بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیا تحقیق مکمل ہوجائے گی؟

کیا تحقیق مکمل ہوجائے گی؟

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی تحقیق کے لئے ایک جے آئی ٹی تشکیل کی کہ وہ تحقیق کر کے معلوم کرے کہ آیا نواز شریف کا تعلق کوئی آف شور کمپنیوں کے ساتھ بنتا ہے یا نہیں۔بات سادہ سی تھی مگر جے آئی ٹی کے معزز ممبران نے بات کو کہیں زیادہ پھیلا دیا ہے۔جس جس علاقے میں جے آئی ٹی نے ہاتھ ڈالا ہے اس کی منصفانہ تحقیق کے لئے ساٹھ دن تو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہیں اس لئے کہ تحقیق میں جو نئی نئی گتھیاں سلجھنے کیلئے سامنے آ رہی ہیں وہ اس قدر گنجھل ہیں کہ ان کے لئے مہینے تو بہت کم ہیں سال درکار ہیں۔ آپ نے اگر پاکستان کے وجود میں آنے سے تحقیق شروع کرنی ہے تو ایک خاندان کی کمائی کو اور ان کی دولت کا اندازہ اسی دن سے لگانا ہے تو آپ کو کم از کم ستر سال کا ریکارڈ دیکھنا ہو گا اور اس کیلئے جو وقت درکا رہو گا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک ٹرک یا بس خریدی ہے تو چند ہی سال میں اس کے پاس تین چار بسیں یاٹرک ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ کاروباری لوگوں کی تحقیق اگر ہم تنخواہ دار کریں گے تو یہ زیادہ مشکل ہو گی اسلئے کہ ایک تنخواہ دار اگر بیس گریڈ میں بھی ہے تو وہ بمشکل ہی گزارہ کرے گا ہاں اگر وہ ادھر اُدھر ہاتھ مارتا ہے تو دوسری بات ہے۔ ورنہ تنخواہ دار اگر مہینے کے دو لاکھ بھی لیتا ہے تو وہ بمشکل اپنی تنخواہ پر مہینے کے ٓاخر تک پہنچ پاتا ہے اس لئے جب وہ کسی کارباری کا سال میں بینک بیلنس میں لاکھوں کا اضافہ دیکھتا ہے تو اس کا دماغ چکرانا ایک قدرتی امر ہے۔ اس لئے کہ وہ تو چند روپے بھی سالانہ بچت نہیں کر پاتااب اس کی سمجھ سے یہ بالا تر ہو جاتا ہے کہ ایک شخص کس طرح تجارت میں سالانہ کروڑوں کا اضافہ کر پاتا ہے۔ یہی کچھ ہماری جے ٹی آئی کیساتھ بھی ہو رہا ہے کہ اس کے بیس اوراکیس گریڈ کے افسران اگر سالانہ ایک دو لاکھ کی بچت نہیں کر پاتے تو جن لوگوں کی وہ تفتیش کر رہے ہیں انہوں نے کیسے کروڑوں بلکہ اربوں روپے کما لئے ہیںیہی وجہ ہے کہ وہ ہر محکمے کی فائلیں چھان پھٹک رہے ہیں اور ہر فائل میں کوئی نئی بات مل رہی ہے اور وہ ہر دوسرے دن لوگوں کو بلا کر انکے انٹرویو کر رہے ہیں ایک ایک شخص کو تین تین چار چار بار بلایا جا رہا ہے اور پھر بھی تشفی نہیں ہو رہی تو پھر یہ تحقیق کیسے مکمل ہو گی اور اگر یہ آدھے میں ہی رہ جاتی ہے تو لوگوں سے انصاف نہیں ہو پائے گا۔

اب جو باہر بیٹھے قیافے لگا رہے ہیں کہ جے آئی ٹی میں فلاں نے یہ کہا ہے اور فلاں نے یہ کہا ہے اور ممبران نے یہ سوال کئے ہیں اور ان سوالوں کے جواب تشنہ ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جے آئی ٹی جس نے سارا کچھ خفیہ رکھ کر صرف تحریری طور پر اپنی تحقیق سپریم کورٹ کو دینی ہے تو پھر یہ لوگ کیسے اندر کی باتیں سامنے لا رہے ہیں اور اگر جے آئی ٹی کی روزانہ کی کاروائی میڈیا تک پہنچ رہی ہے یا اس کی رپورٹ سیاسی لوگوں تک پہنچ رہی ہے تو کیا جے آئی ٹی اپنے کام میں شفافیت رکھ رہی ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس کی تحقیق پر سوال نہیں اٹھے گا۔ اب سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر اداروں نے ٹیمپرنگ کی ہے تو اس کا کیا حل نکالا جائے گااور ردو بدل کئے گئے مواد کی جے آئی ٹی یا سپریم کورٹ کے سامنے کیا حیثیت ہو گی۔یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آخر شریف فیملی کے ایک ایک بندے سے تین تین چار چار باراپنے حضور بلا کر آکر جے آئی ٹی کیا ڈھونڈ رہی ہے کہ جو ایک دن میں پانچ چھ گھنٹے متواتر پوچھ گچھ سے بھی سامنے نہیں آ رہا ۔ اب اگر کوئی شریف فیملی کا بندہ باقی رہا ہے تو وہ بیگم نواز شریف اور محترمہ بیگم محمد شریف ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کل تک ان کے سمن بھی نکل جائیں اور ان کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے کچن کے حساب کتاب کو پیش کرنا پڑے اور یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا پانامہ میں صرف شریف خاندان ہی کا نام ہے کیا عمران خان کی آف شور کمپنیاں نہیں تھیں۔ کیا بے نظیر بھٹو کی آف شور کمپنی نہیں تھی۔کیا صرف شریف خاندان ہی اس ملک میں تجارت پیشہ ہے کیاعمران خان کے آس پاس کھڑے لوگوں کے نام آف شور کمپنیاں نہیں ہیں۔