اصولوں اور قانون و انصاف کے نظام کا بھانڈا سرعام پھوڑ دیا ہے۔ تیس جون کے کالم ’’غلامی: تلخ و تاریک حقائق!‘‘کی ذیل میں جس کتاب کا تعارف پیش کیا گیا‘ وہ کسی بھی صورت معمولی نہیں چاہے اسے کتنا ہی معمولی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔ حقائق یہ ہیں کہ مئی دوہزار گیارہ جب امریکہ کا ایک فوجی دستہ دو ہیلی کاپٹروں میں سوار ہو کر پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوتا ہے اور دیدہ دلیری سے رات کی تاریکی میں ایبٹ آباد چھاؤنی میں کاروائی کرتے ہوئے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کی موجودگی اور ہلاکت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس واقعے سے چھ ہفتے قبل امریکہ ہی کے ایک خفیہ ادارے سی آئی اے کیلئے کام کرنے والے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس جو اس سے قبل بلیک واٹر نامی بدنام زمانہ سکیورٹی ادارے کا حصہ تھا کو لاہور کے ایک قیدخانے سے رہائی ملتی ہے اور وہ نہایت ہی رازداری سے براستہ کابل امریکہ پرواز کر جاتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس ستائیس جنوری دوہزار گیارہ کے روز لاہور کی ایک مصروف شاہراہ پر دو پیچھا کرنے والے افراد کو قتل کرنے کے جرم میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے کے باوجود بھی مطمئن دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ پھانسی کا مطالبہ کرنے والوں سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہے! کیا ریمنڈ ڈیوس کی کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے تو اگر اس مفروضے پر یقین کرلیا جائے تو ضمنی سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو جھوٹ کا پلندہ لکھنے کی ضرورت ہی پیش کیوں آئی؟ ویسے تو ہمارے حکمران قوم کو ہمیشہ یہ باور کراتے ہیں کہ پوری دنیا ان کیخلاف سازشیں کر رہی ہے تاکہ ان کے کردار پر اُنگلی نہ اُٹھائی جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن رہنماؤں کے اہل و عیال بیرون ملک شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور جن کی آمدنی کے ذرائع مشکوک ہیں تو اس کھلم کھلا بدعنوانی پر امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک اگر خاموش ہیں تو اس مصلحت کا درپردہ محرک وہ غیرمشروط تعاون ہے۔

جسکی وجہ پاکستان قوم اور پاسپورٹ کی عزت نہیں رہی!قومی المیہ یاداشت کی کمزوری بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں چھ سال پہلے امریکی جاسوس کی گرفتاری اور رہائی کے واقعات اور متعلقہ تفصیلات یاد نہیں جو مذکورہ جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی شائع ہونیوالی کتاب کی صورت پھر سے تازہ ہو گئے ہیں اور متقاضی ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ پاکستان تو بھول چکا تھا لیکن ’ریمنڈ ڈیوس‘ نے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے یاد دہانی کے علاوہ ایک عدد کتاب کی صورت ان بہت سے واقعات کی تصدیق کر دی ہے جو خبروں اور تبصروں کی صورت شائع تو ہوتے رہے ہیں لیکن انکی صحت کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی تھی!حسن ظن سے چاہے جس قدر بھی کام لیا جائے لیکن ریمنڈ ڈیوس کی دیدہ دلیری‘ ہمارے اداروں کی امریکہ کی نظروں میں حیثیت ایک ناقابل تردید وجود رکھتی ہے جو لوگ اس ملک کے میڈیا اور سول سوسائٹی کو بتا رہے تھے کہ وہ امریکہ کے سامنے نہیں جھکیں گے ان سب کے نام ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھ دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے اپنی رہائی کو صرف امریکہ حکومت کی نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کا نتیجہ قرار دیا ہے‘ وقت ہے کہ ہم اس گروپ کے اراکین کی فہرست مرتب کریں جنہوں نے اِس کارخیر میں حصہ لیا! مذکورہ کتاب کے اوراق سے معلوم ہوا کہ امریکی سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ جان کیری‘ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے ہمراہ آئے اور انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کی جنکی جماعت صوبہ پنجاب میں حکمران تھی اور معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے پھر ریمنڈ ڈیوس معاملے پر وفاقی حکومت کے سربراہ صدر آصف زرداری کے تعاون کا بطور خاص ذکر ملتا ہے اور رہائی کو عملاً ممکن بنانے والی تیسری اہم شخصیت وہ ہے جو اکتوبر دوہزار آٹھ سے مارچ دوہزار بارہ تک خفیہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر تعینات رہی یعنی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی خدمات بھی کسی سے کم نہ تھیں۔

سوال یہ بھی موجود ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا جرم معاف کرنے کے لئے جس خاندان نے 23 کروڑ روپے وصول کئے‘ وہ رقم کس نے ادا کی کیونکہ امریکہ حکومت کی یہ واضح پالیسی ہے کہ وہ تاوان ادا نہیں کرتی اور کتاب میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ رقم ریمنڈ ڈیوس کے اکاؤنٹ یا امریکہ کی جانب سے ادا کی گئی ہے۔ یقیناًرہائی میں معاونت کرنے والوں ہی نے یہ رقم ادا کی ہوگی اور بعدازاں بمعہ اضافی سود وصول بھی کر لی گئی ہو لیکن ’قومی سلامتی‘ کے اس اہم اور نازک مسئلے پر بحث ہونی چاہئے اور وہ سبھی حقائق منظرعام پر لائے جانے ضروری ہیں جن سے ریمنڈ ڈیوس کی کہانی سمجھنے میں آسانی ہو۔ لب لباب یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ایک ایسا پیمانہ ہے‘ جس پر پاکستان سے وفاداری کی پیمائش اور جوہری اثاثوں و صلاحیت کے مستقبل کی پیشگوئی ممکن ہے لیکن اگر کوئی ایسا کرنا چاہے۔