بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ‘خراب ہینڈ رائٹنگ’ پر طنز، بڑے بھائی کے ہاتھوں بہن قتل

‘خراب ہینڈ رائٹنگ’ پر طنز، بڑے بھائی کے ہاتھوں بہن قتل

لاہور: شالیمار پولیس نے خراب ہینڈ رائٹنگ کی وجہ سے طنز کرنے پر اپنی چھوٹی بہن کو مبینہ طور پر قتل کرنے والے 11 سالہ بچے کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 30 جون کو 9 سالہ ایمان تنویر کی لاش ان کی دادی کے گھر سے ملی تھی، جسے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا، پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اس سے قبل پولیس نے مقتول بچی کی سوتیلی والدہ صبا کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی، جنھیں بعدازاں رہا کردیا گیا۔

سول لائنز ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن حسنین حیدر نے مغل پورہ میں واقع اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بچی کو اس کے بڑے بھائی نے حسد کی بناء پر قتل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچی ایمان تنویر اور اس کا بھائی عبدالرحمٰن شالیمار میں اپنی دادی کے گھر عید کی چھٹیاں گزارنے آئے تھے۔

ایس پی نے بتایا کہ تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ بچوں نے ہینڈ رائٹنگ کا ایک مقابلہ منعقد کیا اور اس وقت ان کی دادی گھر پر موجود نہیں تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایمان نے اپنے بھائی کی خراب ہینڈ رائٹنگ پر طنز کیا، جس پر اس کے 11 سالہ بھائی نے غصے میں آکر ایمان کے گلے میں اسکارف ڈالا اور مبینہ طور پر گلا گھونٹ کر اسے قتل کردیا۔

ایس پی کے مطابق بعدازاں بچے نے اپنے ہاتھ کی نس بھی کاٹ لی اور خود کو کمرے میں بند کرلیا، تاکہ اپنا جرم چھپا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ بچوں کی دادی جب گھر واپس آئیں اور دروازے کو اندر سے بند پایا تو انھوں نے مدد کے لیے پڑوسیوں کو بلوایا، جنھوں نے آکر دروازہ توڑا، جہاں بچی مردہ حالت میں موجود تھی جبکہ اس کا 11 سالہ بھائی بھی زخمی تھا۔

انھوں نے بتایا کہ پڑوسیوں نے بچی کی لاش کو ہسپتال منتقل کیا اور پولیس کو واقعے سے متعلق آگاہ کیا۔

ایس پی حسنین حیدر کا کہنا تھا کہ پولیس نے پہلے تفتیش کے لیے بچوں کے والدین کو حراست میں لیا، لیکن تفتیش کے بعد بے گناہ ثابت ہونے پر انھیں رہا کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعدازاں جب مذکورہ بچے سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے ہینڈ رائٹنگ کے معاملے پر اپنی بہن کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