بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / پاکستان اور تاجکستان میں متعدد سمجھوتوں پر دستخط

پاکستان اور تاجکستان میں متعدد سمجھوتوں پر دستخط

دوشنبے۔پاکستان اور تاجکستان نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئے کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اس عزم کا اظہار بدھ کو دوشنبے میں وزیراعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدرا مام علی رحمانوف کے درمیان بات چیت کے دوران کیا گیا۔اس دوران پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط بھی ہوئے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سے معاونین کے بغیر ملاقات میں گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں وکشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھائی اور بھارتی فوج نے بارہا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاسا1000 منصوبہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم تاجکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے روشن امکانات موجود ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو پچاس کروڑ ڈالر سالانہ تک بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک اپنے اس ہدف کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سال 2015 میں دوشنبے میں تین تجارتی نمائشوں کا انعقاد کیا جبکہ رواں سال تاجکستان میں ایک کاروباری فورم کا اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ تاجکستان بھی پاکستان میں تجارتی میلوں کا اہتمام کرے۔وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری خطے میں روابط کو مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ ، شاہراہیں اور ریل نیٹ ورک سمیت پاکستان کا پورا بنیادی ڈھانچہ تاجکستان کے لئے حاضر ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے دفاعی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔نواز شریف نے تاجکستان کی مسلح افواج کے اہلکاروں کو تربیتی مواقعوں کی بھی پیشکش کی۔

اس سے پہلے وزیراعظم نوازشریف تاجکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پردوشنبے پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔تاجکستان کے وزیراعظم Kokhir Rasulzoda نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔باضابطہ خیرمقدمی تقریب قومی محل میں منعقد ہوئی جس میں صدرا مام علی رحمانوف نے وزیرعظم کو خوش آمدید کیا۔ تاجک مسلح افواج کے چاق وچوبند دستے نے وزیراعظم نواز شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا، وزیر اعظم نواز شریف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا ۔ تاجک صدر نے کابینہ کے اراکین سے ملاقات بھی کرائی ،وزیراعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدر ا مام علی رحمانوف کے درمیان بات چیت بعد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے حوالے سے مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ فریقین نے معیشت ، سرمایہ کاری ، تجارت ، کاروبار ، توانائی اور دفاعی پیداوار اور صنعت کے شعبوں میں تعاون میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ کاسا1000 اہم منصوبے پر کام خوش اسلوبی سے جاری ہے، نواز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کیساتھ بہترتعلقات چاہتا ہے، بدقسمتی سے ہماری مثبت کوششوں کابھارت نے مثبت جواب نہیں دیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے ایل اوسی، ورکنگ باونڈری پر کشیدگی بڑھائی، عالمی برادری مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پالیسیوں کومسترد کردے ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع ہیں، پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے میں رابطے بڑھیں گے۔وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان دوشنبے میں سفارتخانے میں جلد الگ کمرشل سیکشن آغاز کرے گا جس سے دوطرفہ تعلقات میں تیزی آئے گی جبکہ قریبی تعاون اوراعلی سطح پر تبادلوں کے تسلسل سے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس اس ماہ کے آخرمیں ہورہا ہے جو تجارت،سرمایہ کاری اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں مواقع تلاش کرے گا۔وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کیلئے تاجکستان کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم تاجکستان کے ساتھ تعلقات کو مختلف شعبوں میں وسعت دینا چاہتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع ہیں ۔ ۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا پاکستان اور تاجکستان دفاعی امور پر مل کر کام کر رہے ہیں جبکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں تاہم دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے پاکستان نے آپریشن ردالفساد، ضرب عضب کی کامیابی کیلئے قومی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج ملے۔ تاجک صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نواز شریف نے دونوں ملکوں کی 25 ویں سالگرہ پر مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا علاقائی اور عالمی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے پر یقین رکھتے ہیں،اس موقع پر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط بھی ہوئے۔دونوں ممالک خطہ میں امن، استحکام اور ترقی کیلئے یکساں سوچ رکھتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کا اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی ایک جیسا موقف ہے۔پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے تاجکستان کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات استوار کئے اور دوشنبے میں اپنا ریذیڈنٹ مشن کھولا۔تاجکستان کاسا 1000 کے رکن ممالک افغانستان، کرغزستان، پاکستان اور تاجکستان کے چار جہتی سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