بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں سرپلس ڈاکٹر کی تعداد 1500

خیبر پختونخوا میں سرپلس ڈاکٹر کی تعداد 1500


اسلام آباد۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ فاٹا سیکرٹریٹ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہ ہونے کے برابر جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں سرپلس ڈاکٹر کی تعداد 1500 ہے ۔ سروس میں کوتاہی و غیر حاضری پر 200 ڈاکٹروں میں سے 196 کوفارغ کر دیا گیا اورایک یا دو غیر حاضری کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ کی کٹوتی کر کے8.6 ملین روپے قومی خزانے میں جمع کرایا گیا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سجاد حسین طور ی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

کمیٹی اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں ڈبل نوکری اور ڈیوٹی میں کوتاہی برتنے والے میڈیکل آفیسر اور ڈاکٹرز کے خلاف کی گئی انکوائریوں کے معاملات ، ادوایات تیا ر کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ڈریپ کی طرف سے کی گئی کارروائی اور خاص طور پر چوہدری انصر علی کی طر ف سے تحریری شکایت اور ادوایات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے متعلق قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لیا گیا ۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سجاد حسین طوری نے کہا کہ فاٹا سیکرٹریٹ میں ڈاکٹر نہ ہونے کے برابر ہیں عوام کو صحت کے مسائل درپیش ہیں اور جو ڈاکٹر فاٹا سیکرٹریٹ میں تعینات ہیں وہ ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے ۔اور ان کے خلاف متعدد انکوائریاں کی گئی ہیں مگر کوئی سخت ایکشن نہیں لیا گیا ۔ سینیٹر ہلال الرحمن نے کہا کہ فاٹا سیکرٹریٹ میں جو انکوائری ڈاکٹروں کے خلاف ہوتی ہے وہ صوبے میں جا کر غائب ہو جاتی ہے ۔ اگر ایکشن لیا جاتا تو فاٹا کی عوام کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جس پر سیکرٹری صحت خیبر پختونخواہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ اتھارٹیز نے 200 ڈاکٹروں کے خلاف غیر حاضریوں پر ایکشن لیا ہے جن میں سے196 کو فارغ کر دیا گیا اور غیر حاضری کی ہی بنا ء پر 24 ایڈہاک ڈاکٹروں کی نوکری ختم کی گئی ۔

دو سال پہلے آزاد مانیٹرنگ سسٹم لگایا تھا جس میں 1054 ڈاکٹر ایک یا دو دن غیر حاضر پائے گئے ان کی تنخواہ کی کٹوتی کر کے 8.6 ملین روپے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چار ڈاکٹروں کے خلاف انکوائری مکمل کر کے ایکشن لیا گیا ہے ۔پہلے نوٹس جاری کیا جاتا ہے پھر اخبار میں اشتہار دیئے جاتے ہیں نوکری سے فارغ کرنے کے عمل میں چھ سے آٹھ ماہ لگ جاتے ہیں ۔ 25 ڈاکٹر ڈبل تنخواہ لے رہے تھے ان کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ہے اور کئی کیسز ابھی زیر غو ر ہیں۔

سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ یہ نظام فاٹا میں بھی لگانا چاہیے 70 فیصد لوگ فاٹا میں جاتے ہی نہیں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے اور مراعات فراہم کی جائیں کہ سرکاری ملازمین فاٹا جانے پر اعتراض نہ کریں ۔ ہر چیز کا طریقہ کار بنایا جائے اور شارٹ کٹ طریقے اختیار نہ کیے جائیں ۔ ڈریکٹ لیبر قوانین کے تحت صحیح کام نہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو ایسٹا کوڈ میں بھی تبدیلی اور ضروری قانون سازی کی جائے ۔ جس پر وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اصلاحاتی کمیٹی ترتیب دی ہے جو معاملات کا جائزہ لے رہی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں عوام کو بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے مل کر اصلاحات لانی چاہیے ۔

سینیٹر ہلال الرحمن نے کہا کہ فاٹا میں میڈیکل آفیسر اور ڈاکٹر وں کے خلاف انکوائری کے اختیارت سیکرٹری صحت فاٹا کو دیئے جائیں اور ان کی انکوائری کو فائنل سمجھا جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صدارتی آرڈنینس کے تحت فاٹا کے افسران صوبہ خیبر پختونخوا ہ کے ملازم ہیں ۔ اور ڈیپوٹیشن پر فاٹا سیکرٹریٹ میں کام کر رہے ہیں ان کے خلاف نظم وضبط کی کارروائی نہیں کی جا سکتی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فاٹا میں ڈاکٹروں کو 75 ہزار تنخواہ دی جارہی ہے دیگر کوئی الاؤنسز نہیں ہیں جس پر کمیٹی نے ملک کے دیگر ڈاکٹروں کو دی جانے والے الاؤنسز فاٹا کے ڈاکٹروں کو دینے کی سفارش بھی کر دی ۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ فاٹا سیکرٹریٹ کو اختیارات دیئے جائیں اور قانون سازی کی بھی ضرورت پڑے تو قانون سازی کی جائے ۔

