بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ڈبلیو ڈبلیو بی ملازمین کی ریشنلائزیشن کا اعلامیہ معطل

ڈبلیو ڈبلیو بی ملازمین کی ریشنلائزیشن کا اعلامیہ معطل

پشاور۔ پشاور ہائی کورٹ نے ورکرز ویلفےئر بورڈ کے ملازمین میں ریشنلائزیشن سے متعلق جاری حکم نامہ معطل کرتے ہوئے سیکرٹری ورکرز ویلفےئر بورڈ اور صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا ۔ عدالت عالیہ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس عبد الشکور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ورکرز ویلفےئر بورڈ کے ملازمین کی تنظیم کے صدر یونس مروت کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی درخواست گزار کے وکیل پیر حمید اللہ شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخوا کے ورکرز ویلفےئر بورڈ نے تین ہزار سے زائد ملازمین کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اس کنٹریکٹ کو گزشتہ کئی سالوں سے رینیو کیا جا رہا ہے۔

ملازمین نے اس امتیازی سلوک کیخلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ ان ملازمین کو مستقل کیا جائے مگر حکومت نے ان ملازمین کو مستقل کرنے کی بجائے اب ان میں ریشنلائزیشن شروع کی ہے اور اس حوالے سے سترہ مارچ کو ورکرز ویلفےئر بورڈ نے باقاعدہ طور پر نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی انہوں نے عدالت کو دلائل دےئے کہ پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی ان ملازمین کی بر طرفی سے متعلق حکم امتناعی جاری کر چکی ہے مگر اس کے باوجود صوبائی حکومت اپنے من پسند افراد کو روزگار دلانے اور ان ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کے درپے ہیں ۔

انہوں نے مزید دلائل دیئے کہ ابتدائی طور پر وررکرز ویلفےئر بورڈ کے ملازمین کے کیسز کو پشاور ہائی کورٹ کے اس بنیاد پر خارج کیا تھا کہ عدالت عالیہ کے پاس ان ملازمین کے کیسز کا اختیار نہیں ہے مگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے قرار دیا ہے کہ ان ملازمین کے کیسز کو میرٹ پر سننے کا اختیار ہائی کورٹ کے پاس ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت کسی بھی صورت ملازمین کو غیر معینہ مدت کے لئے کنٹریکٹ پر نہیں رکھ سکتی بلکہ اسے مستقل کرنا پڑیگا تاہم ان تمام عدالتی فیصلوں کے باوجود ورکرز ویلفےئر بورڈ کی انتظامیہ ان ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کے درپے ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے جو کہ غیر قانونی ہیں اس اقدام سے ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے ۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ریشنلائزیشن سے متعلق جاری نوٹیفیکیشن کو معطل کرتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا جبکہ چےئرمین ورکرز ویلفےئر بورڈ ‘ سیکرٹری ورکرز ویلفےئر بورڈ ‘ صوبائی حکومت اور ورکرز ویلفےئر فنڈ اسلام آباد سے اٹھارہ جولائی تک جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کردےئے ۔