بریکنگ نیوز
Home / کالم / ریمنڈ ڈیوس کی کتاب

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب


ریمنڈڈیوس کے اس انکشاف پر کسی بھی پاکستانی کو چنداں حیرت نہیں ہوئی کہ اسکی رہائی میں پاکستان کی بعض اہم شخصیات بشمول زرداری صاحب اور میاں نوازشریف نے اہم رول اد ا کیا بھئی یہ سب ایک جیسے ہیں ‘ان کی سب کمزوریوں سے واشنگٹن بخوبی باخبر ہے انکی پراپرٹی اور بینک بیلنس مغرب کے بینکوں میں ہیں انہیں خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کی کسی بات پر کان نہ دھرا اور وہ ا ن سے نالاں ہو گیا تو جس طرح امریکہ نے فلپائن کے صدر مارکوس کے وہ تمام بینک اکاؤنٹ منجمد کرا دیئے تھے کہ جو مغرب کے بینکوں میں تھے اور جن میں اربوں ڈالر پڑے ہوئے تھے کہ جو مارکوس نے اپنے اقتدار کو بروئے کار لاتے ہوئے بنائے تھے اس طرح امریکہ ان کی مغرب میں انویسٹ کی گئی رقومات کا حشر کر سکتا ہے ۔ اکثر مبصرین کا یہ خیال ہے کہ بھٹو کی پھانسی میں واشنگٹن کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن اگربھٹو میں امریکہ کے خلاف میدان میں کھڑے ہونے کی جرات تھی تو اس کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اسکا دامن کرپشن سے بالکل پاک صاف تھااور امریکہ میں پراپرٹی نہیں خریدی تھی امریکہ کے بینکوں میں اس کا بینک بیلنس نہ تھا وہ امریکہ کے صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت رکھتا تھا ذرا اپنے موجودہ نام نہاد رہنماؤں پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کیا آپ کو ان میں کوئی ایسا لیڈر نظر آتا ہے کہ جو کسی معاملے میں امریکہ کو انکار کر سکے ؟ کیایہ ضروری نہ تھا کہ آج اس ملک میں ایک ہمہ وقتی وزیر خارجہ ہوتا اور وہ بہ نفس نفیس مودی اور ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر پاکستان کا شدید رد عمل دینے کیلئے دنیا کے ہر ملک کے دارالحکومت کے دورے پر فوراً نکل پڑتا اور وہاں کے حکمرانوں کو یہ باور کراتا کہ بھارت اسرائیل اور امریکہ کیساتھ مل کر دنیا کو پاکستان کے بارے میں گمراہ کر رہا ہے وزیراعظم صاحب نے مودی کے حالیہ امریکہ کے دورے کے دوران امریکہ اوربھارت کی اعلیٰ قیادت کے بیانات پر جس رد عمل کااظہار کیا ہے وہ بڑا کمزور اور پھس پھسا سا تھا ور وہ پاکستانیوں کے جذبات کی بالکل ترجمانی نہیں کرتا ہمارے اکثر لیڈر تو پاؤں کے انگوٹھے سے لیکر سر کے بال تک کرپشن کے مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

جن کا نمبر آ چکا ہے وہ ہاتھ پیر مار رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح قانونی موشگافی کا سہارا لیکر وہ جیل کی سلاخوں سے بچ جائیں اور جن کا ابھی نمبر نہیں آیا ان کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو پھندا لگ گیا تو ان کا پھر کیا بنے گا ان کا دامن بھی تو کرپشن سے داغدار ہے وہ بھی پھر بچ نہ پائیں گے یہی غالباً بنیادی وجہ ہے کہ یہ لوگ حیران پریشان ہیں ان کی توجہ قومی امور سے ہٹ کر اپنے آپ کو نااہلیت سے بچانے پر مرکوز ہو چکی ہے ایک دور تھا کہ یہ لوگ بلیک میلنگ ‘ دھونس اور پیسوں سے اپنا کام چلا لیا کرتے تھے اب ان کے یہ پرانے آزمودہ حربے چل نہیں رہے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا یہ لوگ آخری دم تک کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس گرداب سے باہر نکل آئیں کہ جس میں وہ پھنس چکے ہیں لیکن بادی النظر میں ایسا ممکن نظر نہیں آ رہاہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پانامہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ قضیہ اب نمٹ ہی جائے کہ حکمرانوں اور اداروں کی توجہ عوام کی طرف ہوجائے ان کی توجہ ترقیاتی کاموں اور مسئلے مسائل کی طرف ہوجائے۔