بریکنگ نیوز
Home / کالم / مطالعۂ پاکستان1977ء کے بعد

مطالعۂ پاکستان1977ء کے بعد

پاکستان کی سیاسی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ چالیس سال پہلے ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک میں تیسرا اور سب سے طویل مارشل لاء نافذ کیا۔ اگلی دہائی کے دوران انہوں نے پاکستان کو سیکولر اور جمہوری ریاست بنانے کے قائد اعظم کے خواب کو چھوڑ کر ملک کو مکمل طور پر ایک مذہبی ریاست میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ان کے کاموں کے اثرات تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور مستقبل میں دور دور تک اس کا کوئی متبادل سیاسی ڈھانچہ نظر نہیں بھی آ رہا۔ جمہوریت گریز اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے ایوب حکومت نے ’جمہوری نظریات‘ اور ’مذہبی نعروں والے گروہ‘ دونوں کو کچلنے کی کوشش کی۔ جمہوری خیالات والوں کو ایبڈو قوانین کے تحت سیاسی اکھاڑے سے باہر نکال دیا گیا۔ ایبڈو کے تحت اگر سیاستدان سات برس تک سیاست کا حصہ نہ بننے کا وعدہ نہیں کریں گے تو ان کیخلاف ’نامناسب رویے‘ پر قانونی چارہ جوئی کی جائیگی دوسری جانب مساجد کو محکمہ اوقاف کے حوالے کرکے ’مذہبی نعرے مارنے والے‘ گروپ کو اپنے قابو میں کر لیا گیا۔ مزید یہ کہ‘ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے ساتھ تنظیم کو ایک پروپیگنڈا مہم کا نشانہ بنایا جب حکومت 1962ء میں اپنا پہلا دستور پیش کیا تو اس میں ریاست کے نام سے اسلامی خارج کر دیا گیا لیکن ایوب حکومت مذہبی جماعتوں کے قومی سیاست میں پیر مضبوط کرنے کی ذمہ دار تھی جب تقریباً تمام سیاستدان گم نامیوں کا شکار بن گئے تب مساجد ہی وہ واحد پلیٹ فارم تھیں جہاں سے کسی قسم کی تحریک پیدا ہو سکتی تھی 1965ء کے صدارتی انتخابات میں اپنے امیدوار اتارنے کیلئے حزب اختلاف نے اپنے سر جوڑے‘ تو ان جماعتوں کے اتحاد میں جتنی مذہبی جماعتیں تھیں ۔

اتنی ہی نیم سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں اور انہوں نے فاطمہ جناح کی حمایت میں مہم کا حصہ بن کر عوامی مقبولیت حاصل کی تھی ایوب مخالف تحریک سیکولر‘ جمہوری تحریک تھی اور اسی لئے یحیٰی خان نے ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول کو تسلیم کر کے اور ون یونٹ کو ختم کر کے لوگوں کی سیاسی محرومیوں کو دور کرنے پر پورا دھیان مرکوز کیا ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی رات ایک نیا دستور جاری کرنے کی کوشش سے پہلے تک انہوں نے مذہبی لابی کو لبھانے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا لیکن ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس دستوری مسودے کی حمایت سے نہ تو یحییٰ کو کوئی فائدہ ہوا‘ نہ ہی انہیں خود کوئی فائدہ پہنچا۔ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں سے ان جماعتوں نے زبردست فائدہ اٹھایا۔ 1973ء کے آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات میں توسیع کی گئی۔ فروری 1974ء میں بھٹو نے عرب قوم پرستی کی فوج کا مقابلہ اسلامی قوم پرستی سے کرنے کی شاہ فیصل کی کوششوں کا ساتھ دیا اور اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا لیکن یہ تمام اقدامات ان کیلئے مددگار ثابت نہ ہوئے۔

آج پاکستان کی جو صورت ہے وہ ضیاء کی مرہون منت ہے اور اس سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا اور اس کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں ہیں پہلی بات‘ آئین اور قانون میں ضیاء کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہو پایا سیکولر عناصر بہت پہلے ہی مذہبی شخصیات‘ بالخصوص مدرسہ حکام کے زیر اثر گروہوں کے ہاتھوں سڑکوں پر شکست کھا چکے۔ ضیاء کی پاکستان کے ڈھانچے کے ساتھ کی گئی گڑبڑ میں مداخلت کرنے کی مشکلات کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ آئین کی شق 270اے سے ان کا نام اپریل 2010ء مطلب ان کی موت کے بائیس سال اور پانچ انتخابات کے بعد مٹایا گیا تھا دوسرا یہ کہ قومی منظرنامے پر سخت قدامت پسند عناصر غالب ہیں جو اکثرباتوں پر کسی قسم کی بحث نہیں چاہتے اور جو ان کے خیالات کو چیلنج کرتا ہے وہ ملک میں رہنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا مزید یہ کہ مرکزی‘ بائیں بازو کی جماعتوں کی طاقت کے مراکز سے بے دخلی کی وجہ سے نام نہاد مرکزی دھارے کی جماعتیں قدامت پسند نظریات کے ہاتھوں یرغمال بن گئیں۔ ضیاء کے تسلسل کے ظلم و ستم کے اندھیرے سائے ریاست اور لوگوں پر اس وقت تک منڈلاتے رہیں گے جب تک عام شہریوں کو اس بات کا احساس نہیں ہو جاتا کہ اس تسلسل نے ماسوائے مصیبتوں کے اور کچھ نہیں دیا۔ لیکن ایک دن ضرور آئے گا جب یہ تاریک بادل چھٹ جائینگے اور ہر طرف اجالا ہی اجالا ہوگا۔
(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: آئی اے رحمان۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)