بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / سچ کے چہرے پر نقاب

سچ کے چہرے پر نقاب

سچ اصل حالت میں سامنے نہیںآرہا پروپیگنڈا‘ الزامات ‘ سوالات اور جھوٹ ‘سچ کے چہرے پر کئی نقاب پڑے ہیں،صورتحال ماضی کی سیاسی چپقلشوں کی یاد دلا رہی ہے 90ء کی دہائی میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو قبل ازوقت رخصت کیا گیا تواس پر سب سے بڑا الزام بدعنوانی کا تھا حکومت رخصت ہو گئی لیکن اسکے بعد حکومت پرلگایا جانیوالا بدعنوانی کا الزام بھی اپنی موت آپ مر گیا کسی ادارے ‘کسی فورم کی سطح پر اس فیصلے تک پہنچنے کی کوشش نہیں ہوئی کہ اس حکومت کو کرپشن کے جن الزامات کے تحت قبل از وقت چلتا کیا گیا تھاان میں کتنی حقیقت تھی؟ بعد ازاں بعد جب وزیر اعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف کی پہلی حکومت کو آئینی مدت تکمیل سے قبل چلتا کیا گیا تو اس وقت بھی الزامات کی فہرست میں کرپشن سر فہرست تھی اگرچہ وہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر بحال ہوئی لیکن اسے چلنے نہیں دیا گیا اور نتیجتاً میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ انکی حکومت اور اسمبلیاں سب فارغ ہو گئے یہ ضرور تھا کہ وزیر اعظم خود جاتے جاتے اس وقت کے صدر اورغلام اسحاق خان کو بھی ساتھ لے گئے تھے اس حکومت کی رخصتی کے بعد بھی اس پر لگائے جانیوالے کرپشن کے الزام کے سچے یا جھوٹے ہونے کا کھوج لگانے کیلئے نہ تو کوئی سیاسی یا سماجی دباؤ نظر آیا اور نہ ہی کسی سطح پر از خود تحقیقات کا عمل وقوع پذیر ہواپی پی پی کے دوسرے دوراقتدارکو اس کے اپنے ہی صدر کے ہاتھوں لپیٹنے کی بنیاد بھی کرپشن کے الزام پر رکھی گئی( یہاں یہ ذکر بھی دلچسپ ہوگا کہ پی پی پی نے فاروق لغاری کے صدر مملکت بنتے وقت بھی اسی طرح خوشی و مسرت کا اظہار کیا تھا جسطرح مسلم لیگ (ن) نے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ آنے پر کیا لیکن جس طرح فاروق لغاری کے غیر مرعی قوتوں کی ایماء پر پی پی پی حکومت کے درپے ہو جانے کے بعد پارٹی انکی مخالف ہو گئی تھی۔

اسی طرح پانامہ تحقیقات کا عمل شروع ہونے کے بعدجے آئی ٹی سے متعلق ویسے ہی شکوک و شبہات نے مسلم لیگ (ن) کو جے آئی ٹی سے متنفر کر دیا ہے )،خیر ذکر ہو رہا تھا نوے کی دہائی میں حکومتوں کی قبل از وقت رخصتی کا، میاں نواز شریف کے دوسرے دور اقتدار کوگرچہ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء نے ٹھوکر ماری تاہم پرویز مشرف کے اس اقدام سے پہلے ہی اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں گو نواز گو کے نعرے کے تحت حکومت گرانے کیلئے میدان میں آچکی تھیں اوران کے حکومت مخالف الزامات میں بھی کرپشن کا الزام سب سے نمایاں تھااس حکومت کی قبل از میعاد رخصتی کے بعد بظاہر تو بدعنوانی کے خاتمے کیلئے اقدامات کا بڑا شور اٹھا قومی احتساب بیورو کا قیام بھی عمل میں آیا لیکن قبل از وقت رخصت کی جانے والی مذکورہ حکومت پر لگنے والے کرپشن کے الزام کواس بار بھی منطقی انجام تک نہیں لے جایا گیا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بدعنوانی کے ایشو کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا اس ایشو کی بنیاد پر منتخب حکومتوں کی آئینی مدت تکمیل سے قبل رخصتی کی راہ ہموار کرنا اور پھر اس ایشو کو فراموش کر دینا مختلف ادوار میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے جبکہ اس مشغلے کو نتیجہ خیز بنانے میں اصل کردار پس پردہ متحرک قوتیں ادا کرتی رہی ہیں۔

موجودہ صورت حال ماضی سے اس لحاظ سے قدرے مختلف ہے کہ اس مرتبہ وزیر اعظم پر لگنے والا کرپشن کا الزام حکومت کے قبل از وقت خاتمے سے قبل عدالت کی زیر سماعت آگیا ہے،ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ اس الزام کو شروع دن ہی سے مکمل طور پر عدالت عظمیٰ پر چھوڑ دیا جاتا اور سیاسی جماعتیں خود کو اس سے لاتعلق کر لیتیں تاکہ حقیقی معنوں میں سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جاتا لیکن اس قضیے کو پچھلے ایک سال سے زائد عرصے کے دوران جس طرح سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ عدالت پر اثرانداز ہونے اور مخصوص اہداف تک رسائی کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور اس دوران بالخصوص جے آئی ٹی کی تشکیل کے موقع پر اور اس کے بعد جو بعض مخصوص’’ ڈویلپمنٹس‘‘ ہوئی ہیں انھوں نے معاملے کو شدید طور پر متنازعہ اور گنجلک بنا دیا ہے، خدشہ یہی ہے کہ بدعنوانی کے ایشو کو اس مرتبہ بھی سیاسی جماعتیں اور پس پردہ قوتیں مخصوص اہداف کی تکمیل کیلئے استعمال کریں گی ، باالفاظ دیگر یہ جو دعویٰ کیاجا رہا ہے کہ’’ وزیر اعظم کا احتساب ملک میں اوپر سے نیچے تک احتساب کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کوجنم دے گا ‘‘ یہ دعویٰ بھی اُن سیاسی نعروں جیسا ایک نعرہ ثابت ہو گا جن کے زور پر وقتی طور پر تو پاکستان کے عوام کی ہمدردیوں اور سپورٹ کا حصول یقینی بنالیا جاتا ہے لیکن جو عمل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے ۔