بریکنگ نیوز
Home / کالم / مردم شماری فوراً کرائیں

مردم شماری فوراً کرائیں


سپریم کورٹ کا گزشہ دنوں اس بات پر برہم ہونا بالکل فطری تھا کہ ملک میں مردم شماری کیوں نہیں کرائی جا رہی اور حکومت اس معاملے میں لیت ولعل کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے ۔1998ء سے لیکر آج تک اس ملک میں جو بھی حکمران رہے وہ سب کے سب اس ضمن میں برابر کے ذمہ دار ہیں اصولی طور پر مرد م شماری کو 2008 میں ہو جانا چاہئے تھا ۔2018ء الیکشن کا سال ہے اس سے پہلے ووٹرز کی اپ ٹو ڈیٹ فہرستوں کابننا ضروری ہے جن میں ملک کی آبادی کے تازہ ترین اعداد و شمار درج ہوں یہ تب ہی ممکن ہے کہ فوراً سے پیشتر مردم شماری کا عمل شروع ہو جائے تاکہ وہ مارچ یا اپریل 2017ء تک مکمل ہو جائے جس سے الیکشن کمیشن کو کافی موقع مل جائے گا کہ وہ ووٹرز کی فہرستوں میں ضروری رد وبدل کر سکے کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومتیں اور انتظامیہ کوئی بھی کام اپنے وقت پر نہیں کرتیں اور عدلیہ کو خواہ مخواہ عوام کے مفاد میں آئینی تقاضے پورا کرنے کے لئے کئی کاموں میں کو دنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر حکومتیں ٹس سے مس ہوتی ہیں اب دیکھئے نا اگر سپریم کورٹ حکومت کے کان نہ مروڑتی تو اس نے کبھی بھی بلدیاتی الیکشن نہیں کروانے تھے اب بھی اگر مردم شماری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ذرا سی نرمی دکھائی تو حکومت ٹال مٹول سے کام لیکر مردم شماری کبھی بھی نہیں کرائے گی حتیٰ کہ 2017ء کا وسط آ جائے گا اور اس وقت وہ پھر یہ بہانہ کرے گی کہ اب تو عام انتخابات سر پر آ گئے ہیں اب تو مردم شماری کے لئے اس کے پاس وقت ہی نہیں اب تو جو بھی نئی حکومت آئے گی وہی یہ فریضہ ادا کرے گی اس لئے آئندہ ایک آدھ مہینہ بڑا اہم ہے اس میں مردم شماری کی تاریخ فوری طور پر مقرر ہو جانی چاہئے مردم شماری اس ملک کی ترجیحات میں شامل ہے بلکہ سرفہرست ہے کیونکہ تازہ ترین آبادی کے اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں ہمار ا پلاننگ ڈویژن اندھیرے میں تیر مارتا رہے گا درست منصوبہ بندی نہ ہو سکے گی اس مردم شماری کے ساتھ جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ فاٹا کا سیاسی اور انتظامی مستقبل بھی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا میں ہر قسم کی اصلاحات ضروری ہیں لیکن ہماری دانست میں وہاں کسی قسم کی بھی اصلاحات کا عمل شروع کرنے سے پہلے فاٹا کے اندر بسنے والے قبائلی بھائیوں کی رائے لینا ضروری ہے اور یہ کام جتنے احسن طریقے سے بذریعہ ریفرنڈم ہو سکتا ہے وہ کوئی کمیٹی یا کمیشن نہیں کر سکتا اگر مردم شماری کا کام اگلے سال وسط میں ہو جائے تواس کے فوراً بعد فاٹا میں ریفرنڈم بھی کرایا جا سکتا ہے بلکہ کرانا ضروری ہے تاکہ وہاں کے باسیوں کے جذبات و خیالات کا صحیح پتا چل سکے کہ وہ کیا اپنے لئے علیحدہ صوبہ چاہتے ہیں یا خیبر پختونخوا میں ضم ہونا چاہتے ہیں یا اپنا موجودہ تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیاوہ چاہتے ہیں کہ اس وقت وہاں جو علاقائی ذمہ داری کا قانون ہے اسے جاری رہنا چاہئے یا پھر اسے ختم کرکے وہاں پولیس اور مجسٹریسی کا نظام اور وہ ریونیو سسٹم نافذ کر دیا جائے کہ جوبندوبستی اضلاع میں رائج ہے ؟ فاٹا میں زندگی کے ہر شعبے میں کئی قسم کی اصلاحات کرنا ضروری ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ حکومت کو پتہ ہو کہ وہاں کی اصل آبادی کتنی ہے تاکہ اس کے مطابق وہاں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مناسب رقم مختص کی جا سکے اصولی طور پر قانون کے مطابق اس ملک میں ہر دس برس بعد مردم شماری کا ہونا ضروری ہے زرداری اگر چاہتے تو وہ 2008 اور 2013 کے درمیان یہ اہم قومی فریضہ ادا کر سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ کام نہ کیا یہ بہانہ غلط ہے کہ دہشتگردی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا جہاں زندگی کے دیگر معمولات جاری و ساری رہیں وہاں مردم شماری بھی ہو سکتی تھی ۔یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارے ملک میں کتنے لوگ بستے ہیں کتنے پاکستانی ہیں کتنے غیر ملکی ہیں کتنے بچے اور کتنی خواتین ہیں۔