بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / بھارت بروقت اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے ٗ چین

بھارت بروقت اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے ٗ چین

بیجنگ ۔ چین نے بھارت پرزور دیا ہے کہ وہ اپنے اس سرحدی فوج کا فوری انخلاء عمل میں لائے جو سرحد پار کر کے چینی علاقے میں داخل ہوئی ہے اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے ، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ بھارتی فوجی اس وقت چینی علاقے میں ہیں اور معاملہ ابھی تک تصفیہ طلب ہے ۔ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سرحدی تنازعات حل کرنے اور دوطرفہ مراسم کے فروغ میں خلوص نیت کا مظاہرہ کرے اور چین بھارت تعلقات کی معمول کی تحقیق کیلئے حالات پیدا کرے ۔

ترجمان نے کہا کہ چین ۔بھارت سرحد کے سکم حصے کا 1819ء میں سکم اور تبت سے متعلق عظیم برطانیہ اور چین کے درمیان کنونشن میں وضاحت کی جا چکی ہے ، اس کے بعد بھارتی حکومتوں نے حد بند کا اعتراف کیا ۔ترجمان نے بھارتی سرحدی در اندازی کی وضاحت کیلئے 12فروری 1960ء کو چینی وزارت خارجہ کو چین میں بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پیش کئے جانیوالے ایک نوٹ کابھی حوالہ دیا ، بھارتی سفارتخانے کے نوٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے یہ کہتے ہوئے اس چینی نوٹ کی تاریخ کا خیرمقدم کیا جس میں سرحد کی حد بندی کی وضاحت کی گئی ہے، سکم اور بھوٹان بھارت کے ایک طرح کی ملکیت ہیں جبکہ تبت دوسری جانب واقع ہے۔

بھارتی سفارتخانے کے نوٹ میں ایک چینی نوٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکم اور تبت کے درمیان سرحد کی باضابطہ طورپر وضاحت کی جا چکی ہے اور پریکٹس کے علاوہ نقشہ سازی میں کوئی خلاف تنازعہ نہیں ہے ۔بھارتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت یہ اضافہ کرنے پر آمادہ ہے کہ سرحد کی زمین پر نشاندہی کی جا چکی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدام نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اورمقاصد کی خلاف ورزی کی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی اقدار کو روندا گیا ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ غیر قانونی طورپر دوسرے ملک کے علاقے میں در اندازی کر کے بھارت نے ان بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے جو اس میں خود قائم کئے تھے ۔ترجمان نے کہا کہ اگر بھارت بروقت طورپر اپنے غلطیوں کی اصلاح نہیں کرتا تو پھر وہ کس طرح اپنے ہمسائیہ ممالک کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اور بین الاقومی امور میں کوئی وسیع تر کردار ادا کر سکتا ہے۔