بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / چین اور روس نے امریکہ کو تنبیہ دیدی

چین اور روس نے امریکہ کو تنبیہ دیدی


ماسکو۔ چین اور روس نے اپنے مشترکہ طور پر امریکہ پر زور دیا ہے کہ جنوبی کوریا میں شمال مشرقی علاقے میں تھاڈ سسٹم کی تنصیب چین اور روس اسٹرٹیجک سیکورٹی کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے ،متعلقہ ممالک فوری طور پر ا س کو ختم کریں گے، چین اور روس کے سیکورٹی مفادات اور علاقائی اسٹرٹیجک توازن کا تحفظ کیا جاسکے، شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی سخت خلاف ورزی ہے ۔چائنہ ریڈیو اانٹرنیشنل کے مطابق چین اور روس کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں جزیرہ نما کوریا کے مسئلے پر مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس کہا گیا ہے شمالی کوریا نے اعلان کیا کہ اس نے بیلسٹک میزائل داغنے کا تجربہ کیا ہے جو چین اور روس دونوں کے خیال میں یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرارداد کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

فریقین نے اس حرکت کو قبول نہیں کر سکا اور اس بات پر زور دیا کہ شمالی کوریا سلامتی کونسل کے متعلقہ مطالبے کی سنجیدگی سے تعمیل کرے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ چین اور روس جزیرہ نما کوریا اور اس سے وابستہ علاقے کی صورتحال کی ترقی پر بڑی توجہ دیتے ہیں۔ فریقین کسی بھی بات اور حرکت جس سے کشیدگی اور اختلافات میں اضافہ ہو ،کی مخالفت کرتے ہیں۔چین اور روس نے اپیل کی کہ متعلقہ ممالک ضبط و تحمل سے کام لیں ۔اشتعال انگیریوں اور جارحانہ بیانات سے بچا جائے۔غیر مشروط بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا جائے اور کشیدہ صورتحال کو نرم بنانے کے لئے مشترکہ مثبت کوشش کی جائے۔چین اور روس نے تجویز پیش کی کہ شمالی کوریا رضاکارانہ سیاسی فیصلہ کرے کہ ایٹمی دھماکے اور میزائل تجربات نہیں کئے جائیں گے ۔

ساتھ ہی امریکہ اور جنوبی کوریا بڑے پیمانے کی فوجی مشق کو بھی ختم کریں۔دونوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شمال مشرقی علاقے میں تھاڈ سسٹم کی تنصیب چین اور روس سمیت متعلقہ ممالک کی اسٹرٹیجک سیکورٹی کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کے ہدف اور علاقائی امن و استحکام کے حصول کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔چین اور روس مذکورہ سسٹم کی تنصیب کی مخالفت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ متعلقہ ممالک فوری طور پر ا س کو ختم کریں گے اور ضروری اقدامات کریں گے تاکہ چین اور روس کے سیکورٹی مفادات اور علاقائی اسٹرٹیجک توازن کا تحفظ کیا جاسکے ۔