بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / جان مکین کا اعتراف

جان مکین کا اعتراف

وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر افغانستان میں پائیدار امن کے لئے تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے‘ امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے وفد سے بات چیت میں وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ مضبوط شراکت دار ہیں دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار اور مستحکم شراکت داری ہی خطے کے لئے اہم ہے۔ نواز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ اس سب کے جواب میں امریکی سینٹر کا یہ کہنا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل قدر ہیں امریکی سینٹر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کے دورہ میں پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں وہ پاک افغان سرحدی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے کام اور نگرانی کے نظام سمیت اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات پر بریفنگ میں شرکت بھی کرتے ہیں اور یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ وزیرستان میں امن کے قیام کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف نے امریکی سینٹر سے ملاقات میں خطے کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات سے متعلق وژن کی وضاحت کردی ہے پاکستان کا اس سارے منظرنامے میں کردار بھی واضح اور شفاف ہے امریکی سینٹر پاک فوج کے کردار کے معترف بھی ہیں انہیں پاک افغان سرحد سے متعلق بریفنگ بھی دے دی گئی ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے پاکستان پر ہمیشہ نقصان دہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وہ بھی اس عزم کا اعادہ کررہے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لئے ہر ممکن تعاون پر تیار ہے ضرورت امریکی سینٹر کے اعتراف کے ساتھ اس بات کی ہے کہ امریکہ نہ صرف خود پاکستان کے اصولی موقف کو سپورٹ کرے بلکہ بھارت اور افغانستان کو بھی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی سے روکے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی اور دوسرے ذمہ داروں کو خود بھی حقائق کی روشنی میں پاکستانی موقف سمجھنا ہوگا۔

بنیادی شہری سہولیات؟

وطن عزیز کے دوسرے صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی بلدیاتی ادارے پوری طرح فعال ہیں تاہم شہری اب بھی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں‘ آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ کے مقابلے میں منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث ذمہ دار اداروں کو درپیش مشکلات بھی ایک حقیقت ہے تاہم فرائض سے غفلت کے رجحان کو بھی کسی مرحلے پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ موسم گرما کے آغاز سے اب تک پشاور اور اس کے قریب نئے آباد ہونیوالے علاقوں میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہے جبکہ صفائی اور سپرے کیلئے کوئی بڑی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ یہ مکھی مچھر بے شمار بیماریوں کا موجب بن رہے ہیں۔ ان مکھی مچھروں سے شفاخانے تک محفوظ نہیں کیا ہی بہتر ہو کہ یونین کونسلوں کی سطح پر سپرے کیلئے فوری اقدامات کیساتھ صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کیلئے کریش پروگرام ترتیب دے دیا جائے اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ لوگ تبدیلی کا احساس پائیں ایسے میں مون سون کی بارشوں سے قبل اقدامات نہایت ضروری ہیں۔