بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / تاجکستان سے پاکستان کیلئے 1300میگاواٹ بجلی منصوبہ

تاجکستان سے پاکستان کیلئے 1300میگاواٹ بجلی منصوبہ

دوشنبے ۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ کاسا 1000 منصوبہ پاکستان اور افغانستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس سے تاجکستان کو ریونیو حاصل ہوگا ٗمنصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے ، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے ٗ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی ٗمنصوبے کی تکمیل سے پاکستان اور افغانستان کو تاجکستان اور کرغزستان سے موسم گرما میں بالترتیب ایک ہزار میگاواٹ اور 300میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔

وزیرا عظم محمد نواز شریف کے علاوہ تاجک صدر امام علی رحمانوف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم سوران بے جین بیکوف نے کاسا 1000 چہار فریقی اجلاس میں شرکت کی۔ چار ملکی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کاسا 1000 پاور پراجیکٹ کو خطے کے لئے ایک اہم منصوبہ قراردیا اوراس پر جلد عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے ، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے کاسا 1000 اجلاس کی میزبانی اور شاندار مہمان نوازی پر تاجکستان کے صدر کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ یہ ہمارے خطے میں ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو وسطی ایشیاء میں تاجکستان ، کرغزستان اور جنوبی ایشیاء میں افغانستان اور پاکستان کو بجلی کے گرڈ کے ذریعے آپس میں ملائیگا ٗ اس کی تکمیل سے پاکستان اور افغانستان کو تاجکستان اور کرغزستان سے موسم گرما میں بالترتیب ایک ہزار میگاواٹ اور 300میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ رکن ممالک کے لئے اقتصادی ، سماجی اور ماحولیاتی فوائد لائے گا اور توانائی کی قلت دور کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، تجارت میں بہتری آئے گی اورصاف ستھری توانائی کی فراہمی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج میں کمی واقع ہو گی۔

اس سے علاقائی ہم آہنگی میں بھی مدد ملے گی۔ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گاکہ یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یہ منصوبہ مجوزہ سنٹرل ایشیاء ساؤتھ ایشیاء ریجنل الیکٹریسٹی مارکیٹ کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ یہ توانائی کی کمی کا شکار جنوبی ایشیاء اوروافر توانائی کے حامل وسطی ایشیاء کے درمیان تعاون کے فروغ کی عمدہ مثال ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ کاسا 1000منصوبے سے نہ صرف کرغزستان اور تاجکستان کو محصولات حاصل ہو گے بلکہ پاکستان اور افغانستان میں بجلی کی قلت میں بھی کمی واقع ہو گی اور ترقی کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔

یہ وسیع تر کاروباری اور سرمایہ کاری مواقع پیدا کرتے ہوئے افغانستان کے لئے بھی ریونیو کا ذریعہ ہو گا۔ انہوں نے اس امر پر مسر ت کااظہار کیا کہ 16مارچ 2017ء کو دوشنبے میں پاک تاجک مشترکہ ورکنگ گروپ برائے توانائی و بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنیکل کمیٹی کادوسرا اجلاس منعقد ہوا ۔ وزیر اعظم نے بتایاکہ مجھے بتایاگیاہے کہ کرغزستان سے تاجکستان اور تاجکستان سے افغانستان تک ٹرانسمیشن لائنوں کے لئے ٹینڈرز پیش کر دیئے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جارہاہے ۔ مجھے امید ہے کہ ٹرانسمشین لائنوں پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے منصوبے پر جلد عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی اور اپنے صنعتی شعبے کو پوری صلاحیت سے چلانے کے لئے توانائی درکار ہے ۔ اس سے روز گار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی عوام کا معیار زندگی بھی بلند کرنے میں مدد ملے گی۔