بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسحٰق ڈار جے آئی ٹی میں پیش

اسحٰق ڈار جے آئی ٹی میں پیش


اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پہلی مرتبہ پاناما پیپرز کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب تحمل سے دیئے، جے آئی ٹی کا پہلا نوٹس 28 جون کو ملا جبکہ اس سے قبل دو مرتبہ پہلے بھی بلایا گیا تھا تاہم مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوسکا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ 30 سال سے ملک میں تماشہ لگا ہوا ہے اور مشرف کے زمانے میں جھوٹ اور بدنیتی کی بنیاد پر مختلف ریفرنسز بنائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تماشہ ختم ہونا چاہیے یہ ریفرنس کا ڈرامہ گذشتہ 30 سال سے چل رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور حکومت کے خلاف ایک پیسے کی کرپشن کا الزام نہیں، وزیراعظم اور حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے کیونکہ ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاناما لیکس میں جن کے نام ہیں وہ دوسری جماعتوں میں ہیں جبکہ نواز شریف کا پاناما لیکس میں نام نہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار کے خلاف ایک کیس کی سماعت اور اس کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان کے کیس میں جے آئی ٹی نے ارسلان افتخار کو سوال نامہ بھجوایا تھا، جو ریکارڈ پر ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جج کے بیٹے کے لیے الگ اور وزیراعظم کے بیٹے کے لیے الگ قانون ہے، یہ کیا مذاق ہے؟

اسحٰق ڈار نے کہا کہ مریم نواز کو بلانے پر بہت برا لگ رہا ہے، وزیراعظم کی صاحبزادی کو بلانے پر سپریم کورٹ نوٹس لے اور مریم نواز کو بلانے کے بجائے انہیں سوالنامہ بھیجا جائے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ملک میں استحکام آنا شروع ہوتا ہے تو ایسے کیسز بننا شروع ہوجاتے ہیں، عمران خان کو جھوٹ کی بنیاد پر سیاست کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