بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارت: سیاسی نظریات!

بھارت: سیاسی نظریات!

پچیس دسمبر دوہزار پندرہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سیکرٹری رام مدہیو نے کہا تھا کہ ’’بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دن پھر سے اکٹھے ہو جائیں گے۔‘‘ بھارت کا ریاستی نعرہ اکھنڈ بھارت یعنی ’غیرمنقسم بھارت‘ محض کوئی سیاسی نعرہ نہی بلکہ یہ اِس عوامی جمہوریہ کا مذہبی نظریات کا بھی حصہ ہے۔ 1989ء میں حکمراں بی جے پی نے اکھنڈ بھارت کے تصور کو باضابطہ طور پر اپنایا اور صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ کئی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی اس نظریئے سے جڑی ہوئی ہے۔ بھارت کے ایک دفاعی تجزیہ روی ریکھئے سمجھتے ہیں کہ بھارت کو پاکستان ضم کرنے کیلئے میسر کسی بھی موقع سے جلد از جلد فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بھارتی نظریہ (The India Doctrine)‘ کے مصنف ایم بی آئی منشی کا ماننا ہے کہ ’’پاکستان کو بھارت میں ضم کرناپرامن ذرائع یا طاقت کے استعمال کے علاوہ بھی ایک طریقے سے ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر اس حد تک انتشار کا شکار کر دیا جائے کہ اس کے پاس بھارت میں ضم ہونے کے علاوہ کوئی دوسری صورت باقی نہ رہے۔‘‘بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں۔ساؤتھ ایشین ٹیررازم پورٹل نامی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں سال 1994ء سے 2017ء تک ’65ہزار 980‘ افراد دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

جبکہ اِن کے علاوہ گذشتہ پچیس برس میں 87 ہزار سے زائد کشمیری بھی قتل کئے گئے ہیں! بھارت کی مختلف ریاستوں میں علیحدگی پسند توانا تحریکیں فعال ہیں جن میں پنجاب کی خالصتان کمانڈو فورس بابر خالصہ انٹرنیشنل اور انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن شامل ہیں۔ ریاست اروناچل پردیش کی سب سے فعال علیحدگی پسند تحریک ’نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ‘ ہے جبکہ آسام میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا موویسٹ‘ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش اور ’دی مسلم یونائٹیڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام‘ قابل ذکر ہیں مانی پور میں علیحدگی پسند نیشنل سوشلسٹ کونسل آف نانگالینڈ‘ پیپلز یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ اور مانی پور ناگا ریولوشنری فرنٹ شامل ہیں۔ ناگالینڈ میں ’ناگا نیشنل کونسل‘ دی فیڈرل گورنمنٹ آف ناگا لینڈ اور ناگا نیشنل کونسل جبکہ تریپورہ میں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ اور آل تریپورہ ٹائیگر فورس شامل ہیں۔بھارت کی عوامی جمہوریہ میں ’نازالیٹ مویسٹ‘ علیحدگی پسند تحریک گزشتہ قریب پچاس برس (18مئی1967ء) سے فعال ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کی کل 29 ریاستوں میں سے 16ریاستیں ایسی ہیں جہاں علیحدگی پسند تحریکیں فعال ہیں اور یہ کل بھارت کا پچاس فیصد بنتا ہے یعنی بھارت کی پچاس فیصد آبادی علیحدگی چاہتی ہے۔امریکہ کے 56ویں سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر نے پیشگوئی کی تھی کہ بھارت میں مرکز گریز طاقتیں حاوی ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے دلیل دی تھی کہ جب تک داخلی علیحدگی پسند تحریکوں سے نہیں نمٹا جاتا تو اس سے بھارت تقسیم سے پہلے والی پوزیشن پر چلا جائے گا جب وفاق کی حاکمیت کمزور ہوگی اور ریاستیں اپنے طور جاگیرداروں اور ذاتی خاندانوں کا تسلط پھر سے بحال ہو جائے گا۔

چھبیس جون کو بی بی سی کے بھارت میں نمائندے سوتک بسواس نے ایک مراسلے میں لکھا تھا کہ ’’کیا بھارت ایک ایسا ملک بننے جا رہا ہے جہاں ہجوم حکمران ہوں گے؟‘‘ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’وزیراعظم مودی کے دور میں بھارت عوامی جمہوریہ بن کر اجتماعی بہبود کی بجائے گروہی مفادات کا محافظ بنتا جا رہا ہے۔‘‘ انڈین ڈیفنس ریویو نے اپریل جون دوہزار سات کی اشاعت میں یہ نتیجہ خیال پیش کیا تھا کہ بھارت کو یکجا رکھنے کے لئے غیرمعمولی طور پر بڑی فوجی طاقت کی ضرورت ہوگی۔ بھارت کے کئی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ بھارت میں وفاق گریز قوتیں داخلی انتشار کو انتہاء پر پہنچاتے ہوئے قومی وحدت کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ چاہے اس کی جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے لیکن بھارت کو بہرصورت پھر سے مربوط و متحد کرنے کی ضرورت ہے اور اس عمل کو جس قدر تاخیر سے کیا جائے گا‘ اتنا ہی اس کی قیمت بڑھتی چلی جائیگی کیونکہ پاکستان مالی وسائل اور طاقت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے اِس لئے پہلے پاکستان کے ساتھ پہلے ’باز استحکام‘ ہونا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)