بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پٹرولیم مصنوعات قیمتیں‘ فائدہ کس کو؟

پٹرولیم مصنوعات قیمتیں‘ فائدہ کس کو؟


حکومت نے رواں ماہ کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 1.50روپے لیٹر کی کمی کردی گئی ہے‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں سے قومی خزانے کو 2.4ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا‘عین اسی روز جب پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی ہو رہی تھی‘ بینک دولت پاکستان نے ملکی معیشت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کی‘ رپورٹ کے مطابق معاشی شرح نمو 10 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے‘ اقتصادی حوالے سے دیگر اعداد وشمار مجموعی طورپر حوصلہ افزاء ہی ہیں جبکہ سٹیٹ بینک تو کاغذوں میں موجود شواہد کی بناء پر یہ بھی کہہ رہا ہے کہ وطن عزیز میں مہنگائی ہدف سے کم رہی ہے‘ پٹرولیم مصنوعات میں کمی یقیناًقابل اطمینان ہی قرار دی جاسکتی ہے جس پر حکومت کی جانب سے سبسڈی عوامی مشکلات کے احساس کی عکاسی کرتی ہے، تاہم اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ ایف بی آر پٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرچکا ہے‘ تمام اقتصادی اعشاریوں اوربینک دولت پاکستان کے دیئے گئے اعداد وشمار کے باوجود بعض تلخ حقائق سے چشم پوشی ممکن نہیں‘ یہی چشم پوشی آج تک عام شہری کیلئے ریلیف کی راہ میں حائل رہی اور وہ مرکز اور صوبوں میں حکومتی اعلانات اور اقدامات کے کوئی ثمرات نہ پاسکا‘ فائلوں میں لگی رپورٹس کی روشنی میں بینک دولت پاکستان کا یہ کہہ دینا کہ ملک میں مہنگائی ہدف سے کم رہی‘ انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے ‘۔

فنانشل منیجرز کیلئے قابل غور یہ بھی ہے کہ خود مرکزی بینک درآمدات میں اضافے کے سبب ملکی جاری کھاتے کا خسارہ بڑھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا اقرار کررہا ہے، اسی طرح برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی کیساتھ زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم کم ہونے کا عندیہ بھی دیا جارہا ہے‘ اس سارے منظرنامے کا تقاضاہے کہ اقتصادی اعشاریوں میں بہتری پر خوشی منانے کیساتھ تلخ حقائق سے اعراض نہ برتا جائے یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ کتابوں میں مہنگائی کی شرح جو بھی ہو‘ مارکیٹ یہ بتارہی ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے پر غریب اور متوسط طبقے کیلئے ضروریات زندگی کی اشیاء خریدنا تک محال ہوچکا ہے۔یہ بات بھی ہر سطح پر مدنظر رکھنے کی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا اعلان فوری طورپر گرانی کا سبب بن جاتا ہے جبکہ حکومتی ریلیف کے ثمرات عام شہری تک پہنچ ہی نہیں پاتے‘ اس کی وجہ اس ریلیف کو عملی صورت دینے کیلئے مکینزم نہ ہونا ہے‘ ایک ماہ کیلئے مقرر ہونیوالی قیمتیں گاڑی میں پٹرول ڈلوانے والوں کو چند روپے کی بچت تو دیں گی تاہم عام شہری کو ٹرانسپورٹ کرائے میں ریلیف کیسے ملے گی‘ ۔

اس طرح صنعت اپنے پیداواری اخراجات میں کمی پرصارف کو ریلیف فوری طورپر دیا ہی نہیں کرتی‘ فارورڈنگ چارجز میں اگر کوئی کمی ہو بھی جاتی ہے تو مارکیٹ میں اس کا فائدہ کبھی عام خریدار کو ہوا ہی نہیں‘ حکومت کی جانب سے ریلیف اور اس کے بدلے بھاری سبسڈی سب اپنی جگہ قابل اطمینان ہے تاہم منصوبہ بندی کا فقدان اس کے ثمرات مارکیٹ میں محسوس نہیں ہونے دیتا‘ ہمارے پاس کوئی ایسا موثر نظام نہیں رہا جس میں شہریوں کی ریلیف کو چیک کیاجائے‘ یہ بات ہر صورت پلے باندھنا ہوگی کہ حکومت کا کوئی بھی معاشی منصوبہ یا کسی بھی دوسرے شعبے میں کوئی بھی اقدام اس وقت تک قابل اطمینان قرار نہیں دیاجاسکتا جب تک ملک میں عام شہری اس سے مستفید نہ ہو۔