بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکمران اور عوام

حکمران اور عوام


وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور انکے رفقاء کا موقف ہے کہ’ پشاور کی تین سال قبل والی حالت اور آج کی تصویر میں نمایاں فرق ہے جو تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے‘ ۔پرویز خٹک اور انکے رفقاء موجودہ صوبائی حکومت کے قیام کے بعد سے تسلسل کے ساتھ نہ صرف پرانے خیبر پختونخوا کو ’ نیا خیبر پختونخوا ‘ بنانے کا عزم دہرارہے ہیں بلکہ اس حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے عملی اقدامات کو مثال کے طور پر پیش بھی کررہی ہے’نئے پختونخوا ‘ کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اعلیٰ سرکاری افسران کے اجلاسوں میں لائن آف ایکشن کے مختلف زاویئے بھی زیر بحث آتے رہے ہیں۔پچھلے تین سال سے زائد عرصے کے دوران بدعنوانی کی شرح میں کمی ، محکمہ پولیس میں اصلاحات،پٹواریوں کو لگام‘بدعنوان عناصر کے خلاف کاروائیوں میں بہتری ،ماضی کے مقابلے میں نسبتاًبھرتیوں میں میرٹ کی بالادستی،نئے قوانین کا اطلاق اور موجودہ قوانین کے نفاذ پر توجہ مرکوز کیا جانا اور ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت وہ عوامل ہیں جنکی بنیادپر صوبائی حکومت’ تبدیلی‘ کا دعویٰ کر رہی ہے۔اسی بنیاد پر وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی مدت تکمیل تک گڈ گورننس کا حقیقی نظام دے دیں گے ۔انکا یہ بھی کہناہے کہ ’انکی متعارف کردہ اصلاحات کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں، موجودہ دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ،تمام نئی بھرتیاں میرٹ پر کی جارہی ہیں ۔

کرپشن کو سختی سے کچل دیا گیا ہے اور تمام شعبوں میں واضح طور پر تبدیلی نظر آ رہی ہے‘ ان الفاظ کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ صوبے کے حکمران اپنے طرز حکمرانی سے کافی مطمئن ہیں ادھر بات اگرعوامی نکتہ نظر کی کی جائے تو عوامی رائے کے مطابق اچھی حکومت سے مراد وہ حکومت ہوتی ہے جس کے دور اقتدار میں لوگ خود کو مطمئن ، محفوظ اور خوشحال محسوس کررہے ہوں یا کم از کم انہیں یہ محسوس ہو رہا ہو کہ وہ تیزی سے تحفظ، اطمینان اور خوشحالی کی منزل کے قریب ہو رہے ہیں اسی نکتہ نظر کے تحت بد امنی،غربت‘ جہالت‘ بے روزگاری، مہنگائی اور دیگر متعدد مسائل کا شکار خیبر پختونخواکے باشندے ایک عرصے سے اپنی توقعات کی تکمیل کا خواب دیکھ ہے ہیں۔اس خواب کی تعبیر کی امید پر1988ء سے لیکر1997ء تک ’کے پی کے‘ کے لوگوں نے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن)کو باری باری صوبے میں اختیارِ حکمرانی سے سرفراز کیا تاہم یہاں کے رہنے والے ان حکومتوں سے وابستہ توقعات کا جہاں آباد ہوتے نہ دیکھ سکے 2002ء کے عام انتخابات میں صوبے کے عوام نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’ایم ایم اے ‘کو صوبے میں حق حکمرانی بخشا اس مرتبہ اگرچہ صوبائی حکومت نے پانچ سال مکمل کئے تاہم یہ دورِ حکمرانی بھی صوبے کے عوام کیلئے امن ‘ترقی ا ور خوشحالی کا زینہ ثابت نہ ہو سکا۔ 2008ء میں خیبر پختونخواوالوں نے قوم پرست اے این پی کو ملک گیر سیاسی قوت پی پی پی کے ساتھ ملکر صوبے کے اندھیروں کو روشنیوں سے آشنا کرنے کی ذمہ داری سونپی اس دورمیں 18ویں ترمیم کی بدولت صوبائی حکومت کے اختیارات اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومت کے وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ۔

کہیں کہیں ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبے ماضی کی نسبت تیزی سے آگے بڑھتے دکھائی بھی دیئے تاہم سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ ‘میرٹ کی خلاف ورزیاں اور ان جیسی دیگر قباحتیں حکومتی کارکردگی کے ماتھے کا بدنما داغ بن گئیں نتیجتاً صوبے کے عوام کواپنے فیصلے پر جس قدر پچھتاوا اورمایوسی’ اے این پی ،پی پی پی‘ اتحادکے دور میں ہو ئی شاید ہی پہلے کبھی ہوئی تھی۔اسی پچھتاوے اور مایوسی کے وجود سے جنم لینے والا ردعمل مئی 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کوخیبر پختونخوا میں مسند اقتدارتک پہنچانے کی وجہ بنا بحیثیت مجموعی اب بھی صوبے کے عوام کی رائے یہی ہے کہ جب تک وہ خود کو تحفظ، اطمینان اور خوشحا لی کی منزل کے قریب نہیں پاتے تب تک وہ یہ نہیں کہ سکتے کہ جس ’تبدیلی ‘کی خواہش و خیال کے زیر اثر انہوں نے تحریک انصاف کو صوبے میں مسند اقتدار تک پہنچایاتھا وہ وجود پا گئی ہے۔یہ عوامی رائے صوبے کے حکمرانوں کو پیغام دے رہی ہے کہ وہ ا پنی کارگزاری سے مطمئن ہوکر سست روی کا شکار ہو جانے کے بجائے عوامی رائے کو حکومتی کارکردگی جانچنے کا پیمانہ بنا ئیں اور صوبے سے غربت ‘ جہالت ‘بے روزگاری اور جرائم کے خاتمے ، صحت سمیت دیگر شہری سہولتوں کی فراہمی کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کیلئے تیز تر پیش قدمی کا سامان کریں ۔