بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان میں بحالی کرکٹ کیلئے کسی کی منت نہ کی جائے ٗ نواز شریف

پاکستان میں بحالی کرکٹ کیلئے کسی کی منت نہ کی جائے ٗ نواز شریف

اسلام آباد۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم ہر میدان میں فاتح ہیں اللہ کا کرم اگر ساتھ رہے تو گزرا ہوا کل بھی اپنا تھا آنے والا کل بھی اپنا ہے اصل لیڈر اور وزیر اعظم ہمارے کرکٹر ہیں ہم تو ٹائٹل کے وزیر اعظم ہیں جس کی اپنی خواہش آپ جیسے ہیروز سے ملنے کی ہوتی ہے قومی ٹیم نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا 2013میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالت ایسی تھی جیسی پاکستان کی تھی شہریار اور نجم سیٹھی سے درخواست ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے لیے کسی ٹیم کی منت نہ کریں جو خوشی سے آنا چاہے بسم اللہ ۔

وزیر اعظم ہاؤس میں چیمپیئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سرفرازکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں میں آپ کو سرفرازاحمد کہوں یا سرفراز احمدخان کہوں مایہ ناز یہاں بیٹھے پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑیوں اور ہیروز کو خوش آمدید کہتا ہوں مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ میری دعوت پر یہاں تشریف لائے ہیں ۔ جیساکہ پوری پاکستانی قوم کویہ چاہت اور خواہش ہے کہ وہ آپ کھلاڑیوں کو سامنے دیکھے آپ سے بات کریں۔

اسی طرح سے میری بھی خواہش ہے کہ میں بھی آپ کو دیکھوں اور آپ سے ہاتھ ملاؤں اصل لیڈرتو آپ ہیں ۔ وزیراعظم بھی آپ ہیں ہم تو صرف نام اور ٹائٹل کے وزیراعظم ہیں جن کی اپنی خواہش ہوتی ہے کہ ہیروز کو ملا جائے اصل ہیروز آپ ہیں ہمیں بڑا فخر ہے کہ آپ نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا پاکستان کو عزت بخشی اور ساری زندگی کرکٹ دیکھتا آیا ہوں اور کافی عرصہ تک کھیلا بھی ہوں مجھے کرکٹ کھیلنے کا اتنا شوقت ہوتا تھا کہ رات بھر نیند نہیں آتی تھی ۔

فائنل میچ میں پوری قوم کی دعا اپنی ٹیم کے ساتھ تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ میری بھی ہر لمحہ دعا آپ کے ساتھ تھی دعا تھی اللہ کرے پاکستان یہ میچ جیتے جس طرح ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو یقیناًسب کیلئے تکلیف دہ تھا وہ ایسا ہی تھا جیسا 2013میں جب ہماری حکومت آئی تو ایسا لگ رہا تھا کہ 6مہینے میں خدانخواستہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گاپاکستان کی بھی یہی حالت تھی جو میچ کے پہلے دن آپ کی تھی ۔ اللہ کے فضل سے آہستہ آہستہ پاکستان اپنی منزل کی طرف چلا نکلا۔ آج اللہ کے فضل سے پاکستان تیز ترین ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ 2013میں پاکستان اندھیروں میں ڈوبا ہواتھا دہشتگردی میں لت پت تھا اس وقت پاکستان میں عجیب و غریب منظر تھا ۔

