بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا ا ستعمال ٗ تحقیقات کی جائیں ٗ نفیس زکریا

کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا ا ستعمال ٗ تحقیقات کی جائیں ٗ نفیس زکریا


اسلام آباد ۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے عالمی برادری اور متعلقہ عالمی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا‘ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کشمیری نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں‘ بھارت کشمیری عوام کو قتل کرنے کے لئے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے‘ آیت اﷲ خامنائی کے کشمیر کے حوالے سے بیان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

ساری امت مسلمہ کو مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے ‘حقانی نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں ہے‘ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا تھا‘ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں‘ افغانستان میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر مت عائد کی جائے‘ بھارت کو ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی پر شدید تشویش ہے‘ پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی سے غافل نہیں ہے‘ پاکستان میں دہشت گردوں کی منظم شدہ موجودگی نہیں ہے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معصوم کشمیری عوام کے مسلسل قتل عام کی مسلسل مذمت کرتے ہیں۔

بھارتی قابض افواج نے پندرہ کشمیریوں کے بے رحمی سے قتل کیا اور دو سو پچاس کو زخمی کیا۔ تقریباً دو درجن کے قریب نوجوانوں کی آنکھوں اور اہم اعضاء کو پیلٹ گن کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ مبینہ طور پر بھارتی افواج کشمیری عوام کو قتل کرنے کے لئے کیمیکل ہتھیاروں کو استعمال کررہی ہے اور لوگوں کی پراپرٹی کو تباہ کررہی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی جلی ہوئی لاشیں ملیں۔ نوجوانوں کی لاشیں اتنی زیادہ جلائی گئیں کہ ان کی شناخت بھی نہیں ہوسکی۔

کفایت احمد کی لاش کی شناخت ہوسکی ہے۔ بھارت کی جانب سے اگر کیمیکل ہتھیاروں کی تصدیق ہوئی تو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ یہ کیمیکل ویپن کنونشن کی خلاف ورز ہوگی۔ عالمی براری اور متعلقہ عالمی تنظیمیں ان واقعات اور رپورٹوں کی تحقیقات کرائیں۔ حریت قیادت کو نظر بند کیا گیا ہے اور ان کو نماز عید اور نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے۔ کشمیری قائدین وار ان کے رشتہ داروں کو ہ راساں کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ امریکی سینیٹرز کا دورہ پاکستان مثبت رہا جس میں تعمیری اور دوستانہ انداز میں مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر مت ڈالی جائے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور آپریشن کیا اور پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کردیئے گئے اور ان کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا۔

پاکستان میں دہشت گردوں کی منظم موجودگی نہیں ہے پاکستان سے دہشت گرد افغانستان فرار ہوئے اور وہاں پر جا کر محفوظ ٹھکانے بنالئے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان‘ داعش اور حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے موجود ہیں۔ حقانی نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے کارروائیاں کررہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے کئی رہنما افغانستان میں مارے گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پاکستان کو شدید تشویش ہے یہ خطے میں امن اور استحکام کے خلاف ہ ے۔ پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے غافل نہیں ہے اس حوالے سے پاکستان عالمی برادری کو اپنے خدشات سے آگاہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آیت اﷲ خامنائی کے بیان کو خوش آمدید کہتے ہیں امت مسلمہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے اور او آئی سی بھی اس حوالے سے قراردادیں پاس کرچکی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل عام بند کرے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے۔ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے غلط دعوے اس کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دینا بلا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کہا کہ اس کی کشمیر پر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہ خوش آئند ہے۔ امریکی سینیٹرز کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے گفتگو ہوئی پاکستان کا افغانستان میں مصالحت کے حوالے سے موقف واضح ہے پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ بھارت افغانستان میں امن اور استحکام نہیں چاہتا اور افغانستان کے مسئلہ کا ذمہ دار ہے۔

امریکی سینیٹرز نے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے چار ملکی رابطہ گروپ کے حوالے سے کسی قسم کی پیش رفت سے آگاہ نہیں ہوئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ آپریشن کے حوالے سے علم نہیں ہے۔