بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوگوار عید!

سوگوار عید!


قبائلی علاقے کرم ایجنسی کا صدر مقام پارا چنار پاکستان کے جنوب میں اس پٹی کا سب سے بڑی آبادی کا مرکزی شہر ہے جو افغانستان کی سرحد کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے اور اس پٹی میں جہاں کبھی مثالی امن و امان اور بھائی چارے کی فضاء ہوا کرتی تھی آج غم سوگ اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث خوف پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ عیدالفطر سے چند روز قبل‘ اس سال پارا چنار کے رہنے والوں کی اکثریت نے نہ تو کوئی عید منائی اور نہ انہوں نے چاند رات پر مبارکبادوں کا تبادلہ کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب پورا ملک عید کی تیاریوں میں مصروف تھا ان لمحات میں اہل پارا چنار اپنے پیاروں کی تدفین کیلئے کفن اور ان کی قبروں پر رکھنے کیلئے موم بتیاں اور اگر بتیاں خریدنے میں مصروف تھے۔ یہ وہ لمحات تھے جب ٹیلی ویژن پر شوال کا چاند نظر آنے کے بعد سے مسلسل خوشیوں سے بھرپور مناظر نشر کئے جا رہے تھے اور موبائل فونز پر عید مبارک کے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ کیا کسی نے سوچا کہ اہل پارا چنارجو مایوسی‘ بے بسی اور غم محسوس کر رہے ہیں‘ اُس کو بانٹا جائے۔ جنہوں نے اپنی جانیں کھو دیں‘ ان کے یتیم بننے والے بچوں اور ان کی بیوہ ہونے والی بیویوں کا سوچ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے‘ یہ ظلم ایک بے رحمانہ حملے کے نتیجے میں ہوا جسکے نتیجے میں ستر سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ پارا چنار کے رہنے والے اپنے آبائی وطن میں خود کو اجنبی محسوس کر رہے ہیں۔ دیگر ہم وطنوں اور میڈیا کی مردہ دلی کا درد ان جان لیوا بم حملوں سے بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ ایک ناقابل فہم بات ہے کہ ملک میں یوم سوگ کا اعلان کیوں نہ ہوا اور قومی پرچم سرنگوں کیوں نہ ہوا۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی خاموشی اور لاپرواہی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

اہل پارا چنار جاننا چاہتے ہیں کہ ایک ایسا برتاؤ کیوں ہوا۔ قتل عام پر میڈیا نے شور کیوں نہیں مچایا؟ پارا چنار واقعے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کیوں نہیں طلب کیا گیا۔ کیوں کسی سیاسی شخصیت‘ اعلیٰ افسر یا کسی اہم شخصیت نے مرنے والوں کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کی؟ تمام تر نجی ٹیلی ویژن چینلز پر عید کے خصوصی پروگرام نشر ہوئے لیکن ذرا یہ تو بتایا جائے کہ کل کتنے منٹ اس میڈیا نے ان خاندانوں کیلئے وقف کئے جو پولیٹیکل ایجنٹ کے دفاتر کے باہر جمع ہو کر انصاف‘ توجہی اور ہمدردی کے دو بول کا مطالبہ کر رہے تھے؟ ایمبولینسوں کی ناکافی تعداد کی وجہ سے لوگوں کو لاشیں اور زخمی افراد کو لے جانے کے لئے ہاتھ گاڑیوں کو استعمال کرنا پڑا۔ اگر ہسپتال میں خاطرخواہ ایمرجنسی سہولیات میسر ہوتیں تو کئی زخمیوں کی زندگی بچ سکتی تھی۔ وفاقی حکومت کی بے حسی کا مظاہرہ تو سب کے سامنے عیاں ہیں‘ جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں صرف تبھی اس کی لاپرواہی مزید واضح ہو جاتی ہے جس معیار کی بنیادی سہولیات ساہیوال اور گوجرانوالہ جیسے چھوٹے شہروں میں بھی موجود ہیں‘ اس معیار کی سہولیات کی بھی پارا چنار میں شدید قلت ہے۔ وزیر اعظم لندن میں اپنی چھٹیاں مختصر کر کے یہاں کیوں نہیں آئے؟ ہنستے بستے گھروں میں اب صف ماتم بچھی ہے۔ میری ملاقات غم سے نڈھال ایک بہن سے ہوئی ’’میرے پیارے بھائی‘ میں نے تمہارے لئے نیا جوڑا سیا تھا تاکہ تم عید کے روز دولہے کی طرح دِکھو۔‘‘ میں نے بارہ سالہ بچے کی قبر پر موجود غم میں ڈوبی ماں کو بھی دیکھا ’’میرے بیٹے‘ ٹھیک سے سونا‘ تمہاری ماں کو آخری دم تک تمہارے زخم یاد رہیں گے۔‘‘ ارد گرد ایسے مناظر دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا تھا میں اپنی ماں سے ملنے گیا۔

وہ جھکے سر کیساتھ گھٹنوں کی بل بیٹھی تھیں اور اپنے بھائی کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔ ایسے ہی ایک حملے کے نتیجے میں ان کے بھائی کے جسم کے ہزاروں ٹکڑے ہو گئے تھے۔ میری والدہ کے کزن کامل بھی عالم ارواح میں اب ان کے بھائی سے جا ملے ہیں‘ جنہوں نے گذشتہ ہفتے اپنی زندگی کھو دی۔ کامل دوسرے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے‘ جیسے ہی پہلا دھماکہ ہوا تو وہ مدد کیلئے جائے وقوعہ کی طرف دوڑے‘ میری بیوی نے مجھ سے پوچھا ’’میرے خدایا! میں کہاں جاؤں؟‘‘ چند برس قبل ان کے والد جب گھر کی طرف لوٹ رہے تھے تب نامعلوم افراد نے انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ مجھے آس پاس یا تو متاثرین کی مسخ شدہ لاشیں نظر آتی ہیں یا پھر باقی ملک میں عید مناتے پاکستانی نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم خود بہاولپور پہنچے اور آتشزدگی سے متاثر افراد کیلئے معاوضے کا اعلان کیا مگر افسوس کہ انہوں نے پاراچنار کو یاد کیا بھی تو امتیازی طور پر۔ ان کے دورہ کرنے سے دہشت گردوں کو مضبوط پیغام جاتا‘ جہاں پورے پاکستان نے عید پر پارا چنار کو نظر انداز کیے رکھا‘ وہاں مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کی اور آج بھی اپنے طور پر زندہ رہنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ بھلے ہی ہمارے زخم بھر جائیں اور آنسو خشک ہو جائیں لیکن کٹھن کی گھڑی میں اس خاموشی اور بے حسی کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جائیگا۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ریاض طوری۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)