آج ماشاء اللہ پاکستان میں دہشتگردی کی کمر ٹوٹ رہی ہے ۔ خوشحالی آرہی ہے مجھے بتایا گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں ہر طرف ٹورسٹ آئے ہوئے ہیں ۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی حال ہے یہ فنامنادوتین سالوں سے سن رہا ہوں اس سے پہلے میں نے کبھی بھی ٹورسٹ کے حوالے سے نہیں سنا ۔ سڑکیں اور موٹرویز بن رہی ہیں بجلی کے کارخانے لگ رہے ہیں ۔ ترقی کے حوالے سے پاکستان آج دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے اگر ہمیں اگلے 20سے 30سال استحکام کے مل جاتے ہیں تو انشاء اللہ بہت سے ملک ہمارے پیچھے رہ جائیں گے اور ہم بہت سارے ملکوں سے آگے نکل جائیں گے اگر ترقی ہوگی تو ٹیمیں بھی اچھا کھیلیں گی پاکستان کا نام بلند ہوگامیں شہر یار اور نجم سیٹھی سے گزارش کرتا ہوں کہ کسی ٹیم یا کسی ملک کی منت نہ کریں کہ آؤ پاکستان میں کھیلواگر خوشی سے آتے ہیں تو آئیں سو بسم اللہ جو نہیں آنا چاہتے ان کی منت نہ کریں ۔ ہمارا بھی اپنا ایک مقام ہے اور عزت ہے انشاء اللہ ایک وقت آئے گاجب سارے لوگ آپ کے پاس بھاگے بھاگے آئیں گے۔

آنے والا وقت پاکستان میں ترقی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کا ہوگا۔ کھیلیں بھی عروج پر جائیں گی ۔ ۔ نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے چیمپیئنز ٹرافی فائنل کا پورا میچ دیکھا اور کھانا بھی وہیں کھایا جہاں ٹی وی لگا ہوا تھا، جیسے ہی پاکستان میچ جیتا تو میری صاحبزادی مریم آئیں اور انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ کوئی پیغام دیں گے تو جو ویڈیو اپنے دیکھی جس میں میں ویل ڈن ویل پلیڈ کہہ رہا ہوں وہ ویڈیو مریم نے ہی بنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے 2013 میں حکومت سنبھالی تھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان خدانخواستہ دیوالیہ ہوجائے گا اور ایسی حالت پاکستان کرکٹ ٹیم کی چیمپیئنز ٹرافی کے آغاز میں تھی۔وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بچپن کی یاد حاضرین سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں جب وہ گرانڈ میں کھیلنے جاتے تھے تو گرانڈ پر بڑے لڑکوں کی اجارہ داری ہوتی تھی اور ایک دن ان لڑکوں نے گراؤنڈ سے ہمیں باہرنکال دیا تھاجس پر اتنی تکلیف ہوئی تھی کہ اتنی تکلیف آج پاناما کیس اور جے آئی ٹی سے بھی نہیں ہوتی۔

تقریر کے اختتام پر وزیراعظم نوازشریف نے شعر پڑھاہم ہر میدان میں فاتح ہیں اللہ کا کرم گر ساتھ رہے گزرا ہوا کل بھی اپنا تھا آتا ہوا کل بھی اپنا ہے اس کو آپ کسی بھی طرف لے جاسکتے ہیں۔بعد ازاں چمپیئنز ٹرافی کی فاتح قومی ٹیم کے کھلاڑیوں میں انعامی رقم تقسیم کردی گئی کا ؤنٹی کرکٹ کیلئے انگلینڈ میں موجود پیسر محمد عامر تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ محمد عامر کا چیک پی سی بی کے مینیجر نے وصول کیا۔ کوچ مکی آرتھر و دیگر غیرملکی کوچز بھی اپنے اپنے ملک میں موجودگی کے سبب تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور ان کے چیک بھی پی سی بی عہدے داران نے وصول کیے۔

تفصیلات کے مطابق چمپیئنز ٹرافی کی فاتح قومی ٹیم کے کھلاڑیوں میں انعامی رقم تقسیم کردی گئی کا ؤنٹی کرکٹ کیلئے انگلینڈ میں موجود پیسر محمد عامر تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ محمد عامر کا چیک پی سی بی کے مینیجر نے وصول کیا۔ کوچ مکی آرتھر و دیگر غیرملکی کوچز بھی اپنے اپنے ملک میں موجودگی کے سبب تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور ان کے چیک بھی پی سی بی عہدے داران نے وصول کیے۔