بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ٹرمپ مودی ملاقات

ٹرمپ مودی ملاقات

گزشتہ چھ ماہ میں کئی ملکوں کے سربراہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کیلئے وائٹ ہاؤس گئے ان میں برطانیہ ‘ جرمنی ‘ چین ‘ اسرائیل ‘ انڈیا اور جنوبی کوریا کے رہنما نمایاں تھے ان ملاقاتوں کے بارے میں امریکی اور یورپی میڈیا نے جو کچھ کہا وہ انہیں ناخوشگوارثابت کرنے کیلئے کافی ہے فروری کے پہلے دن جب برطانوی وزیر اعظم Theresa May روز گارڈن میں اخبار نویسوں سے گفتگو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ اوول آفس جارہی تھیں تو صدر امریکہ نے اچانک انکا ہاتھ تھام لیا اس واقعے پرطانوی میڈیا میں خوب لے دے ہوتی رہی ایک اخبار نے اس تصویر کے نیچے لکھا indelible, weired interaction یعنی انمٹ اور بھونڈا باہمی تعامل ‘ دوسرے اخبار نے چٹکی کاٹی Who could forget that uncomfortable clutch یعنی کون وہ تکلیف دہ گرفت بھول سکتا ہے وائٹ ہاؤس سے واپسی کے بعدلندن میں کئی روز تک وزیر اعظم اس مڈبھیڑ کے بارے میں رپورٹروں کی تسلی و تشفی کی کوشش کرتی رہیں سولہ مارچ کو اوول آفس میں جرمنی کی چانسلر انجیلا مارکل اور صدر ٹرمپ کی ملاقات نے مغربی دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا اس روز ایک فوٹوگرافر نے صدر ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ مہمان سے مصافحہ کریں تو اسکے جواب میں صدر امریکہ خاموش رہے تھے اگلے روز امریکہ اور یورپ کے اخبارات نے یہ سرخی جمائی تھی Donald Trump refuses to shake Angela Merkel’s hands.ان دونوں شخصیتوں میں گہرے نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں انجیلا مرکل اقوام عالم کے درمیان تجارتی معاہدوں اور گلوبلزم پر یقین رکھتی ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان نظریات کی سخت مخالفت کر کے الیکشن جیتا تھا اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ ‘ انجیلا مرکل کو جرمنی کی ہلری کلنٹن کہتے رہے تھے سچ یہ بھی ہے کہ صدرٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر مرکل کا استقبال کرتے وقت ان سے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا تھا۔

مگر صحافیوں کے سامنے انکا رویہ مختلف تھا وائٹ ہاؤس جانے والے مہمانوں میں سب سے زیادہ ٹھکائی جنوبی کوریا کے صدر Moon Jai in کی ہوئی صدر ٹرمپ نے انہیں صحافیوں کے سامنے اپنی فالتو سٹیل اپنے پاس رکھنے اور امریکی کمپنیوں کو زیادہ کاروباری مواقع دینے کا حکم دیا اس پریس کانفرنس سے چند منٹ پہلے صدر مون پچیس ارب ڈالرکی امریکی قدرتی گیس خریدنے کا معاہدہ کر چکے تھے یکم جولائی کے امریکی اخبار نے اس نئے مہمان کے بارے میں لکھا ہے Like other foreign leaders he came armed with business deals بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اس مہمان کی تعریف میں چند جملے کہہ کر تلخی کو زائل کرنے کی کوشش کی مجموعی طور پر وائٹ ہاؤس جانیوالے ملاقاتیوں کی بیچارگی کو مرزا غالب کے اس شعر سے بہتر کسی بھی دوسرے طریقے سے بیان نہیں کیا جا سکتا

بوئے گل ’ نالۂ دل ’ دود چراغ محفل
جو تیری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

