بریکنگ نیوز
Home / کالم / چھٹیاں اور ٹریفک

چھٹیاں اور ٹریفک

کراچی سے گلگت تک اور لاہور سے خیبر تک اگر کوئی مسئلہ سراٹھا کر بول رہا ہے تو وہ ٹریفک کا مسئلہ ہے‘ ہمارے اس غریب ترین ملک میں لگتا ہے کہ لوگ پیدل چلنا بھول ہی گئے ہیں جن سڑکوں پر ہم اپنے بچپن میں کوئی لاری یا ٹرک دیکھ کر خوشی سے تالیاں پیٹا کرتے تھے اب ان سڑکوں پر سڑک پار کرنا مسئلہ بنا ہوا ہے‘ گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کسی طرح ٹریفک کا زور کم ہو اور ہم سڑک پار کر سکیں‘یہ میں شہروں کی بات نہیں کر رہا کہ جہاں پیدل چلنے والوں کو اوور ہیڈبرج بنا کر دے دیئے گئے ہیں کہ اگر آپ کو سڑک کی دوسری جانب جانا ہی ہے تو پل کے اوپر سے ٹریفک کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے دوسری سمت چلے جائیں مگر ہم نے یہاں بھی اپنی عادت کو فراموش نہیں کیا اور سڑک کے درمیان لگے جنگلوں کو بندروں کی طرح پھلانگتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور اس تگ و دو میں اگر کسی گاڑی سے ٹکر کھا لیں تو بھی پرواہ نہیں ہے اسلئے کہ اس صورت میں ہمیں تو ہسپتال میں لے جایاجائیگااوربے چارہ گاڑی والا مفت میں جیل کی روٹیاں توڑے گا حالانکہ قصور اس بیچارے کا ایک فیصد بھی نہیں ہو گا‘ چھٹیوں کے دنوں میں رش کا عالم یہ ہوتا ہے کہ گاڑیوں کا ایک دوسرے سے آگے نکلنا مشکل ہوتا ہے‘ ایسے میں ہماری نئی نویلی کاروں والے چاہے وہ پرائیویٹ ہوں یا سرکاری گاڑیوں کے سوار ہوں‘ کسی سے پیچھے رہنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور اگر سڑک کا حصہ اوور ٹیکنگ کے لئے منع ہی کیوں نہ ہو وہ اپنی گاڑی کو ضرور دوسروں سے آگے لے جائینگے اور اس کوشش میں جو حشر ٹریفک کا ہوتا ہے وہ ہر روز ہی نظر آتا ہے۔

جب چھٹیاں ہوں اور لوگوں کو کسی پر فضا مقام پر جانا ہو تو پھر تو مسئلہ ہی اور ہو جاتا ہے‘ ہمارے بڑے افسروں کے خاندان لمبی سیر کو نکل پڑتے ہیں اور چونکہ ان کا پٹرول عوام کے ذمہ ہوتا ہے اسلئے انکو پرواہ نہیں ہوتی اور ہر کوئی اسلام آباد سے ناران کاغان گلگت اور چترال کی سیر کو چل پڑتا ہے او رڈرائیور پر زور دیا جاتا ہے کہ جلد از جلد اس مقام تک پہنچے جہاں انہوں نے جانا ہے‘ پھر ڈرائیور یہ نہیں دیکھتا کہ اُسکی دوسری گاڑیوں کو اوورٹیک کرنے کا کیا نتیجہ ہو گا یوں وہ اپنی منزل پر تیزی سے پہنچنے کی تگ ودو میں ٹریفک جام کا سبب بنتاہے اور نہ وہ خود منزل تک پہنچتا ہے اور نہ دوسروں کو آگے جانے کا موقع دیتا ہے‘اسی طرح وہ نودولتیے جن کو نئی گاڑیاں تو مل گئی ہیں مگر ان کوٹریفک کے قوانین کا معلوم نہیں ہے یا وہ ٹریفک قوانین کوپاؤں تلے روندنا اپنی بڑائی سمجھتے ہیں وہ اس ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں ایک یا دو منٹوں کے فرق سے بچنے کیلئے وہ خود بھی گھنٹوں خوار ہوتے ہیں اور دیگر لوگوں کی بھی خواری کا سبب بنتے ہیں‘ اس دفعہ کی عید کی چھٹیوں میں ایسے مناظر مری ‘ گلیات اور ایبٹ آباد کے رستوں پر عام دکھائی دیئے ہیں اسکی بڑی وجہ نو دولتیے اور سرکاری افسروں کی فیملیاں بنی ہیں۔ہماری مرکزی حکومت کے افسران با لخصوص ان ٹریفک جام کا سب بنے ہیں‘گو ہماری ٹریفک پولیس نے ٹریفک کو رواں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مگر اب اسلام آباد سے کاغان تک اور اسلام آباد سے گلیات اور مری تک ہر قدم پر پولیس تو کھڑی نہیں ہو سکتی ۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بہت سی ایسی گاڑیا ں ٹریفک کے اصولوں کو پامال کرتی دکھائی دیں کہ جنکے آگے ٹریفک پولیس کے سارجنٹ بھی بے بس تھے ‘ اسلئے کہ ایک بڑے افسر کی گاڑی کو نہ تو ٹریفک سارجنٹ روک سکتا ہے اور نہاُس کا چالان کر سکتا ہے اسلئے کہ ایک سارجنٹ اور ایک بائیس گریڈ کے افسر میں سولہ گریڈوں کا فاصلہ ہوتا ہے جو ایک سارجنٹ عبور نہیں کر سکتا۔