بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے

بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے


دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے گزشتہ روز اپنے انٹرویو میں نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا پاکستانی حدود سے پکڑا جانا اور اپنے جرائم کا اعتراف کرنا اس بات کا ثبوت ہے‘ دریں اثناء بھارت نے ایک بارپھر کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگ لی ہے خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بھارت نے اپنی جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی کیا ہے‘ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے جس میں کسی ظلم وزیادتی پر احتجاج کرنے والوں پر بھی شدید تشدد کیاجاتاہے اب ایک جانب بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور دوسری طرف کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے حق میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد سے گریز پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے‘ بھارتی ہتھکنڈوں کی ایک اور وجہ سی پیک ہے جس کے آغاز سے ہی بھارتی قیادت ایک لمحہ چین سے نہیں بیٹھی ‘اسی بے چینی میں امریکہ کیساتھ رابطوں کو بھی مستحکم بنایاجارہا ہے۔

‘ واشنگٹن اور کابل سے بھارتی لب ولہجے کے بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو نہ صرف بیانات بلکہ عملی طوپر پاکستان نے ہمیشہ علاقائی امن کیلئے سعی کی ہے‘ پاکستان نے بھارت کیساتھ معاملات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کیلئے متعدد مرتبہ اقدامات اٹھائے لیکن بات چیت کے عمل کو بھارت نے ایک نہ ایک بہانے سے بری طرح متاثر کیا افغانستان میں قیام امن اور بحالی کیلئے پاکستان کے اقدامات سے انکار ممکن نہیں پاکستان کا موقف شفاف اور کردار مثبت ہے ایسے میں ضرورت ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنی خارجہ پالیسی کو مزید موثر بنانے اور دنیا پر یہ واضح کرنے کی ہے کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر بات کرتا ہے اور بہتر ہمسائیگی ہی ہماری پالیسی کا حصہ ہے‘ دنیا پر یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ کشمیرپر پاکستانی موقف حق اور انصاف پر مبنی ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیاجاسکتا خطے کا مجموعی منظر نامہ اس بات کا عکاس ہے کہ بھارتی چال بازیاں زیادہ نہیں چل سکتیں‘ پاکستانی موقف ہی خارجہ محاذ پر ہر جگہ غالب آئیگا۔

پشاور‘ نہر کناروں کی بہتری ناگزیر

پشاور شہر کے وسیع علاقے سے گزرنے والے نہر کے کنارے سڑکوں کی مکمل تعمیر آبادی والے بڑے علاقوں میں ریلنگ لگانا اور نہر کو سوریج کے پانی سے بچاناایک وسیع چیلنج ہی رہا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تو پشاور کے ثانوی تعلیمی بورڈ کے قریب سے ٹریفک کا بہاؤ بھی نہر کے کنارے سڑک پر لانے کا ایک اچھا اور قابل عمل منصوبہ دے چکے ہیں جبکہ نہرو نہر کے نام سے پراجیکٹ کی تجویز اس سے قبل بھی سرکاری سطح پر سراہی جاچکی ہے،اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پشاور میں نہر کے کنارے سڑکوں کی تعمیر اور ریلنگ لگانے پر نہ صرف ٹریفک کا بہاؤ ممکن ہوگا بلکہ اردگرد کے علاقوں میں آلودگی کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکے گا‘ نہر کے پانی سے سیوریج لائنیں ہٹائے جانے کیساتھ جگہ جگہ چھوٹے سبزہ زار تفریح کے مواقع بھی فراہم کرسکتے ہیں، ضرورت نہر کی سالانہ صفائی سے ہٹ کر اقدامات کی ہے جس کیلئے موثر منصوبہ بنانا ہوگا، اس سب کیساتھ سالانہ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور چیک اینڈ بیلنس یقینی بنانے کی ضرورت بھی ہے ‘یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ نہر کناروں کیئے جامع منصوبہ تبدیلی کا ایک بڑا احساس دے سکتا ہے۔