بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / شمالی وزیرستان، افغان بارڈر تجارتی مقاصد کیلیے کھولنے کا فیصلہ

شمالی وزیرستان، افغان بارڈر تجارتی مقاصد کیلیے کھولنے کا فیصلہ

پشاور: وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسزنے افغانستان سے متصل شمالی وزیرستان کا غلام خان بارڈر تجزیاتی بنیادوں پر کھولنے کافیصلہ کیاہے تاہم یہ روڈصرف تجارت کیلیے استعمال ہو گا۔

ایجنسی کے عمائدین نے آرمی چیف، گورنر اور دیگراعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ اس روٹ کو جلدکھولیں،شمالی وزیرستان کا سرحدی علاقہ غلام خان افغانستان کے صوبہ خوست سے ملتا ہے اور طورخم کے بعدافغانستان اور دیگر وسطی اشیا ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کا دوسرا بڑا روٹ ہے جسے پاکستان میں انٹرنیشنل نوٹیفائیڈروٹ کادرجہ حاصل ہے اورماضی میں اسی راستے کے ذریعے افغانستان اوردیگرممالک سے اربوں روپے کی ماہانہ تجارت ہوتی تھی، 2014میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعدغلام خان کاراستہ ہرقسم کی تجارت اور آمدورفت کیلیے بندکردیا گیا جو تاحال بندہے۔

گورنر ہاؤس اورفاٹاسیکریٹریٹ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سول وفوجی حکام نے مشاورت اور شمالی وزیرستان میںامن وامان کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعدفیصلہ کیاہے کہ غلام خان بارڈرکوآنیوالے دنوں میں کھول دیاجائے تاہم ابتدائی طورپریہ دورانیہ صرف 6 دنوں کے لیے ہوگا اور روٹ صرف تجارتی مقاصدکیلیے استعمال ہوگا، اس ضمن مین حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے لیکن عنقریب اس کااعلان کیاجائیگا۔ ذرائع کے مطابق روزانہ دس گاڑیاں شمالی وزیرستان سے افغانستان اوراسی طرح دس گاڑیاں افغانستان سے شمالی وزرستان میں داخل ہوںگی۔ فی الحال عام لوگ کی آمدورفت نہیں ہوسکے گی اورجب اس بارڈرپرامیگریشن کاعملہ پوری طرح تعینات نہیں کیا جاتا لوگوںکی اس راستے آمدورفت بند رہے گی۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدارنے بتایاکہ آنے اورجانیوالی گاڑیوں کی مینوئل طریقہ سے مکمل تلاشی لی جائیگی اور 6 دن بھی اس لیے مختص کیلیے گئے ہیں کہ انھیں پتہ چلے کہ ایک دن میںکتنی گاڑیاںسرحدکے اس پارجاسکتی ہیں یا آسکتی ہیں، انھوں نے بتایاکہ کسٹم کے معاملات بھی بہت ضروری ہیں اوراس ضمن میںکسٹم حکام سے بھی بات چیت کی گئی ہے اوران چھ دنوں کے بعدرپورٹ اعلیٰ حکام کوارسال کی جائیگی کہ سرحد کو مستقل طور پر کھول دیاجائے یانہیں۔

ذرائع کے مطابق اگرٹرائل بنیادوں پر غلام خان روڈکھولنے کامنصوبہ کامیاب ہوتاہے توکسٹم،امیگریشن دفاترسمیت دیگر متعلقہ دفاترفوری طورپرکھول دیے جائیں گے، شمالی وزیرستان کے 60 فیصد سے زیادہ لوگ تجارت سے وابستہ ہیں، ماضی میں اسی روٹ کے ذریعے اربوں روپے کی ماہانہ تجارت ہوتی تھی لیکن جب سے یہ بند ہوگیا ہے مقامی لوگوں کو معاشی لحاظ سے شدید مشکلات درپیش ہیں، افغانستان سے خشک میوہ، پھل اور دیگر الیکٹرونک سامان آتا تھاجبکہ یہاںسے گوشت، چینی، سیمنٹ اورکئی دیگر اشیا کی تجارت ہوتی تھی۔