بریکنگ نیوز
Home / کالم / ملاوٹ اور جعلسازی

ملاوٹ اور جعلسازی

ناگہانی آفات کسی سے پوچھ کر نہیں آتیں ان کی مختلف اشکال ہیں مثلاً زلزلے‘ سیلاب‘ آگ‘ سڑک پر ہونے والے حادثات حکومت یا ریاست کا یہ فر ض بنتا ہے کہ ان سے نبٹنے کیلئے ہمہ وقت ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہے جن ممالک میں صحیح معنوں میں عوام دوست جمہوری حکومتیں موجود ہوتی ہیں انہوں نے موثر حکومتی اداروں کے ذریعے اس بات کا اہتمام کیا ہوتا ہے کہ کسی بھی ناگہانی آفت سے عوام کا نقصان نہ ہو یا اگر ہو بھی تو کم سے کم ہو کہنے کو تو اس ملک میں بھی ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا ادارہ موجود ہے ہر شہر میں فائربریگیڈ بھی موجود ہے لیکن خدا لگتی یہ ہے کہ حادثات کی صورت میں ان کو جتنا فعال اور موثر ہوناچاہئے وہ اتنے موثر بالکل نہیں مثلاً ہم نے دیکھا کہ کسی بھی کارخانے یارہائشی فلیٹوں یا عمارتوں میں آگ لگ جانے کی صورت میں ان کے پاس ایسا ساز و سامان نہیں کہ ان میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بخیریت وہاں سے باہر نکال سکیں فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ تو جاتے ہیں لیکن جب آگ نے اپنا کام کر دکھایا ہوتا ہے اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ محکموں نے کوئی ایسا مکینزم نہیں بتایا ہوتا کہ جس کے تحت حکام بالا اس بات کی تسلی کر سکیں کہ فائر بریگیڈ کا عملہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر موجود ہے کہ نہیں۔

‘کیااس میں آگ بجھانے کیلئے وافر پانی موجود ہے بھی کہ نہیں ؟ کوئی بھی رہائشی منصوبہ بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جہاں رہائشی گھر یا شہر آباد کرنا مقصود ہے کہ و ہ فالٹ زون میں تو واقع نہیں مثلاً واقفان حال کہتے ہیں کہ جب اسلام آباد کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو ارباب اقتدار کو ماہرین نے بتلا دیا تھا کہ جس جگہ وفاقی دارالحکومت تعمیر کرنے کا پروگرام ہے وہاں50 برس بعد شدید زلزلے آیا کرتے ہیں اس ملک میں معمولی بارشوں کے بعد سڑکیں اسلئے دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں کہ ان کو بناتے وقت انجینئرز نے اس بات کا ڈیزائن میں خاطرخواہ انتظام یا گنجائش نہیں رکھی ہوتی کہ شدید بارش کی صورت میں پانی کے نکاس کا کیا بندوبست ہو گا؟سیلابی پانی سڑک کو کھا جاتا ہے اور اس سے ہر سال ملک میں کئی سڑکیں بہہ جاتی ہیں کہ جن کو دوبارہ بنانے پر اربوں روپے کا اضافی خرچہ آتا ہے یہی حال برساتی نالوں کا ہے انکو یا توآبادیوں کھڑی کرکے بند کر دیا گیا ہے یا پھر ان میں بے دریغ کچرا ڈال کر ‘ان کی ہر سال مون سون سے قبل کوئی صفائی نہیں کرتا اور نہ متعلقہ سرکاری ادارے ان لوگوں کیخلاف قانونی کاروائی کرتے ہیں ۔

کہ جنہوں نے انہیں بند کیا ہوتا ہے شہروں کی ڈرینج ‘ تجاوزات کی روک تھا م ‘ آبی گزر گاہوں میں رکاوٹوں کو ختم کرنا وغیرہ یہ سب کام لوکل گورنمنٹ کے ہوتے ہیں کس کام کی ہیں یہ نام نہاد مقامی حکومتیں اگر وہ یہ بنیادی کام سر انجام نہیں دے سکتیں ؟ اس ملک میں ایک طرف اگر بے پناہ لوگ ناگہانی آفات کی نذر ہو رہے ہیں تو دوسری جانب ایک بڑی تعداد انسانی زندگی کیلئے مضر صحت اشیائے خوردنی کے استعمال کا شکار ہو رہی ہے دودھ میں ملاوٹ‘ مرچ مصالحوں میں آمیزش‘ چائے کی پتی سے لیکر فروٹ جوسز حتیٰ کہ منرل واٹر تک کوئی کھانے پینے کی چیز ملاوٹ کرنے والوں کی نظر سے بچی نہیں اب توکیمسٹوں کی دکانوں سے ادویات خریدتے وقت بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں جعلی ادویات نہ کھانی پڑ جائیں کمال کی بات یہ ہے کہ ملک میں فوڈ ایکٹ بھی موجود ہے اور ڈرگ اتھارٹی بھی اور ان کے ہوتے ہوئے ان کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے مندرجہ بالا جرائم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ان کیخلاف مقدمات ملٹری کورٹس میں چلانے ضروری ہیں۔