بریکنگ نیوز
Home / کالم / خارجہ پالیسی : نئی جہتیں

خارجہ پالیسی : نئی جہتیں

پاکستان کی خارجہ پالسی متوازن رہی ہے‘ جس میں خطے اور عالمی سیاسی صورتحال کا خیال رکھا گیا ہے جبکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ چین کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت اور سیاسی اثرورسوخ سے خائف ہے اور پاکستان کی چین اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوششوں کو بھی امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے اس تناظر میں یقیناًپاکستان نہیں چاہتا کہ اسکے امریکہ اور یورپ سے تعلقات خراب ہوں اور نہ ہی امریکہ سے اس کے دہائیوں پر محیط تعلقات داؤ پر لگیں لیکن کیا پاکستان اس سب کیلئے کشمیر کو پس پشت ڈال دیگا؟ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے متضاد اطلاعات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل نہیں ہوئی‘ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی حمایت کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے مہم چلائی اور وزیراعظم کی ہدایت پر اس مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔ بلاشبہ پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ برہان مظفروانی کی رواں ہفتے پہلی برسی ہے۔ مظفروانی کی بھارتی سفاک فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو نئی جہت ملی۔ کشمیری عوام بھارت کیخلاف کھل کر مظاہرے اور احتجاج کرنے لگے انہوں نے کرفیو کی پروا کی‘ نہ سکیورٹی فورسز کی‘ نہ بربریت کو خاطر میں لائے۔ پیلٹ گنوں کا ہولناک استعمال بھی ان کو احتجاج سے نہ روک سکا اس مہلک ہتھیار سے سینکڑوں کشمیری شہید اور دس ہزار سے زیادہ شدید متاثر ہوئے اکثر کی بینائی جاتی رہی اور کئی مستقلاً اپاہج ہوگئے۔

پاکستان کا وانی کی شہادت کے تناظر میں زور پکڑتی تحریک آزادی میں کردار مناسب رہا پاکستان نے صرف بھارت کی مذمت ہی پر اکتفا نہیں کیا‘ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے پارلیمانی وفود بیرونی ممالک بھجوائے یورپی یونین اور سلامتی کونسل کے ارکان ممالک کے سفیروں کو خصوصی طور پر بریف کیا گیاپاکستانی سفیروں کو مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے پاکستان میں طلب کرکے خصوصی ٹاسک دیا گیا مشیر خارجہ بجا طور پر کہتے ہیں کہ مظفروانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی حمایت کے حوالے سے بڑی مہم چلائی گئی وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر اس مہم کو مزید اجاگر کیا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر اڑسٹھ سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے۔ اس میں تیزی کیلئے برہان وانی کی شہادت کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے‘ نہ وزیراعظم کی ہدایت کی ضرورت ہے یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر نہ صرف کشیدگی کا سبب ہے بلکہ خطے کا امن بھی اس مسئلہ کی لپیٹ میں ہے۔ اسی مسئلہ کے باعث پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں ہوچکی ہیں اور بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ایک اور تباہ کن جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ بھارت ہمہ وقت اس جنگ کی تیاری میں مصروف ہے جسکا ثبوت اسکے درجن بھر ممالک سے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاہدے ہیں معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کا کہنا ہے کہ انیس سو باسٹھ کے بعد سے بھارت نے بہت ترقی کی ہے۔ فوجی طاقت کے معاملے میں بھی بھارت کافی مضبوط ہوا ہے لیکن چین کے مقابلے میں تو بھارت کچھ بھی نہیں ہے۔ بھارت چین کا مقابلہ بہت مشکل سے کر پائیگا۔ کشیدگی والے علاقے میں بھارت کے پاس نہ تو کوئی میزائل رجمنٹ ہے اور نہ ہی کوئی ٹینک جبکہ چین اڑتیس ٹن کے ٹینک کا تجربہ اس علاقے میں کرنے والا ہے جہاں چین اور بھارت کے درمیان اختلاف ہے بھارت کی فوج کے لئے آج بھی وہاں اشیاء خوردونوش کی فراہمی بذریعہ جانور ہوتی ہیں یا پھر ائر ڈراپ کیا جاتا ہے تو بھارت طرح سوچ بھی سکتا ہے کہ وہ چین کا مقابلہ کرے گا ۔

جہاں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بات ہے تو اس کا جھکاؤ عموماً امریکہ کی طرف رہتا ہے مگر امریکہ کی فریب کاری کے باعث پاکستان بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہے‘ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے جسے عالمی طاقتیں تسلیم نہیں کر رہیں! حالیہ دنوں کی خاص بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ کیساتھ تعلقات اپنی جگہ پر ہیں اور معاہدوں پر عمل بھی ہورہا ہے لیکن اسکے ساتھ چین کیساتھ پاکستان کے تعلقات میں مزید گرم جوشی خوش آئند ہے اور روس کیساتھ تعلقات میں سردمہری اور کشیدگی کا خاتمہ کیا گیا ہے دفاع کے حوالے سے امریکہ سے تعلقات پاکستان کی مجبوری بھی ہے پاکستان امریکہ کے ساتھ دشمنی مول نہیں لینا چاہتا امریکہ کے پاس پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں ہے۔ معروضی حالات میں پاکستان کے لئے چین اور روس کیساتھ مزید قربت ناگزیر تھی جسکا پاکستان کو ادراک ہے اور اس تناظر میں خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رفعت حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)