بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / پھیکا پکوان!

پھیکا پکوان!

پاکستان میں موبائل فون صارفین کے اِستحصال سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خدمات فراہم کرنے والی پانچ مختلف ناموں سے ایک جیسی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ منافع کی لالچ میں ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کو فروغ دے رہی ہیں اور سوائے بے معنی وقتی تفریح کی تشہیر کوئی بھی ایسا ہدف متعین نہیں کیا سکا جس سے درس و تدریس‘ صحت‘ تحفظ ماحولیات‘ سیاحت‘ بہتر طرز حکمرانی وغیرہ جیسے شعبوں سے متعلق سافٹ وئر ڈویلپمنٹ کا رجحان پروان چڑھ سکے۔ مغرب کی صرف اور صرف فیشن میں تقلید سے بڑھ کر نئے علوم کی کھوج اور طلب بھی تو اہداف ہو سکتے ہیں لیکن اگر فیصلہ سازوں کی سوچ کا محور و مرکز ہر ریجارچ سے کال تک عائد محصولات کی حد تک ہی محدود نہ ہو۔ جہاں شدت سے کمی کسی حکومتی موبائل فون کمپنی کی محسوس کی جا رہی ہے‘ جو کاروبار کیساتھ اخلاقیات اور معاشرتی و سماجی ذمہ داریوں کا احساس کر سکے وہیں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومتی ریگولیشنز پر نظرثانی کی جائے کیونکہ موبائل خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنیوں کے آپسی ’کاروباری اتحاد‘ سے مقابلے کی ایسی فضاء پیدا نہیں ہو رہی‘ جس سے معاشرے کا بھلا ہو؟ ٹیکنالوجی سے دانشمندانہ استفادہ کیوں ممکن نہیں بنایا جا سکتا اور موبائل فون بجائے تخریب‘ تعمیری مقاصد کے لئے کیوں استعمال نہیں ہو سکتے!؟رواں ہفتے وفاقی ادارے پی ٹی اے نے موبی لنک (جاز) کو باقاعدہ طور پر تیزرفتار (4G) انٹرنیٹ کی فراہمی کا اجازت نامہ (لائسنس) جاری کیا ہے جبکہ یہ کمپنی پہلے ہی ’وارد‘ کو خرید چکی ہے جو ’فورجی‘ لائسنس رکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں حکومت نے دس میگا ہرٹز فریکوئنسی سپیکٹرم ٹیکنالوجی کے غیر جانبدار لائسنس نیلام کئے‘ جس میں جاز پاکستان نے شرکت کی اور لائسنس کے حصول کیلئے بتیس کروڑ پینتالیس لاکھ ڈالر کی پیشکش جمع کرائی تھی۔

موبی لنک نئے لائسنس کے حصول کے بعد پاکستان میں فور جی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی تیسری کمپنی بن گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ قبل ازیں فور جی لائسنس حاصل کرنیوالوں نے کیا تیزرفتار انٹرنیٹ کی سہولیات ملک کے تمام کونوں تک پہنچا دی ہے یا یہ صرف بڑے شہروں کی حد تک محدود ہے؟ وفاقی حکومت کا کام صرف لائسنس جاری کرنا ہی ہے یا غیررجسٹرڈ فعال موبائل کنکشنوں سے امن و امان کو لاحق خطرات بھی کم کرنا اِس کی ذمہ داری ہے؟قابل غور قیمت بھی ہے اگر حکومت کروڑوں ڈالر میں لائسنس فروخت کریگی تو نجی موبائل کمپنیوں سے کس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی خدمات کم قیمت کے عوض فراہم کریں؟ یاد رہے کہ حالیہ نیلامی کے دوران موبی لنک کے پاس صرف دو آپشن تھے کہ یا تو وہ اُنتیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر بشمول دس فیصد ٹیکس بطور نیلامی جیتنے کی قیمت وفاقی خزانے کو ادا کرتی یا پھر لائسنس کی پچاس فیصد رقم ادا کرکے باقی رقم تین فیصد سود کے ساتھ پانچ سالانہ اقساط کی صورت میں ادا کئے جاتے تاہم نیلامی جیتنے والی واحد کمپنی نے پوری رقم (مکمل فیس) یعنی اُنتیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر بمعہ ٹیکس یکمشت ادا کرنے کو ترجیح دی!۔

وفاقی حکومت آمدنی کے اس آسان ذریعے پر مسرور ہے لیکن اِس نیلامی کو بظاہر جس قدر شفاف بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اُتنی ہے نہیں دور کے ڈھول سہانے اور اونچی دکان پر پھیکا پکوان نہ ہوتا تو ’فور جی‘ لائسنس میں دلچسپی لینے کیلئے کئی موجودہ اور بیرون ملک سے دیگر کمپنیاں بھی دلچسپی کا اظہار کرتیں اور اِس نادر موقع سے کسی ایک کمپنی کو کسی بھی صورت یوں فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیا جاتا! یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ حالیہ نیلامی کی قیمت کو دوہزار چودہ میں ہوئی نیلامی سے آٹھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر زیادہ رکھا گیا لیکن اگر نیلامی بذریعہ مقابلہ ہوتی اور پاکستان میں چند موبائل کمپنیوں کی اجارہ داری (مناپلی) ختم کرنے کے بارے میں سوچا جاتا تو قومی خزانے کو کم سے کم پچاس لاکھ ڈالر کا نفع پہنچایا جا سکتا تھا! ۔