بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اٹارنی جنرل اشتر اوصاف پاکستانی ٹیم کے قائد

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف پاکستانی ٹیم کے قائد

سلام آباد۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا پر عالمی عدالت انصاف(آئی سی جے)میں زیرسماعت بھارتی کیس میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کریں گے۔وزارت خارجہ امور کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دی ہیگ میں آئی سی جے رجسٹرار کو آگاہ کیا گیا کہ اشتر اوصاف کیس میں پاکستان کے ایجنٹ کا کردار ادا کریں گے جبکہ خارجہ امور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل شریک ایجنٹ کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ ‘ایجنٹ’ کی اصطلاح کا استعمال ایسے اعلی حکومتی عہدے دار کے لیے ہوتا ہے جو پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وفد کی سربراہی کرے اور آئی سی جے میں قانونی ٹیم سے قبل دلائل اور فریم ورک پیش کرے۔اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور آئی سی جے میں معلومات کا تبادلہ اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے ہی ہوگا۔بین الاقوامی عدالت انصاف کے صدر رونی ابراہم اور پاکستان و بھارت کے وفود کی 8 جون کو نیدرلینڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد اشتر اوصاف نے آئی سی جے کو کلبھوشن یادیو کیس کی سماعتوں سمیت کیس کی کارروائی کے لیے ایڈ ہاک جج کی تعیناتی کے ارادے سے آگاہ کیا۔یاد رہے کہ 18 مئی کو آئی سی جے نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف ہندوستان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔

3 مارچ 2016کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013میں خفیہ ایجنسی ‘را’ میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔جس کے بعد 10اپریل کو پاکستان کی جاسوسی اور کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنادی گئی تھی۔کلبھوشن یادیو کا ٹرائل فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952کے سیکشن 59 اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923کے سیکشن 3کے تحت کیا تھا، جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کردی تھی۔

واضح رہے کہ ملٹری کورٹ آف اپیل کی جانب سے کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل کو پہلے ہی مسترد کیا جاچکا ہے جس کے بعد بھارتی جاسوس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی، آرمی چیف سے کی جانے والی اپیل ابھی زیرِ غور ہے۔دوسری جانب اٹارنی جنرل کا دفتر کیس کی دستاویزات کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کی تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہے۔خیال رہے کہ دفتر خارجہ بھی آئی سی جے کو مطلع کر چکا ہے کہ حکومت عالمی عدالت کے 18 مئی کو سنائے گئے عبوری حکم پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کرچکی ہے۔