بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / سوچ بچار!

سوچ بچار!

غلامی کے تلخ و تاریک حقائق کے بعد حسن ظن سے کام لیتے ہوئے امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے کام کرنیوالے سابق اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سے متعلق معروضات سے جس ایک حقیقت کے دستاویزی ثبوت مل گئے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں قانون اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا زور صرف اور صرف ان طبقات کی حد تک محدود ہے جو سیاسی اور مالی حیثیت نہیں رکھتے۔ ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی تفصیلات دیانتداری سے بیان کر دیں اور اگر پاکستان کے عوام بھی پوری دیانتداری سے بین السطور پیغام سمجھ لیں تو آئندہ عام انتخابات کے موقع پر اپنی رائے سے متعلق فیصلہ سازی کرنے میں آسانی رہے گی سب سے سنجیدہ بات یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی مذکورہ کتاب نے پاکستان کی سیاست اور سیاست کے تابع قانونی نظام سے متعلق چند ایسے سوال کھڑے کر دیئے جن میں بطورخاص قصاص اور دیت کے قوانین کا غلط استعمال کیا گیا ہے اور اکثر بااثر سرمایہ دار انہی شرعی قوانین کی وجہ سے سنگین جرائم کے باوجود بھی ملزم سے مجرم نہیں بن پاتے!کیا یہ طنز نشتر نہیں کہ ریمنڈ ڈیوس نے لکھ دیا ہے کہ پاکستان میں انکی رہائی کیلئے حکام نے قانون کا مذاق اڑایا۔درحقیقت وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں قانون نام کی جس شے کا وجود ہے اس میں غیرمعمولی لچک سے کوئی بھی اور کبھی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور بالخصوص کمزور طبقات قانون کا شکار جبکہ بااثر طبقات اِس سے محفوظ رہتے ہیں! اسکے علاوہ مارچ دوہزار گیارہ میں قاتل ریمنڈ ڈیوس کے مقدمے کی سماعت کے حوالے سے خفیہ ادارے کے اس وقت کے سربراہ کی کیس میں مداخلت کی خبریں سامنے آئیں تو حکومتی ذرائع نے انکی مخالفت کی تاہم ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سے واضح ہو گیا کہ پاکستان میں قصاص اور دیت کے قانون کا غلط استعمال پہلی مرتبہ نہیں لیکن اس مرتبہ ایک ایسے قاتل کو بچانے کیلئے کیا گیا جو جاسوس تھا اور جسکی حرکات مشکوک تھیں! کیا ریمنڈ ڈیوس کی سزا سے دیگر ایسے غیرملکی کارندوں کو سبق نہیں سکھایا جا سکتا تھا؟

ریمنڈ ڈیوس نے تو لکھ دیا کہ ’’قتل کئے جانے والے دونوں افراد کے قانونی ورثاء کو پاکستان نے خون بہا لینے پر مجبور کیا۔‘‘ اور لفظ ’’مجبور‘‘ اِس مقام پر کیا اپنی جگہ جرم نہیں؟امریکہ کے خفیہ ادارے کے اہلکار نے اپنے ساتھیوں کے نام اور شناخت تو تبدیل کی تاکہ اس نے پاکستان کو کہیں کا نہیں رکھا! ریمنڈ ڈیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول کے ورثاء کو شدت پسند اسلامی سوچ سے دور رکھنے کے لئے حکام نے چودہ مارچ دوہزار تیرہ کو مداخلت کرتے ہوئے مقتولین کے تمام اَٹھارہ قانونی لواحقین کو اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ ڈیوس کی کتاب کے مطابق سولہ مارچ کو ٹرائل سے قبل اس کیس کی پیروی کرنیوالے وکیل اسد منظور بٹ ان تمام افراد سے فون پر رابطہ نہیں کرسکے جبکہ ان لوگوں کے ہمسائیوں نے بھی اسد منظور بٹ کو ان کے اچانک لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ واضح رہے کہ اسد منظور بٹ یہ مقدمہ بلامعاوضہ لڑ رہے تھے۔ کتاب میں بتایا گیا کہ اگر یہ لوگ ڈیوس کو معاف کرنے پر رضا مند ہو جاتے تو انہیں بدلے میں بھاری رقم دی جاتی جبکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے اس فیصلے کے نتائج اگلی صبح صاف نظر آرہے تھے جب انہیں کورٹ روم کے باہر گن پوائنٹ پر وارننگ دی گئی تھی کہ وہ میڈیا کے سامنے اپنا منہ نہ کھولیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی جاسوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قصاص اور دیت کے قانون پر انحصار کرنا ان کا پہلا انتخاب نہیں تھااپنی آزادی کو محفوظ بنانے کیلئے قصاص کا قانون میرا پہلا انتخاب نہیں ہوتا لیکن امریکی قونصل جنرل (کارمیلا کونرائے) نے اس قانون کے حوالے سے مجھے بہترین طرح سے واضح کیا۔ کتاب میں بتایا گیا کہ جب کارمیلا کونرائے نے انہیں بتایا کہ انکا کیس مذہب اسلام کے تحت شرعی عدالت میں چلایا جائے گا تو وہ بے حد پریشان ہوگئے اور امریکی قونصل جنرل سے کہا کہ ’مجھے یقین نہیں آرہا کہ پاکستانی میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں! کیا میں ایک ٹوسٹ ہوں‘ یہ لوگ مجھے قید خانے سے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جائیں گے اور مجھے پتھروں سے مار مار کر قتل کر دیں گے؟ کتاب کے مطابق امریکی قونصل جنرل نے ریمنڈ ڈیوس کو یقین دلایا کہ اسلامی شرعی قانون کے تحت مرنے والے افراد کے لواحقین کو خون بہا دیا جاسکتا ہے جسے لواحقین قبول کرنے کیلئے تیار ہیں! قانونی حلقے ریمنڈ ڈیوس کی کتاب اور اس میں جن قانونی پہلوؤں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے‘ اُسے نہایت سنجیدگی اور باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ آئندہ قانون کے ایسے کسی بھی ’استفادے‘ کو کس طرح روکا جا سکتا ہے؟!