ان حالات و واقعات کے تناظر میں اگر نریندرا مودی کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روز گارڈن میں بھرپور اور جوشیلی جھپی کی تصویر پر نظر ڈالی جائے تو آدمی ہکا بھکا رہ جاتا ہے وہ مقام کہ جہاں اچھوں اچھوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے وہاں مودی صاحب فتح کے پھریرے لہراتے ہوے نظر آرہے ہیں آخر مودی کے پاس وہ کونسی گیڈر سنگھی یا پھر قدرے شائستہ لب و لہجے میں میجک ٹچ ہے کہ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی تمام باتیں بھی منوا لیں اور ایک عدد زور دار جھپی ڈال کر بھارتیوں کے دل بھی باغ باغ کر دئے یہ سوال کیوں کہ اہم تھا اسلئے ہم چھان بین پرکمر بستہ ہو گئے تھوڑے بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد پتہ چلا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس اچانک حملے کیلئے تیار نہ تھے ہوا یوں کہ مودی نے درجن بھر کیمرے لگے دیکھے تو موقع غنیمت جانا‘ ہاتھ پھیلا دئے اور لپک کر بغلگیر ہو گئے جسطرح برطانوی اخبار نویس اپنی بوڑھی وزیر اعظم کے ایک بوڑھے صدر کیساتھ مصافحے پر چیں بہ جبیں ہوئے تھے اسی طرح امریکی صحافیوں کو بھی یہ معانقہ خاصا ناگوار گذرا اخبار نے لکھا ہے Mr. Modi dispensed with the usual handshake and rather awkwardly hugged Mr Trumpیعنی مسٹر مودی مصافحہ کرنے کی بجائے بھونڈے طریقے سے مسٹر ٹرمپ کیساتھ بغلگیر ہو گئے مودی نے جنوری 2015 میں براک اوباما کو دلی میں اپنے ہاتھ کی بنی چائے پلاکر رام کر لیا تھا اسکے بعد اوبامانے مودی کو افغانستان میں ڈیرے ڈالنے اور پاکستان میں وسیع پیمانے پر پراکسی جنگ کی اجازت دے دی ایک عدد سویلین نیوکلیئر معاہدہ اسکے علاوہ تھابھارتیوں کو ویزے بھی دھڑا دھڑ ملنے لگے اور امریکہ کیساتھ کاروبار کے حجم میں بھی اضافہ ہو گیااب ڈونلڈ ٹرمپ نے ویزوں کی تعداد میں بھی کمی کر دی ہے اور ایشیا بحرلکاہل کے علاقے میں براک اوباما کے Trans Pacific Partnership معاہدے کو بھی منسوخ کر دیا ہے ۔

ان تمام باتوں کے باوجود مودی کا دورۂ امریکہ نہایت کامیاب رہا ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ ملاقات سے ایک دن پہلے امریکہ نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ انتہائی اقدام کشمیر کے حوالے سے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے ایک ایسے وقت میں جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور سفاکی عروج پر ہے امریکہ نے کشمیریوں کے مقبول حریت پسند رہنما کو دہشت گرد قرار دیکر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ نہیں سمجھتا اور نہ ہی وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے ٹرمپ مودی ملاقات سے پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس وسط جولائی میں افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا اعلان کرتے وقت پاکستان کی علاقائی اہمیت اورجنگ دہشت گردی میں اسکی پندرہ سالہ پرانی خدمات کے پیش نظر بھارت کے مقابلے میں اسکی دفاعی ضروریات کو نظر انداز نہیں کریں گے مگراب اس خوش گمانی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کیساتھ ملاقات سے پہلے ہی شمالی کوریا کے معاملے میں چین کے کردار سے مایوس ہو کر کئی ایسی چینی کاروباری کمپنیوں پر امریکہ کیساتھ تجارت پر پابندی لگا دی جو Pyonyang کیساتھ کاروبار کر رہی تھیں اس اقدام نے ایکطرف امریکہ چین تعلقات کے تناؤ میں اضافہ کر دیا اور دوسری طرف واشنگٹن نئی دہلی پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے امریکہ چین تعلقات میں اس بڑی تبدیلی نے مودی کے دورے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے بھارت کو بائیس سرویلنس ڈرون طیاروں کی فراہمی اور اسکے افغانستان میں پہلے سے بڑے فٹ پرنٹ کے معاملات امریکہ کی جنوبی ایشیا کی پالیسی میں مکمل تبدیلی کا اعلان ہے پاکستان کو اس نئی صورتحال میں طیش اور اشتعال میں آنے کی بجائے نہایت صبرو تحمل کیساتھ اگلے ساڑھے تین سال جوں توں کر کے گذارنے ہوں گے۔