بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکمرانی کا گرتا معیار

حکمرانی کا گرتا معیار


حکومت سندھ نے حال ہی میں دو ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ جو اس کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کے مترادف ہیں اس نے اگر ایک طرف انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے کئی انتظامی اختیارات اس سے لے لئے ہیں تو دوسری جانب عملاً نیب کے ادارے کو سندھ میں مفلوج کرکے رکھ دیا ہے چوری اور سینہ زوری کا مظاہرہ ان دواقدامات سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا گڈ گورننس کیسے ہوسکتی ہے اگر آپ پولیس میں ڈسپلن ختم کردینگے جب کسی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او یا کسی سب ڈویژن کے ڈی ایس پی کو یہ پتہ چل جائے کہ اس کے صوبے کا آئی جی پولیس اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا کیونکہ ان کے پیچھے صوبے کا وزیر اعلیٰ کھڑا ہوا ہے تو پھر اس صوبے کا امن عامہ خاک بہتر ہوگا؟ سندھ حکومت نے سندھ میں نیب کے ادارے کو بھی عملاً ختم کردیا ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری نیب کی جگہ نئی قانون سازی سے اس نے صوبائی سطح پر اپنی علیحدہ اینٹی کرپشن کا قانون وضع کرلیا ہے تاکہ ڈاکٹر عاصم حسین اور ان جیسے کئی اور مبینہ طور پر کرپشن کے بادشاہوں کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے تجربہ یہ بتاتا ہے کہ دولت کا ارتکاز گناہوں کے کئی دروازے کھول دیتا ہے سقراط سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا ماضی میں کبھی ایسے ادوار گذرے ہیں کہ جب معاشروں سے اخلاقیات کا جنازہ نکلا ہو سقراط نے کہا جی ہاں بالکل جب شہروں کی آبادیاں حد سے زیادہ بڑھ جائیں جب تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوجائے تو اس صورت میں لوگ دینے سے بے بہرہ ہونے لگتے ہیں جب اس قسم کے حالات پھیل جائیں تو نجی گھروں میں بھی طواف الملوکی گھس آتی ہے مرد وزن آزاد منش ہوجاتے ہیں۔

بڑھے لوگوں کی ذہنی سطح اور جوانوں کی ذہنی سطح کا معیار ایک ساہو جاتا ہے جب سقراط سے پوچھا گیاکہ ان حالات کے پیدا ہونے کے بعد پھر کیا ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ جب ہرشے اپنی حد سے تجاوز کرجائے تو پھر مخالف سمت سے بھی اتنا ہی شدید ردعمل آتا ہے آزادی افراد کی ہو یا ریاستوں کی اگر وہ حد سے تجاوز کرجائے تو پھر وہ غلامی کا روپ دھار لیتی ہے اور یاد رکھیئے کہ بدترین قسم کی آمریت حد درجہ آزادی سے ہی جنم لیتی ہے تاریخ نے سقراط کی ان باتوں کو کئی بار درست ثابت کیا ہے امید ہے کہ آج کل معاشرے میں جو حد درجہ برائی پھیلی ہوئی ہے اسکی کوکھ سے اچھائی پیدا ہوگی کون جانے کل کلاں تیسری جنگ عظیم برپا ہوجائے اور ہمارے شہر ملیا میٹ ہوجائیں اور جو لوگ اس سانحہ سے بچ جائیں وہ دوبارہ اپنے پرانے پیشے زراعت کی طرف مائل ہوجائیں سائنس کا دور ختم ہوجائے اور اخلاقیات کا چلن پھر سے عام ہوجائے اور بڑے بوڑھوں اور والدین کی اتھارٹی ایک مرتبہ پھر قائم ہوجائے آج ہمارے معاشرے کو اس قسم کی ایجوکیشن اور تربیت کی ضرورت ہے کہ جو لوگوں کو روزگار فراہم کرسکے طلباء کو فلسفے اور تاریخ کی باریکیوں سے آشنا کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح ان کو انسان شناسی ‘اناٹمی اور عضویاتی علوم میں بھی بنیادی تربیت فراہم کرنیکی سخت ضرورت ہے ان اقدامات سے جرائم میں خاطر خواہ حد تک کمی آسکتی ہے۔