بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان 50ہزار میگاواٹ بجلی بنا سکتا ہے ٗ عمران خان

پاکستان 50ہزار میگاواٹ بجلی بنا سکتا ہے ٗ عمران خان

چترال ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جو پاناما ہو رہا ہے یہ پاکستان کی تاریخ بدل رہی ہے۔ پہلی بار بڑے بڑے ڈاکوؤں کا احتساب ہو رہا ہے۔ ہر سال پاکستانی قوم کا ایک ہزار ارب روپے چوری ہو کر باہر چلا جاتا ہے۔ نواز شریف اور اسحاق ڈار کے بچے ارب پتی ہو گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے سامنے تلاشی ہو رہی ہے، جب چھوٹا چوری کرتا ہے اس سے معاشرے کو نقصان نہیں ہوتا، جب وزیراعظم اور وزیر خزانہ چوری کرتے ہیں تو ملک کو تباہ کر دیتے ہیں، کہتے ہیں ہمارے اوپر کتنا ظلم ہو رہا ہے، نوازشریف کے چوسنی دیئے ہوئے 45 سالہ بچے کو جس کے اپنے سات بچے ہیں کو کرسی پر بٹھا دیا، سنا ہے اب شہزادی بھی آ رہی ہے شور مچا ہوا ہے۔

ان خیالات کا اظہار عمران خان نے چترال میں لاوی ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ اور پانی کے منصوبہ کا افتتاح کرنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پینے کا پانی سارے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ دنیا میں سب کے بچے گندہ پانی پینے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے پاکستان میں مرتے ہیں۔ کراچی ہمارا سب سے امیر شہر ہے مگر وہاں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں ملتا۔ وہاں کرپٹ ٹینکر مافیا پیسہ بناتا ہے۔ ریاست اپنا کام نہیں کرتی۔ اس لئے لوگوں کو پانی لینے کے لئے رشوت دینا پڑتی ہے۔ پنجاب کا 57 فیصد ترقیاتی بجٹ لاہور پر خرچ ہوتا ہے اور لاہور میں 60 سے 70 فیصد لوگوں کو پینے کا پانی نہیں ملتا پتہ نہیں شاہ فرمان دو تین سال کیا کرتے رہے اب یہ جاگے ہیں۔ اب انہوں نے پانی دینے کے کام پر تیزی سے کوشش شروع کر دی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو پانی فراہم کرے۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک کے علاقوں کو پانی کی شدید ضرورت ہے۔ اب ہم وہاں جائیں گے اور دیکھیں گے۔ شاہ فرمان کی کیا کارکردگی ہے۔ پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ بجلی ہے۔ بجلی اگر ہے تو سب سے مہنگی بجلی ہے جو بجلی بنائی جا رہی ہے وہ باہر سے فیول منگوا کر بنائی جا رہی ہے۔ ڈالر خرچ کر کے ہمیں تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہیں۔ اس لئے ہمیں قرضے لینا پڑتے ہیں اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔

قرضے واپس کرنے کے لئے آئی ایم ایف کہتی ہے لوگوں پر ٹیکس لگاؤ۔ ہر 100 روپے کے موبائل فون کارڈ پر 35 سے 40 روپے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اگر بجلی پانی اور گیس سے بنے تو ہمیں ڈالر اور قرضے نہیں لینے پڑیں گے۔ پانی سے ساڑھے چار روپے یونٹ بجلی بنتی ہے۔ اس بجلی سے آلودگی نہیں ہوتی اور ماحولیات خراب نہیں ہوتی۔ کوئلے سے بجلی بننے سے آلودگی ہوتی ہے اور ماحولیات خراب ہوتی ہے۔ آلودگی انسان کی زندگی 11 سال کم کر دیتی ہے۔ چین میں کوئلے کے 16 منصوبے آلودگی کی وجہ سے بند کر دیئے گئے ہیں۔

