بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارت کیساتھ کشمیر کے بغیر مذاکرات نہیں ہونگے،سرتاج عزیز

بھارت کیساتھ کشمیر کے بغیر مذاکرات نہیں ہونگے،سرتاج عزیز


اسلام آ باد۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت نے بندوق کے زورپرکشمیرپرقبضہ کررکھا ہے،بھارت تمام تر کوششوں کے باوجود کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی کی تحریک قرار دلوانے میں ناکام ہو چکا ہے ، بھارت کے ساتھ کشمیر کے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق با اختیار حکومتوں کے قیام کے لیے سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں ،جلد ہی انھیں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

بھارت نے چین کا گھیراو کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی خدمات پیش کی ہیں ، یہ اسکی خطہ میں تنہا ہونے کی دلیل ہے ، کشمیری راہنما سید صلاح الدین کو امریکہ نے بھارت کو خوش کرنے کے لیے دہشت گرد قرار دیا ہے ، یہ اقوام متحدہ کا فیصلہ نہیں ہے اس لیے اس کی پابندی ہمارے اوپر لازم نہیں ہے،کشمیر عوام کو دن بدن عالمی برادری کی تائید و حمایت حاصل ہو رہی ہے جس کے باعث کشمیرکی تحریک آزادی بہت ہی اہم مو ڑ پر پہنچ چکی ہے ، پاکستان کشمیر ی عوام کی تحریک آ زادی کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت کر رہا ہے۔ پیر کو مشیر خارجہ سر تاج عزیز نے صحا فیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق با اختیار حکومتوں کے قیام کے لیے کام ہو رہا ہے، سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں ،جلد ہی انھیں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے چین کا گھیراو کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی خدمات پیش کی ہیں ، یہ اسکی خطہ میں تنہا ہونے کی دلیل ہے ، کشمیری راہنما سید صلاح الدین کو امریکہ نے اسی تناظر میں بھارت کو خوش کرنے کے لیے دہشت گرد قرار دیا ہے ، یہ اقوام متحدہ کا فیصلہ نہیں ہے اس لیے اس کی پابندی ہمارے اوپر لازم نہیں ہے۔ بھارت کا یہ موقف تھا کہ مسئلہ کشمیر ختم ہو چکا ہے مگر کشمیری عوم نے مقامی جدوجہد کے ذریعے بھارت کا پورا بیانیہ ہی بدل دیا ہے ۔

کشمیر عوام کو دن بدن عالمی برادری کی تائید و حمایت حاصل ہو رہی ہے جس کے باعث کشمیرکی تحریک آزادی بہت ہی اہم دوہرائے پر پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں بھی عوام اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان کی تحریک کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکا ہے ، یہ کشمیری عوام کی تحریک ہے ، پاکستان صرف کشمیر عوام کی اس تحریک کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت کر رہا ہے۔ مختلف سرویز میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بڑی اکثریت بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے۔

اس کے برعکس آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ننانوے فی صد لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔سرتاج عزیزنے کہاکہ بھارت نے گزشتہ ایک سال کے دوران چار سو سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی ہے جو 2003کے پاک بھارت معائدے کی خلاف ورزی ہے ، پاکستان ان خلاف ورزیوں، کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بالخصوص پیلٹ گن کے استعمال سے ہزاروں کشمیریوں کی شہادت اور معذور بنانے کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھا رہا ہے۔

پاکستان اپنی پر امن ہمسائیگی کے ویژن کے مطابق تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات چاہتے ہیں ، ہم تمام تر مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاس کرنا چاہتے ہیں تاہم بھارت کے ساتھ کشمیر کے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقل کا خود فیصلہ کر سکیں۔ بھارتی میڈیا بہت ہی منفی پروپیگنڈا کررہا ہے ،مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیرہمارے لیے بہت ہی اہم ہے، صرف نظر نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹرز کنٹرول لائن کا دورہ کریں گے۔