بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / سوش کی تبدیلی!

سوش کی تبدیلی!

ماضی کی طرح آج بھی فیصلہ سازی کے عمل پر ’رازداری‘ حاوی دکھائی دیتی ہے۔ خوش آئند ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اِداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے غیرروایتی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (موبائل فون اُور انٹرنیٹ)‘ سے استفادہ پر مبنی سوچ پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور سرکاری کالجوں میں ’آن لائن داخلے‘ متعارف کرانے کے بعد ’میٹرک اُور انٹرمیڈیٹ‘ کے اِمتحانی نتائج بذریعہ ’ایس ایم ایس‘ ہر اُمیدوار کے دیئے گئے موبائل نمبر ارسال کئے جائیں گے۔ تجرباتی طور پر پشاور کے امتحانی بورڈ نے اپنے طور پر یہ جدت اپنائی ہے لیکن چونکہ ایس ایم ایس اور آن لائن پیپرز چیکنگ و دیگر خدمات کی سہولیات فراہم کرنے پر زیادہ خرچ نہیں آتا اِس لئے صوبے کے دیگر تعلیمی بورڈ بھی ’دیکھا دیکھی‘ یہ نظام اپنا لیں گے۔ ماضی میں امتحانی نتیجہ دیکھنے پر فی طالب علم پچاس سے ایک سو روپے خرچ کرنا پڑتا تھا جبکہ اپنے نمبروں کی دوبارہ سے جانچ کا عمل کئی مراحل پر مشتمل تھا اور اِس مقصد کے لئے طلباء و طالبات کو کئی گھنٹوں تک لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ نئے نظام کی جانچ کرتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ موبائل نمبروں پر ایس ایم ایس پیغام بھیجا گیا ہے۔کیا یہ تبدیلی نہیں کہ سرکاری ادارے اپنی خدمات فراہم کرنے کا معیار اور مقدار بہتر بنانے کے ساتھ صارفین کی سہولت کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں لیکن صرف نمائش ہی کافی نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط‘ شفافیت اور خدمات کے عوض وصول کی جانے والی (مقررہ) فیسوں کے پیمانے پر بھی نظرثانی ہونی چاہئے۔ اِمتحانی بورڈ ہو یا سکول اور ہسپتال‘ سرکاری سرپرستی میں اِن اداروں کے قیام کا مقصد منافع کمانا نہیں اور نہ ہی ایسی بھاری فیسیں مقرر کرنی اور اُن میں غیراعلانیہ اضافہ کرنا ہے۔

صوبائی حکومت کو ’انٹری ٹیسٹ‘ کے لئے مقررہ فیسوں پر بھی نظرثانی کرنی چاہئے جو حد نہیں بلکہ انتہاء کی حد تک زیادہ (غیرحقیقی) ہیں۔ اگر ہمارے ہاں امتحانی بورڈز کی کارکردگی قابل بھروسہ ہوتی تو انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اور میرٹ کے لئے امتحانی بورڈ ہی کے نتائج کافی ہوتے۔ کیا تحریک انصاف کے فیصلہ ساز‘ صوبائی ماہرین تعلیم کے ساتھ اِس مسئلے پر بھی غور کرنے کی زحمت گوراہ کریں گے کہ امتحانی بورڈوں کی ساکھ‘ امتحانی نظام اور معیار کیسے بلند کیا جائے؟ ایک سے بڑھ کر ایک ’سنگ میل‘ عبور کرنے کا دعویٰ کرنے والی ’تحریک انصاف‘ سے قبل خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد کم وبیش ’تین ہزار‘ تھی اور یہ تعداد مالی سال دوہزارسترہ اٹھارہ کے اختتام تک ’نو ہزار‘ ہو جائے گی لیکن کیا ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ یقیناًڈاکٹروں کی کمی تھی اُور ’نو ہزار‘ ڈاکٹروں کے بعد بھی یہ کمی برقرار رہے گی کیونکہ آبادی کے تناسب اور آئے روز دہشت گردی سے نمٹنے والے خیبرپختونخوا کی حقیقی ضرورت کا ادراک نہیں کیا گیا۔ اِس مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے زمینی حقائق کا ادراک کیا جائے کہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کے پاس موبائل فون اور ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ سے استفادہ کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ کیا طالب علموں کو درسگاہوں میں ’آن لائن‘ وسائل سے استفادہ کرنا اور بالخصوص فارم بھرنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جاتا ہے؟

یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ 1: حکومتی ویب سائٹس ’ریسپانس (responsive)‘ ہونی چاہئیں تاکہ اگر کوئی صارف موبائل فون کے ذریعے اِس تک رسائی حاصل کرے تو یہ کم مقدار ڈیٹا ٹرانسفر کے ذریعے مطلوبہ معلومات حاصل کر لی جائیں۔ 2: گرافک ویب سائٹس بنانے کی بجائے ٹیکسٹ بیسڈ سائٹس بنائی جائیں کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ خیبرپختونخوا کے سبھی اضلاع میں تھری اور فور جی یا براڈبینڈ انٹرنیٹ کی سہولیات میسر ہوں۔ 3: پہلی مرتبہ کالجوں میں ’آن لائن ایڈمشنز‘ متعارف کرانا خوش آئند ہے لیکن کالجوں بالخصوص طالبات کے تعلیمی اداروں کو اِس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ نئے تعلیمی سال میں داخلوں کے لئے رابطہ کرنے والوں کی خاطرخواہ رہنمائی کریں اور کالجوں میں ’آن لائن‘ فارم بھرنے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ 4: انگریزی زبان کے علاوہ کم سے کم قومی زبان اُردو میں فارم بھرنے کا ہدایات نامہ ویب سائٹس کے علاؤہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی مشتہر ہونا چاہئے۔ 5: درسی کتب اور متعلقہ کتابیں ’ڈیجیٹل فارمیٹ‘ میں تیاری اور دور دراز علاقوں میں بذریعہ ’آئی پیڈز بمعہ سولر چارجرز‘ فراہمی پر بھی غور ہونا چاہئے جس پر عمل درآمد کرکے صوبہ پنجاب نے درس و تدریس کے عمل کو نئی جہتوں سے آشنا کیا ہے۔