قائمہ کمیٹی کو پی ایم ڈی سی حکام نے بتایا کہ 49 میڈیکل کالجوں نے کمیٹی کی ہدایت کے مطابق عملدرآمد کی رپورٹ جمع نہیں کرائی اور شفاء ہسپتال نے بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا وزیر مملکت نے کہا کہ پی ایم ڈی سی میں بہت سے چیلنجز ہیں اور پرائیوٹ میڈیکل کالجوں کے خلاف جنگ جاری ہے اگلے دو ماہ میں بہتر صورتحال سامنے آئے گی اگر پرائیوٹ میڈیکل کالجز 50 فیصد بستروں پر مفت علاج نہیں دے سکتے تو30 فیصد ہی دے دیں مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایڈمیشن پالیسی اگلے دو ماہ تک تیار کر لی جائے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب اس سے اتفاق کر چکے ہیں ۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے کچھ حکام نے میڈیکل کالجز شروع کر رکھے ہیں اگر یہ ادارہ قوانین پر صحیح طرح عملدرآمد کرے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ سینیٹر غوث بخش نیازی نے کہا کہ جو ادارے صحیح تعاون نہیں کر رہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ چیئرمین و اراکین کمیٹی نے ڈریپ حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ پہلے چوہدری انصر علی نے انجیکشن میں مضرصحت ذرات بارے شکائت کی تھی مگر ابھی تک ان سے وہ انجیکشن لے کر ٹیسٹ نہیں کر وا یا گیا جس پر سی ای او ڈریپ نے کمیٹی کو بتایا کہ چوہدری انصر علی کی شکائیت پر متعلقہ میڈیکل سٹور و مارکیٹ سے بھاری مقدار میں و ہ انجیکشن لے کر رپورٹ تیار کی جارہی ہے ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میڈیس تیار کرنے والی کمپنیاں غیر معیار ی اور مضر صحت ادوایات سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں ڈریپ ان کے خلا ف اقدامات اٹھائے ۔ سٹنٹ کی پرائسنگ پالیسی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ پرائسنگ پیرا میٹر دنیا میں کہیں بھی ریگولیٹ نہیں ہیں دو ماہ پہلے انڈیا میں یہ سسٹم متعارف کرایا گیا تھا جس کی بدولت مارکیٹ سے معیاری سٹنٹ غائب ہوگئے ۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت صحت نے اسٹیک ہولڈرز سے ساتھ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کافی میٹنگز کی ہیں اور ایک طریقہ کار مرتب کیا ہے ۔

سٹنٹ پر قیمت درج ہوگی اخباروں میں اس حوالے سے اشتہار بھی دیا ہے ۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ہر چیز کا ایک معیار ہوتا ہے سٹنٹ کے معیار کو متعلقہ ادارے چیک کریں ۔ جس پر سیکرٹری وزارت صحت نے کہا کہ اس وقت 14 معیار کے سٹنٹ استعمال ہو رہے ہیں دستاویزات دیکھ کر ان کو چیک کیا جاتا ہے ۔ نیسکام اور نسٹ اس حوالے سے ایک پراجیکٹ بھی بنا رہے ہیں ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کہا کہ صبح مارکنگ شو میں فنکار عوام کو ہربل ٹپس دے رہے ہوتے ہیں نہ وہ ڈاکٹر ہیں نہ کوئی سریٹفکیٹ حاصل کر رکھا ہے۔

فنکار اور ماڈلز ڈاکٹر بن کر عوام کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ ان کی ٹپس مضرصحت بھی ہو سکتی ہے پیمرا اور متعلقہ ادارے اس کا سخت نوٹس لیں ۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز حمزہ ، نسیمہ احسان ، عائشہ رضا فاروق ، نعما ن وزیر خٹک، کلثوم پروین ، میاں محمد عتیق شیخ ، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی ، خالدہ پروین ، ہلال الرحمن اور وزیر مملکت صحت کے علاوہ سیکرٹری وزارت صحت ، سیکرٹری صحت خیبرپختونخواہ ، سیکرٹری سوشل ویلفیئر فاٹا سیکرٹریٹ ،سی ای او ڈریپ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