بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جمشید دستی پر تشدد کے ثبوت نہیں ملے‘جوڈیشل افسران کی رپورٹ

جمشید دستی پر تشدد کے ثبوت نہیں ملے‘جوڈیشل افسران کی رپورٹ

لاہور۔پنجاب پولیس کی حراست میں موجود رکن قومی اسمبلی جمشید دستی پر مبینہ پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل افسران نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جمشید دستی پر تشدد کے ثبوت نہیں ملے۔ لاہور ہائی کورٹ میں سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق جیل کے سیل میں ان پر پولیس تشدد کے حوالے سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔رپورٹ کے مطابق جمشید دستی کو ابتدا میں جیل میں رکھا گیا تھا اور وہ عام قیدیوں کے ساتھ قید تھے، تاہم 30 جون کو ایک عدالتی حکم کے بعد انہیں بی کٹیگری جیل میں قید کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 40 افراد نے جمشید دستی سے جیل میں ملاقات کی ہے۔

جن میں ان کے وکیل، والدہ، بہن اور دیگر عزیز و اقارب شامل ہیں، اس کے علاوہ ڈاکٹروں نے ڈیرہ غازی خان اور سرگودھا میں جمشید دستی کا میڈیکل بھی کیا، تاہم تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس پر از خود نوٹس لیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ رکن قومی اسمبلی کو دوران حراست پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔چیف جسٹس نے جوڈیشل افسران کو ذاتی طور پر متعلقہ جیل جانے اور رکن قومی اسمبلی کی سیل کا معائینہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

گذشتہ روز سینئر وکیل شاہد گوندل کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی 6 رکنی قانونی ٹیم نے رکن قومی اسمبلی اور عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید دستی سے جیل میں ملاقات کی تھی اور ان کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔اس موقع پر جمشید دستی نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک کی کہانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے سامنے بیان کی اور اپنے بیان میں بتایا کہ انھیں 8 جون کو گرفتار کرکے مقامی تھانے میں رات 2 بجے ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔

جمشید دستی کا کہنا تھا کہ پہلے مجھے ملتان جیل کے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا اور اس کے بعد ڈیرہ غازی خان جیل منتقل کیا گیا جبکہ مجھے جھوٹے پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔واضح رہے کہ عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کو نہر کا پانی زبردستی کھولنے کے جرم میں گرفتار کرکے 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل ملتان بھیجا گیا تھا۔