بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہتھیاروں کی دور‘ حالات حاضرہ!

ہتھیاروں کی دور‘ حالات حاضرہ!

نریندر مودی کا دورہ اسرائیل کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہے اور اس تین روزہ دورے میں مودی فلسطینی قیادت سے ملاقاتیں نہیں کریں گے ‘اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پچیس سال قبل قائم ہونے والے بھارت‘ اسرائیل سفارتی روابط کی تاریخ کی روشنی میں کہا ہے کہ نریندر مودی کے اس دورے سے اسرائیل کی فوجی قوت میں اضافہ اور ملکی معیشت میں مضبوطی آئے گی جبکہ اسرائیل سفارتی سطح پر مستحکم ہوگا۔بھارت خطے میں اپنے روایتی حریفوں پاکستان اور چین سے لڑائی کے لئے سویت دور کے ہتھیاروں کو مزید بہتر بنانے کے لئے سینکڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے جبکہ اس عمل کو پورا کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لے کر اب تک بھارت عالمی طاقتوں کے ساتھ کئی بڑے دفاعی معاہدے کر چکا ہے۔ رواں برس اپریل میں اسرائیلی سرکاری کمپنی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کا کہنا تھا کہ بھارت کمپنی سے دو ارب ڈالرز کی جنگی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی خریدے گا۔ کمپنی کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہے جس کے مطابق بھارت کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا دفاعی نظام‘ لانچرز اور مواصلات کی ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسرائیلی کمپنی نے بھارتی نیوی کے ساتھ میزائل ڈیفنس سسٹم فراہم کرنے کیلئے تریسٹھ کروڑ ڈالر کے معاہدے کا بھی اعلان کیا تھا۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان پانی اور زرعی شعبوں میں تعاون کو بہتر بنانے کے لئے بھی معاہدے کئے جائیں گے۔

بھارت اسرائیل تعلقات کے پیچھے امریکہ ہے جو ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ سینیٹر جان مکین کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر آئے امریکی سینیٹروں کے وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے مابین سکیورٹی تعاون بہت ضروری ہے۔‘‘ لیکن اس وقت جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے حوالے سے پاکستان امریکہ تعلقات میں کشیدگی کا عنصر نمایاں ہورہا ہے اور مودی کی موجودگی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان سے بھارتی خواہشات کے مطابق کئے گئے تقاضوں سے پاکستان کا فرنٹ لائن اتحادی کا کردار بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ عین اس موقع پر سینیٹر جان مکین کی قیادت میں امریکی ری پبلکن سینیٹرز کا پاکستان آنا اور دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون برقرار رکھنے کا یقین دلانا پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے جو اس امر کی غماز ہے کہ افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے پاکستان کے تعاون کے بغیر امریکہ کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ سینیٹر جان مکین حکمراں جماعت ’’ری پبلکن‘‘ کی اہم شخصیت ہیں جو صدر کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور اس وقت وہ امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ہیں اس لئے اُن کی قیادت میں امریکی سینیٹروں کا وفد پاکستان بھجوانا درحقیقت پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کا مثبت پیغام ہے جبکہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد واشنگٹن کا سرکاری سطح پر پاکستان کے ساتھ یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے جس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی کے دورۂ امریکہ کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں جو خلیج پیدا ہوتی نظر آرہی ہے۔

‘ امریکہ اب اس کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔ بے شک ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کے لئے خیرخواہی کے جذبات کا اظہار کیا تھا تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے طرزعمل سے پاکستان کو سخت مایوسی ہوئی جس نے پاکستان کے روایتی دشمن بھارت کو اقتصادی‘ دفاعی تعاون کے متعدد معاہدوں کے ذریعے خوش کرکے واپس بھجوایا جبکہ مودی ہی نہیں‘ افغان صدر اشرف غنی اور کابل انتظامیہ کے دیگر ارکان بھی دہشت گردی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے اور ہذیانی کیفیت میں اس سے ڈومور کے تقاضے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنی قومی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا سوچنا فطری امر تھا (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: خورشید جمال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)