ہمارے حکمران کمیشن اور پیسے بنانے کے لئے کوئلے اور فرنس آئل کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پانی سے بنائی جا سکتی ہے۔ چترال میں 2900 میگاواٹ بجلی پانی سے بنائی جا سکتی ہے۔ کے پی کے حکومت میں صوبہ میں 200 سے زائد مائیکرو ہائیڈل منصوبے بن چکے ہیں۔ 375 مزید سال کے آخر تک بنانے ہیں اور ایک ہزار کی فزیبلٹی بنائی ہوئی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے دیہات کو بجلی 24 گھنٹے مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دیہات میں 12,13 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اے این پی والے کہتے ہیں۔ لاوی منصوبہ ان کا تھا اگر یہ منصوبہ اے این پی کا تھا تو پہلے کنٹریکٹر تو ہائر کر لیتے۔ پھر منصوبہ کا اعلان کرتے۔ یہ اس طرح ہے کوئی کہ میں نے کالا باغ ڈیم بنا دیا ہے۔ اس کی 50 سال پہلے تختی رکھی گئی تھی۔ پتہ نہیں کالاباغ ڈیم منصوبہ بنے گا بھی کہ نہیں۔ یہ کہنا کہ میں نے تختی لگا دی تو منصوبہ بن گیا۔ یہ لوگوں سے دھوکہ کرنا ہے۔ چترال کے لوگ دھوکہ کھانے والے نہیں جو کوئی چترال کے لوگوں کے لئے کچھ کرتا ہے لوگ اس کو ووٹ دیتے، جنرل مشرف کو آپ نے ٹھیک ووٹ دیئے،مشرف نے لواری ٹنل بنایا، اب اس پر مزید کام ہو رہا ہے۔

یہ وفاق کے تحت ہے۔ اگر ہمارے ماتحت ہوتا ہم بڑی دیر سے ٹنل کو صحیح کر چکے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے کے پی پولیس پر فخر ہے۔ ایسی پولیس کسی اور صوبے میں نہیں ملے گی۔ جان اور مال کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپشن ہر برائی کی جڑ ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو پانامہ ہو رہا ہے یہ پاکستان کی تاریخ بدل رہی ہے۔ پہلی دفعہ بڑے بڑے ڈاکوؤں کا احتساب ہو رہا ہے۔ جب تک یہ چوری اور لوٹ مار نہیں رکے گی عوام کا پیسہ لوٹ مار کر کے باہر جا رہا ہے۔

ہر سال ایک ہزار ارب روپے چوری ہو کر باہر چلا جاتا ہے۔ اسحاق ڈار کے بچے اور نوازشریف کے بچے اربوں پتی ہو گئے۔ یہ پہلی دفعہ ہے قوم نے میرے ساتھ مل کر جدوجہد کی۔ اب ان کی پہلی مرتبہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے سامنے تلاشی ہو رہی ہے۔ چھوٹے چوروں کو پکڑنے سے چوری نہیں رکتی۔ بڑے بڑے مگرمچھوں کو پکڑنے سے کرپشن رکتی ہے۔ عمران خان کا پیسہ نہیں چوری ہو رہا ہے یہ چترال کے لوگوں کا چوری ہو رہا ہے۔ یہ پیسہ اس وقت پاکستان میں خرچ ہو گا۔ جب بڑے بڑے ڈاکو پکڑے جائیں گے۔

جھوٹا چور چوری کرتا ہے۔ اس سے معاشرے کو نقصان نہیں ہوتا۔ جب وزیراعظم اور وزیر خزانہ چوری کرتے ہیں تو یہ ملک کو تباہ کر دیتے ہیں۔ گذشتہ روز اسحاق ڈار کی شکل دیکھی تھی ان کا کمال ہے یہ چوری کرتے ہیں پھر معصوم اور مظلوم سی شکل بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ ہمارے اوپر کہ نوازشریف کے چوسنی دیئے ہوئے بچے کو جو صرف 45 سال کا ہے اور اس کے اپنے صرف سات بچے ہیں۔ اس کو کرسی پر بٹھا دیا۔ مظلوم کو کرسی پر بٹھایا ہوا ہے۔ کتنا ظلم کیا ہے اور اب میں نے سنا ہے شہزادی بھی وہاں آ رہی ہے۔ شور مچا ہوا ہے۔ خاتون کو بلا لیا۔ بے چاری بے نظیر بھٹو کو ضیاء الحق کے زمانے میں بلانے کو سارے بھول گئے جو اور عورتوں سے ہوتا وہ بھول گئے ہیں۔ شہزادی سے سوالات کئے جا رہے ہیں۔ چترال کے لوگو! یہ ہے نیا پاکستان کہ طاقتور اور کمزور قانون کے سامنے برابر ہوں گے۔ اسے قانون کی بالادستی کہتے ہیں۔ پاناما کی وجہ سے علاقہ میں زیادہ نہیں آ سکا اب دو تین دن ادھر ہی ہوں۔